غرور کا انجام

تحریر : دانیال حسن چغتائی


شاداب نگر کے خوبصورت اور بڑے سے بنگلے میں سفینہ نامی چھوٹی لڑکی رہتی تھی۔ سفینہ دیکھنے میں تو پھول کی طرح پیاری تھی مگر اس کے مزاج میں حد سے زیادہ غرور تھا۔

 وہ اپنے نئے کپڑوں، چمکتی ہوئی جیولری اور مہنگے کھلونوں پر اترایا کرتی تھی۔ وہ ہمیشہ اپنی سہیلیوں کے سامنے چیزوں کی قیمتیں بتا کر انہیں احساسِ کمتری میں مبتلا کرتی۔

جب بھی اس کی غریب سہیلیاں سادہ کپڑوں میں اس سے ملنے آتیں، سفینہ ان کا دل دکھانے سے نہ چوکتی۔ وہ منہ بنا کر کہتی، تمہارے کپڑے تو بازار کے سستے سٹال سے لیے گئے لگتے ہیں! دیکھو میرا لباس کتنا قیمتی ہے! 

کبھی وہ کسی کے چھوٹے گھر کا مذاق اڑاتی تو کبھی سستی گڑیا کو گھٹیا کہہ کر دور پھینک دیتی۔ اس کے امی ابو اسے پیار سے بھی سمجھاتے اور ڈانٹتے بھی کہ بیٹا! اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر اترانا اچھی بات نہیں، مگر سفینہ ایک کان سے سنتی اور دوسرے سے نکال دیتی۔

ایک دن سفینہ کی مخلص سہیلی لائبہ اس سے ملنے آئی۔ لائبہ نے بالکل سادہ سا سوٹ پہن رکھا تھا۔ سفینہ نے جیسے ہی لائبہ کو دیکھا، اس کا کھلونا سائیڈ پر رکھا اور زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ بولی،لائبہ! تمہارے کپڑے کس قدر بدنما ہیں! کیا تمہارے پاس کوئی اچھا لباس نہیں ہے؟

لائبہ کا دل بھر آیا، اس کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے، مگر اس نے ضبط کرتے ہوئے نرمی سے کہا،سفینہ! اللہ کی بنائی یا دی ہوئی کسی چیز کو برا نہیں کہنا چاہیے۔ اہم چیز انسان کا دل ہوتا ہے، کپڑے نہیں۔

اتنی سی بات پر سفینہ کا پارہ چڑھ گیا۔ وہ غصے سے چیخنے لگی اور لائبہ سے الجھ پڑی۔ شور سن کر سفینہ کی امی جلدی سے کمرے میں آئیں۔ انہوں نے جب سفینہ کو لائبہ سے بدتمیزی کرتے دیکھا تو اسے سخت ڈانٹ پلائی۔ سفینہ روٹھ گئی اور پیر پٹختی ہوئی گھر کی کھلی چھت پر چلی گئی۔

وہ چھت کی منڈیر پر کھڑی غصے میں سوچ ہی رہی تھی کہ اچانک نیچے صحن اور باورچی خانے کی طرف سے گہرا کالا دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ کچھ ہی دیر میں سرخ اور نارنجی لپٹیں باورچی خانے کی کھڑکی سے باہر نکلنے لگیں۔ آگ بہت تیزی سے پھیل رہی تھی! سفینہ شدید خوفزدہ ہو گئی، اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور وہ رو رو کر اپنی امی کو پکارنے لگی،امی! امی! نیچے آگ لگ گئی ہے۔

ہمسائیوں نے چھت سے دھواں اور سفینہ کی چیخیں سنیں تو فوراً اپنی چھت پر آئے اور سفینہ کو محفوظ طریقے سے اپنی چھت پر اتار لیا۔ گلی کے تمام محلے والے بالٹیاں بھر بھر کر پانی لانے لگے اور آگ پر ڈالنے لگے۔ فائر بریگیڈ کی گاڑی بھی سائرن بجاتی ہوئی پہنچ گئی۔ اتنے میں سفینہ کے ابو بھی بھاگتے ہوئے آ گئے اور گھر کی حالت دیکھ کر گھبرا گئے۔

سفینہ روتے ہوئے اپنے ابو سے لپٹ گئی اور بولی، ابو! امی کو بچائیں، وہ اندر باورچی خانے میں تھیں!

سب لوگ تشویش میں مبتلا ہی تھے کہ اچانک سامنے والی گلی سے سفینہ کی امی اطمینان سے پیدل آتی ہوئی دکھائی دیں۔ سفینہ اپنی امی کو زندہ اور سلامت دیکھ کر دوڑتی ہوئی گئی اور ان سے لپٹ گئی۔

ابو نے حیرت اور پریشانی سے پوچھا، یہ سب کیسے ہوا؟ تم اندر نہیں تھیں؟

امی نے ٹھنڈی آہ بھر کر بتایا،میں لائبہ کو اس کے گھر تک چھوڑنے چلی گئی تھی کیونکہ وہ بہت اداس ہو گئی تھی۔ جلد بازی میں مجھ سے باورچی خانے میں گیس کھلی رہ گئی ، جس سے یہ حادثہ ہوا۔

کچھ ہی دیر میں آگ پر قابو پا لیا گیا، لیکن جب سب گھر کے اندر داخل ہوئے تو سفینہ کا دل بیٹھ گیا۔ باورچی خانہ اور اس کا پیارا کمرہ جل کر راکھ کا ڈھیر بن چکے تھے۔ اس کے تمام مہنگے کھلونے پگھل چکے تھے اور قیمتی کپڑے کوئلہ بن چکے تھے۔

سفینہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ آج اسے شدت سے احساس ہوا کہ جن چیزوں پر وہ غرور کرتی تھی، وہ چند منٹوں میں راکھ کا ڈھیر بن گئیں۔ اسے اپنی سہیلی کے ساتھ کیا گیا برا سلوک یاد آ گیا۔ اس نے روتے ہوئے لائبہ اور اپنی امی سے معافی مانگی اور اللہ سے سچے دل سے توبہ کی کہ وہ آئندہ کبھی کسی کا دل نہیں دکھائے گی اور نہ ہی اپنے سامان کا غرور کرے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

حُسنِ ظن … پاکیزہ دل اور مضبوط معاشرے کی بنیاد

’’اے ایمان والو، بہت زیادہ گمان سے بچو، کیونکہ بعض گمان گناہ ہیں، اور ایک دوسرے کے عیب مت ٹٹولو، اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو‘‘(الحجرات:12) ’’ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے ذلیل کرتا ہے اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے‘‘ (صحیح مسلم) ’’جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بغیر کسی گناہ کے تکلیف پہنچاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھایا‘‘ (الاحزاب:58)’’جو شخص کسی مسلمان کا عیب چھپائے، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کا عیب چھپائے گا‘‘ (صحیح مسلم)

طہارت و پاکیزگی کا حکم

’’ بیشک اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک و صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے‘‘ (البقرہ) ’’ اگر میری اُمت پر شاق نہ گزرتا تو میں مسواک کو ضروری قرار دے دیتا‘‘(صحیح مسلم :589)

یتیم کی کفالت، اجرِ عظیم کا ذریعہ

’’اور یتیموں کو اُن کا مال دے دو، اور اچھے مال کو خراب سے تبدیل نہ کرو، اور اُن (یتیموں) کا مال اپنے مال کے ساتھ ملاکر مت کھاؤ! بے شک یہ بڑا گناہ ہے‘‘ (سورۃ النساء:02)ایک آدمی نے حضور ﷺ سے اپنے دل کی سختی کی شکایت کی تو آپﷺ نے فرمایا ’’یتیم کے سرپر ہاتھ پھیرا کرو اور مسکین کو کھانا کھلایا کرو‘‘ (مسند احمد)

مسائل اور ان کا حل

عورت کا بچے کے کان میں اذان دینا سوال:بچے کی پیدائش پرعورت بچے کے کان میں اذان دے سکتی ہے؟(کمال، راولپنڈی) جواب:جی ہاں دے سکتی ہے،تاہم اذان میں آواز اتنی بلندنہ کرے کہ کوئی غیرمحرم سنے۔

نئے انتظامی یونٹس اور 28 ویں آئینی ترمیم

پاکستان میں اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی کی بحث اب سنجیدہ رُخ اختیار کر چکی ہے۔ نئے صوبوں کے قیام پر ایک کے بعد ایک قومی مباحثہ ہو رہا ہے جس میں سیاستدان، سول سوسائٹی ، قانون دان اور گورننس کے ماہرین حصہ لے رہے ہیں اور اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش ،کتنی سنجیدہ؟

وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کا تعلق دہشت گردی کے خلاف سیاسی یکجہتی اور ہم آہنگی سے ہے ۔