اچھی صحت کے لیے کیا کھائیں، کتنا کھائیں ؟
خواتین اور نوجوان لڑکیوں کی صحت کا براہِ راست تعلق ان کی روزمرہ خوراک سے ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر خوراک کا انتخاب ذائقے، سہولت یا خاندانی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے جبکہ جسم کی اصل ضرورت یعنی متوازن غذائیت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
خاص طور پر نوجوان لڑکیوں کے لیے متوازن غذا اس لیے بھی اہم ہے کہ ان کے جسم میں نشوونما، ہارمونز اور ہڈیوں کی مضبوطی کے حوالے سے اہم تبدیلیاں جاری ہوتی ہیں۔ بالغ خواتین کے لیے بھی مناسب خوراک توانائی برقرار رکھنے، خون کی کمی سے بچنے، وزن کو متوازن رکھنے اور مستقبل میں مختلف بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ صحت مند خوراک کا مطلب یہ نہیں کہ پسندیدہ کھانے بالکل چھوڑ دیے جائیں یا ہر وقت سخت ڈائٹ کی جائے۔ اصل اصول یہ ہے کہ خوراک میں مختلف غذائی اجزا مناسب مقدار میں شامل ہوں اور کھانے کی مقدار عمر، جسمانی سرگرمی اور جسم کی ضرورت کے مطابق ہو۔
متوازن پلیٹ کو خوراک کا اصول بنائیں
صحت مند کھانے کی پلیٹ میں سبزیوں اور پھلوں کو مناسب جگہ دینی چاہیے۔ کوشش کی جائے کہ روزانہ مختلف رنگوں کی سبزیاں اور موسمی پھل استعمال کیے جائیں۔ پالک، میتھی، گاجر، شلجم، بھنڈی، لوکی، توری، پھول گوبھی، بند گوبھی اور دیگر مقامی سبزیاں بہترین انتخاب ہیں۔پروٹین بھی روزانہ کی خوراک کا اہم حصہ ہے۔ انڈہ، دالیں، چنے، لوبیا، مچھلی، مرغی اور مناسب مقدار میں گوشت پروٹین فراہم کرتے ہیں۔ نوجوان لڑکیوں کو خاص طور پر پروٹین کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ جسم کی نشوونما اور پٹھوں کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ کاربوہائیڈریٹس سے مکمل پرہیز بھی مناسب نہیں۔ روٹی، چاول اور دیگر اناج جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں لیکن مقدار اور انتخاب اہم ہیں۔ جہاں ممکن ہو سفید آٹے کے بجائے زیادہ فائبر والے چکی کے آٹے کو ترجیح دیں۔ اسی طرح تلی ہوئی چیزوں کے بجائے ابلی، پکی ہوئی یا کم تیل میں تیار کی گئی غذا بہتر انتخاب ہے۔
آئرن، کیلشیم اور دیگر غذائی اجزا
ہمارے ملک میں خواتین میں آئرن کی کمی ایک اہم غذائی مسئلہ ہے؛چنانچہ خوراک میں گوشت، دالیں، چنے، لوبیا، پالک اور دیگر سبز پتوں والی سبزیاں شامل کرنا ضروری ہے۔ وٹامن سی والی غذائیں مثلاً کنو، امرود ‘ ٹماٹر آئرن کے جذب کرنے میں مدد کر تی ہیں۔کیلشیم بھی نہایت اہم ہے کیونکہ ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے اس کی مناسب مقدار ضروری ہے۔ دودھ، پنیر اور دیگر کیلشیم والی غذائیں خوراک میں شامل کرنی چاہئیں۔ اگر کوئی خاتون دودھ یا کسی مخصوص غذا کا استعمال نہیں کرتی تو کیلشیم کے دیگر غذائی ذرائع کا انتخاب ماہر غذائیت یا ڈاکٹر کے مشورے سے کیا جا سکتا ہے۔وٹامن ڈی بھی ہڈیوں کی صحت کے لیے اہم ہے۔ مناسب دھوپ، متوازن غذا اور ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر کے مشورے سے سپلیمنٹ اس حوالے سے مددگار ہو سکتا ہے۔
کتنا کھائیں ، کن چیزوں سے احتیاط کریں؟
صحت مند خوراک کا ایک اہم اصول مقدار میں اعتدال ہے۔ صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ کھانا صحت مند ہے؛ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اسے کتنی مقدار میں کھایا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر خشک میوہ جات، چاول، روٹی اور صحت مند تیل بھی زیادہ مقدار میں اضافی کیلوریز فراہم کرتے ہیں۔خواتین اور نوجوان لڑکیوں کو میٹھے مشروبات، سافٹ ڈرنکس، بہت زیادہ چینی والی چائے، بیکری کی اشیا، بسکٹ، کیک، پیکٹ والے نمکو، فاسٹ فوڈ اور بہت زیادہ تلی ہوئی اشیا کے استعمال کو محدود کرنا چاہیے۔ نمک کی مقدار بھی مناسب رکھنی چاہیے۔وزن کم کرنے کے لیے کھانا چھوڑ دینا یا بہت کم کیلوریز لینا مناسب طریقہ نہیں۔ نوجوان لڑکیوں میں خاص طور پر سخت ڈائٹنگ جسم کی نشوونما اور غذائی ضروریات کو متاثر کر سکتی ہے۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ متوازن غذا کے ساتھ جسمانی سرگرمی کو معمول کا حصہ بنایا جائے۔ روزانہ مناسب پانی پینا بھی ضروری ہے۔ پانی کو ترجیح دیں اور میٹھے مشروبات کو روزمرہ کی عادت بنانے سے گریز کریں۔
آسان اور عملی حکمت عملی
صحت مند خوراک کے لیے مہنگی یا غیرملکی غذاؤں کی ضرورت نہیں۔ ہماری روایتی پاکستانی خوراک میں ہی بہت سے بہترین انتخاب موجود ہیں۔ ناشتے میں انڈہ، چکی کے آٹے یا بران کی روٹی اور کم چینی والی چائے مناسب ہے۔ دوپہر میں دال، سبزی، چکن یا مچھلی کے ساتھ روٹی اور سلاد ایک متوازن کھانا ہے۔کھانے کے ساتھ روزانہ جسمانی ورزش بھی ضروری ہے۔ تیز قدموں سے چلنا، سائیکل چلانایا کوئی پسندیدہ کھیل جسمانی اور ذہنی صحت دونوں کے لیے مفید ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments