حقوقِ پڑوسی کی ادائیگی، ایمان کا تقاضا
’’اللہ کی قسم! وہ ایمان والا نہیں، جس کا ہمسایہ اس کے شر سے محفوظ نہیں‘‘ (صحیح بخاری) مدد کرنا، قرض دینا،خوشی میں شریک ہونا، رنج و غم میں تسلی دینا، بیماری میں عیادت کرناپڑوسی کے حقوق ہیں
اسلام حسین و خوشگوار ماحول اور الفت بھرے معاشرے کو نہ صرف یہ کہ پسند کرتا ہے بلکہ اس کی تعلیم و تاکید بھی کرتا ہے۔ ہر شخص کیلئے معاشرے کا پہلا فرد اس کا پڑوسی ہے۔ انسان کا اپنے والدین، اپنی اولاد اور قریبی رشتہ داروں کے علاوہ سب سے زیادہ واسطہ اپنے پڑوسی سے پڑتا ہے۔ انسان اور اس کی معاشرت کی بنیاد باہمی اشتراک اورتعلق داری پرقائم ہے۔ اگر ایک بھوکا ہے تو دوسرے کا حق ہے کہ اپنے کھانے میں اسے بھی شریک کرے۔ اگر ایک بیمار ہے تو دوسرا اس کی عیادت و تیمارداری کرے۔ اگر ایک کسی آفت و مصیبت کا شکار ہو اور کسی رنج و غم میں مبتلا ہو تو دوسرا اس کا شریک ِغم بنے اور اس کے رنج وغم کو ہلکا کرنے میں اس کامعاون بنے۔ اسلام نے پڑوسی کے حسب ذیل حقوق بیان کیے گئے ہیں۔
محتاج پڑوسی کی مدد کرنا
پڑوسی کا پہلا حق یہ ہے اگروہ ضرورت مندہوتواپنی بساط کے مطابق اس کی ضرورت کو پورا کیا جائے۔ نبی کریم ﷺکا فرمان ہے ’’کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جبکہ اس کا پڑوسی بھوکا ہو‘‘(الادب المفرد:112)۔ گویا ایک پڑوسی کی ذمہ داری ہے کہ وہ دوسرے پڑوسی کے حالات سے باخبر ہو۔ اگر اس کے پاس کھانے پکانے کا سامان نہ ہو تو مہیا کرے۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا انسانی فریضوں میں سے ایک ہے اوربھوکے پڑوسی کو کھانا کھلانا سنت یا مستحب نہیں بلکہ فرض اور واجب ہے۔
قرض مانگنے پرقرض دینا
پڑوسی کا دوسرا حق یہ ہے کہ اگرپڑوسی کبھی قرض مانگے تو اسے قرض دیاجائے۔ مثلاً اگر کھانے پینے سے عاجز آچکا ہوتو اس صورت میں قرض دینا فرض اور واجب ہے۔ اگرکسی ضرورت کیلئے مانگ رہا ہو تو قرض دینا حسن سلوک کے تقاضوں میں سے ایک ہے۔ آج کل کسی کو قرض دے کر واپس لینا مشکل ہی ہو گیا ہے۔ اس لیے اگر کوئی قرض مانگے تو صرف اتنا ہی دینا کہ اگر واپسی نہ ہو تو کوئی صدمہ نہ ہو۔
خوشی میں شریک ہونا
پڑوسی کا تیسراحق یہ ہے کہ اگر پڑوسی کے یہاں کوئی خوشی ہو تودوسرا پڑوسی اس میں شریک ہو۔مثلاً اولاد ہوئی یا اچھی ملازمت ملی یا کاروبار میں ترقی ہوئی تو جا کر اسے مبارکباد دیں۔یہ مبارک بادمحض رسماًنہ ہوبلکہ اتباع سنت، ثواب اور نیکی کے جذبے سے سرشار ہو کردینی چاہیے۔
رنج وغم میں تسلی دینا
پڑوسی کا چوتھا حق یہ ہے کہ تکلیف پہنچنے پر اسے تسلی دو۔ اگر اس کی تکلیف کو دور کرنا ممکن ہے تو دور کر دو اور اگر ممکن نہیں تو تسلی دو، مثلاً کوئی فوت ہو جائے تو اسے تسلی دے کر ہمدردی کا اظہار کرو۔
بیمارکی عیادت کرنا
پڑوسی کا پانچواں حق یہ ہے کہ اگر وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرو۔عیادت کرنا باعث ثواب ہے، حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کی عیادت کیلئے جاتا ہے تو گھر سے نکلنے سے لے کر واپسی تک پورے عرصے جنت کے باغ میں رہتا ہے(صحیح مسلم: 2568)۔ یہ اجروثواب اس وقت ملے گا جبکہ عیادت پورے آداب اور طریقے سے کی جائے، یعنی جس کی عیادت کرنے جا رہے ہیں اسے کوئی تکلیف یا پریشانی نہ ہو۔ مریض کا حال معلوم کریںتو اسے تسلی کے الفاظ کہیں اور جلد واپس آجائیں، زیادہ دیر تک نہ بیٹھیں۔
جنازہ میں شرکت
پڑوسی کا چھٹا حق یہ ہے کہ اگر پڑوسی کا انتقال ہو جائے تو اس کے جنازے میں شرکت کرنی چاہیے ، جس سے جنازے میں شرکت کا ثواب بھی ملتا ہے اور پڑوسیوں سے غمخواری پر اجر بھی ملتا ہے۔گویاپڑوسی کے چھ حقوق زیادہ اہمیت کے حامل ہیں مثلاًمحتاج کی حاجت پوری کرنا، قرض دینا،خوشی میں شرکت کرنا،غم میں تسلی دینا، عیادت کرنااورانتقال کی صورت میں جنازہ میں شرکت کرنا۔ لیکن پڑوسی کے حقوق صرف یہی نہیں ہیں بلکہ جہاں تک ہو سکے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنا،اگرپڑوسی کاکوئی عیب معلوم ہو جائے تواس کی پردہ پوشی کی جائے۔
غریب پڑوسی کی مددکرنا
دوسروں کی مدد کرنے،ان کے ساتھ تعاون کرنے، ان کیلئے روزمرہ کی ضرورت کی اشیاء فراہم کرنے کو دین اسلام نے کار ثواب اور اپنے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کاذریعہ بتایاہے۔ اللہ تعالیٰ نے امیروں کو اپنے مال میں سے غریبوں کو دینے کا حکم دیا ہے ، صاحب استطاعت پر واجب ہے کہ وہ مستحقین کی ممکن حدتک مددکرے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’نیکی صرف یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (اللہ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے، اور اللہ کی محبت میں (اپنا) مال قرابت داروں پر اور یتیموں پر اور محتاجوں پر اور مسافروں پر اور مانگنے والوں پر اور (غلاموں کی) گردنوں (کو آزاد کرانے) میں خرچ کرے، اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور جب کوئی وعدہ کریں تو اپنا وعدہ پورا کرنے والے ہوں، اور سختی (تنگدستی) میں اور مصیبت (بیماری) میں اور جنگ کی شدّت (جہاد) کے وقت صبر کرنے والے ہوں، یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں‘‘ (البقرہ: 177)
قرآن مجیدمیں ایک اورمقام پہ ارشاد ربانی ہے: ’’(لوگ) آپ (ﷺ) سے پوچھتے ہیں کہ (اللہ کی راہ میں) کیا خرچ کریں، فرما دیں: جس قدر بھی مال خرچ کرو (درست ہے)، مگر اس کے حق دار تمہارے ماں باپ ہیں اور قریبی رشتہ دار ہیں اور یتیم ہیں اور محتاج ہیں اور مسافر ہیں، اور جو نیکی بھی تم کرتے ہو بیشک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے‘‘ (البقرہ: 215)۔
ماحول کوصاف ستھرارکھنا
اسلام نے ایک طرف انسان کو روحانی پاکیزگی عطا کی، ان کے اخلاق کو سنوارا اور تہذیب سے آشنا کیا، وہیں اس نے معاشرے کو صحت کی حفاظت کے اصول سکھائے اور انسانوں کو رہن سہن، اٹھنے بیٹھنے اور طہارت و پاکیزگی کا طریقہ بھی سکھایا۔ فطری طور پر انسان صفائی ستھرائی، طہارت و پاکیزگی اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے صاف ستھرا رہنے والے افراد سے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے۔ ارشادباری تعالیٰ ہے: بیشک اللہ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے اور خوب پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے‘‘ (البقرہ:222)۔
اسلام نے صفائی ستھرائی کو عقیدہ اور ایمان کے بندھن سے جوڑ دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایمان کی ستّر(یا ساٹھ) سے زائد شاخیں ہیں، جن میں سے سب سے افضل لا الہ الا اللہ کہنا ہے اور سب سے کمتر راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے‘‘(صحیح مسلم: 35)۔ ایک دوسری حدیث میں ہے : ابومالک اشعری روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: طہارت آدھا ایمان ہے‘‘(صحیح مسلم: 223) ۔
اسلام نے سڑکوں، راستوں، گلیوں اور محلوں کو بھی پاک و صاف رکھنے کا حکم دیا ہے اور ان میں گندگی پھیلانے سے منع کیا ہے۔رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے : لعنت کا سبب بننے والے کاموں سے بچو، لوگوں نے پوچھا : وہ کیا ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ جو لوگوں کے راستے اور ان کے سایہ دار جگہوں میں قضائے حاجت کرتا ہے‘‘ (صحیح مسلم: 269) ۔
اہل پڑوس سے حسن سلوک
عموماً کسی کو تکلیف دو چیزوں سے پہنچائی جاتی ہے، ان میں ایک زبان اور دوسری چیز ہاتھ ہے۔ لہٰذا ان دونوں کا صحیح استعمال کرنا چاہئے اور اس کے صحیح استعمال کا سب سے زیادہ حقدار آپ کاپڑوسی ہے۔ اس لیے کہ پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی بڑی تاکید آئی ہے۔ حضرت ابو شریح خزاعیؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: جوشخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہئے کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرے، جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ مہمان کی عزت وتکریم کرے اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہئے کہ اچھے اندازسے گفتگوکرے یا پھر خاموش رہے۔(صحیح مسلم:165)
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ! فلاں عورت دن کو روزہ رکھتی ہے، رات کو قیام کرتی اوراپنے ہمسائے کوتکلیف دیتی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا:یہ آگ میں ہے۔صحابہ کرامؓ نے عرض کیا:یارسول اللہﷺ! ایک دوسری عورت فرض نمازپڑھتی ہے اورپنیرکے کچھ ٹکڑے صدقہ کرتی ہے اور اپنے پڑوسی کو تکلیف نہیں دیتی تو آپﷺ نے فرمایا: یہ جنت میں ہے‘‘ (مسند احمد: 9673)
ہمسایہ کواپنی ایذارسانی
سے محفوظ رکھنا
حضورﷺ نے ہمسائے کے حقوق کی ادائیگی کو ایمان کا حصہ قرار دیا۔ حضرت ابو شریح ؓ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ کی قسم !وہ ایمان والا نہیں ،اللہ کی قسم! وہ ایمان والا نہیں،اللہ کی قسم! وہ ایمان والا نہیں، عرض کیا گیا: یا رسول اللہﷺ کون؟ فرمایا :کہ جس کا ہمسایہ اس کی تکلیفوں(اورشرارتوں) سے محفوظ نہیں (صحیح بخاری: 5670)۔دوسری حدیث میں ہے،نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کی شرارتوں سے اس کاہمسایہ محفوظ نہ ہو‘‘ (صحیح بخاری: 6016)۔ حضرت عقبہ بن عامرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:قیامت کے دن سب سے پہلے جن دوآدمیوں کاجھگڑاپیش ہوگا،وہ دوپڑوسی ہوں گے (مسند احمد: 17372)
مومن کا مصدر ایمان امن سے ماخوذ ہے، جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہو، وہ فسادی اور شر پسند نہیں ہوسکتا ہے، اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مومن اپنے پڑوسی کو تکلیف نہیں دیتا، اس پر ظلم نہیں کرتا، اس پر بہتان نہیں لگاتا، اس کی عزت و آبرو پر حملہ نہیں کرتا بلکہ وہ امن وسلامتی کا پیکر ہوتا ہے، نہ صرف یہ کہ مومن پڑوسی اس کے شرارتوں اور دست درازی سے محفوظ رہتے ہیں بلکہ غیر مسلم ہمسائے بھی اس کی شرافت، امانت اور اخلاق پر اعتماد کرتے ہیں۔ جو شخص اپنی شرارتوں سے پڑوسی کو پریشان کرتا رہتا ہو اور اپنی فتنہ انگیزی سے اس کا چین چھین لیتا ہو ،وہ مذکورہ احادیث مبارکہ کی روشنی میں مومن نہیں ہے۔
پڑوسی سے اختلاف رائے ہونے کی صورت میں طنز یہ جملے کہنا، آوازیں کسنا، لڑائی جھگڑا کرنا، گالی گلوچ کرنااور ہاتھا پائی تک نوبت لے آنا ، ہمسائے کی زمین پرقبضہ کر لینا، ناجائزپارکنگ کرنا، اپنے عہدے یا حیثیت کا ناجائزاستعمال کرنا وغیرہ بھی ایذا رسانی کی صورتیں ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments