قائداعظم کی نصیحت
ببلو گھر کا لاڈلا اور سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے ضدی بھی تھا اور شرارتی بھی۔اس نے اپنی شرارتوں کی وجہ سے صرف گھر والوں کے ناک میں دم نہیں کر رکھا تھا بلکہ سکول میں کلاس فیلوز اور محلے کے سب لڑکے اس سے تنگ تھے۔
سکول جاتا تو کلاس فیلوز کی کاپیاں چھپا دیتا ،کسی کی پنسل دوسرے دوست کے بیگ میں ڈال کر اسے شرمندہ کرواتا۔کلاس میں نوید تو خصوصی طور پر اس کا نشانہ بنا رہتا۔نوید گاؤں سے آنے والا بچہ تھا وہ شہر کے بچوں کی نسبت شرمیلا ،کم گو اور اپنے کام سے کام رکھنے والا بچہ تھا۔ایک دن نوید صبح کی اسمبلی سے کلاس میں دیر سے آیا تو ببلو نے شرارت کرتے ہوئے اس کے ہوم ورک کی کاپی کو اختر کے بیگ میں چھپا دیا۔ٹیچر نے جب سب کا ہوم ورک چیک کیا تو نوید کی کاپی بیگ میں نہیں تھی۔ ہوم ورک کاپی نہ ہونے کی وجہ سے استاد نے نوید کی سرزنش کی۔نوید نے بتایا: سر میں گھر سے اپنی کاپی لے کر آیا تھا مگر معلوم نہیں کاپی کہاں گئی ۔ٹیچر کے کہنے پر جب بچوں کے بیگ چیک کیے گئے تو وہ کاپی اختر کے بیگ سے مل گئی۔ٹیچر نے اختر کے پوری کلاس کے سامنے کان پکڑوا دیے۔
ببلو محلے میں بچوں کے ساتھ کھیلتا تو چیٹنگ کرتا ۔جس سے محلے کے بچے بھی اس سے کترانے لگے تھے۔ ببلو لاڈلا ہونے کی وجہ سے گھر میں بھی دنگا فساد اورمن مانی کرتا۔دیر سے سونا اور دیر سے جاگنا اس کا معمول بن گیا تھا۔ صبح اس کے والدین نماز کیلئے اسے جگاتے تو وہ نہ اٹھتا۔ سکول جانے کیلئے بھی اکثر دیر کر دیتا۔اپنا ہوم ورک بھی مکمل نہ کیا کرتا۔
اس کے ابا نے اسے ایک دن سمجھایا: دیکھو بیٹا اگر تم ایسے ہی کرتے رہے تو اکیلے رہ جاؤ گے ،تمہارا کوئی دوست نہیں بنے گا۔ ابا کی بات پر ببلو خاموش ہوگیا اور سوچ میں گم ہوگیا اسے احساس ہونے لگا کہ اب کوئی بھی اس کے ساتھ کھیلنے کو تیار نہیں ہے۔سب اسے دور دور رہتے ہیں۔ اس کا جگری دوست اکبر بھی اب اس سے نہیں بولتا۔
ببلو کے دل میں اپنے آپ کو بدلنے کی خواہش جنم لینے گی۔اس کا دل بوجھل رہنے لگ گیا۔وہ سوچتا کہ اپنے آپ کو کیسے بدلے اور وہ اچھا انسان بن جائے۔ایک رات ببلو نے ایک خواب دیکھا کہ وہ اپنے کلاس روم میں موجود ہے۔کلاس لگی ہوئی ہے۔اچانک ٹیچر نے ساری کلاس کو کہا کہ سب کھڑے ہوکر معززو محترم شخصیت کا استقبال کریں۔ہمارے قائد اعظم محمد علی جناح صاحب تشریف لائے ہیں۔
اسی دوران ایک باوقار شخصیت سیاہ شیروانی میں ملبوس جناح کیپ سر پر رکھے کلاس میں داخل ہوئی۔ اس شخصیت کے چہرے پرکمال کا وقار تھا، آنکھوں میں شفقت تھی، آواز میں بلا کا اثر تھا۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا کہ مجھے آپ بچوں سے ایک وعدہ لینا ہے۔ آپ میری بات پر عمل کریں گے؟اس پر سب بچوں نے یہ زبان ہوکر کہا : یس سر۔انہوں نے بچوں سے کہا : جو بچے اپنی شرارتوں سے دوسرے دوستوں کی زندگی میں مشکل پیدا کرتے ہیں وہ بچے اچھے انسان نہیں بنتے، وہ کامیابیوں سے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ قومیں صرف زمین سے نہیں بنتیں اپنے کردار سے بنتی ہیں۔اگر تم سچ بولنا ،نظم و ضبط اختیار کرنا اور دوسروں کا احترام کرنا سیکھ لو تو تم ایک اچھے انسان اور پاکستانی بن سکتے ہو ۔
ببلو کی آنکھوں میں شرمندگی کے آنسو بہنا شروع ہوگئے۔ قائد اعظم نے پوچھا: بیٹا آپ کیوں رو رہے ہو؟ببلو نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا کہ میری شرارتوں سے سے سب تنگ رہتے ہیں۔ گھر والے پریشان رہتے ہیں میں اچھا بننا چاہتا ہوں، میں کیا کروں ؟
قائد اعظم نے فرمایا :بہت سادہ سی بات ہے بیٹا،ایمان ،اتحاد اور تنظیم پہ عمل کریں۔ایمان کا مطلب سچائی ہے۔اتحاد کا مطلب دوسروں کے ساتھ مل کر رہنا ان کی مدد کرنا، ایک دوسرے کے کام آنا، تنظیم کا مطلب ہے ایک ترتیب سے رہنا یعنی اپنی عادتوں کو درست رکھنا۔
انہوں نے ببلو کو اپنے پاس بلایا اور سر پہ شفقت بھرا ہاتھ رکھ کر کہا : شرارت چھوڑ کر خدمت اپناؤ۔اس سے تم بھی خوش رہو گے اور دوسروں کو بھی خوش رکھو گے سب تمہارے دوست بن جائیں گے اور اس طرح تم اچھے انسان کہلاؤگے۔
اچانک ببلو کو اس کے والد نے فجر کی نماز کیلئے جگادیا۔فجر کی اذان ہورہی تھی۔ببلو کا دل پر سکون تھا۔ببلو نے فجر کی نماز مسجد میں ادا کی۔ وہاں پر اس نے اپنے محلے کے دوستوں سے عہد کیا کہ وہ آج کے بعد کسی کو تنگ نہیں کرے گا۔ اس نے اپنے ابا کو بتایا کہ اسے خواب میں قائد اعظم نے نصیحت کی ہے اور اچھا انسان بننے کا راستہ بھی بتایا ہے۔ اب وہ اس پر عمل کرے گا ۔اس دن ببلو نے کلاس میں نوید اور اختر سے بھی معافی مانگی،اس نے سب سے وعدہ کیا کہ وہ سچ بولے گا۔نظم وضبط اپنائے گا اور آج سے کسی کو تنگ نہیں کرے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments