ملازمین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم

تحریر : مولانا قاری محمد سلمان عثمانی


’’ اے لوگو! نماز کا خیال رکھنا اور اپنے غلاموں کا خیال رکھنا ‘‘(ابن ماجہ) ’’تم ان غلاموں کو وہیں سے کھلائو جو تم خود کھاتے ہو اور وہیں سے پہنا ئو جوتم خود پہنتے ہو‘‘(صحیح مسلم)

ملازم بھی اس سماج کا حصہ ہے جو اپنی روزی روٹی کیلئے دن رات مشقت کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے۔ یہ بھی انسان ہیں ،اشرف المخلوقات ہیں۔ملازمین سے حسن سلوک و باہمی محبت کا رشہ قائم ہو نا ضروری ہے کیونکہ یہ فیکٹری دوکان ،یا کاروبار کو چلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انسان جب اپنے ہم مرتبہ لوگوں سے بات چیت کرتا ہے تو اخلاقی قدروں کو ملحوظ خاطر رکھتا ہے اور جب اپنے ماتحت لوگوں سے معاملہ کرتا ہے تو ان کو اپنے سے کمتر سمجھتا ہے اور اس کی عزت و نفس کا بھی خیال نہیں رکھتا۔ نبی کریمﷺ نے اپنے ماتحت لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا ہے 

حضرت ابو مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے غلام سے کسی بات پر ناراض ہو گیا اور اسے درے سے مارنے لگا۔ اتنے میں میرے پیچھے سے آواز آئی ’’ اے ابو مسعود، جان لو!‘‘ مگر میں شدید غصے کی وجہ سے آواز پہچان نہ سکا۔ جب آواز دینے والا میرے قریب آ گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ رسول کریمﷺ ہیں اور آپﷺ فرما رہے تھے: ’’اے ابو مسعود! جان لو، تمھیں اس غلام پر جتنا قابو حاصل ہے،  اس سے زیادہ قابو اللہ تعالیٰ کو تمھارے اوپر حاصل ہے‘‘۔یہ سن کر میرے ہاتھ سے کوڑا گر گیا اور میں نے کہا کہ میں کبھی اس غلام کو نہیں ماروں گا، میں اس غلام کو اللہ کیلئے آزاد کر تا ہوں‘‘۔ یہ سن کرنبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’ہاں اگر تم ایسا نہ کرتے تو تمھیں آگ چھو لیتی‘‘۔ (جامع الاصول)

 حضرت عبد اللہ ؓفرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضورﷺ سے پوچھا، ہم ملازم کو ایک دن میں کتنی بار معاف کر دیا کریں؟ آپﷺ خاموش رہے۔ اس نے دوسری مرتبہ پوچھا، آپﷺ خامو ش رہے۔ اس نے پھر یہی سوال پوچھا تو آپﷺنے فرمایا اسے ہر روز ستر مرتبہ معاف کر دیا کرو (ابو دائو د)۔ حضور نبی کریمﷺ نے غلاموں کے متعلق ارشاد فرمایا، وہ تمھارے بھائی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے ماتحت کر دیا ہے تو جس کے ماتحت اس کا بھائی ہو اسے چاہیے کہ جو خود کھاتا ہے اسے بھی وہ ہی کھلائے، جو خود پہنتا ہے اس کو بھی پہنائے اور اس سے اس کی طاقت سے زیادہ کوئی کام نہ کروائے۔ اگر اسے کوئی ایسا کام کہہ دے تو خود بھی اس کی مدد کرے۔ 

حضورﷺ نے نماز کے ساتھ ماتحت لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین فرمائی۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جس وقت آپﷺ کا وصال ہوا تو آپﷺ آخری دم تک یہی فرما رہے تھے، اے لوگو! نماز کا خیال رکھنا اور اپنے غلاموں کا خیال رکھنا (ابن ماجہ)۔

نبی کریم ﷺ نے خادموں اور غلاموں کے طبقے کو جو اس وقت بالکل حقیر اورکمتر سمجھا جاتا تھا، ان کے مقام کو بلند کر کے آپﷺ نے بھائیوں کے درجے تک پہنچایا۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد گرامی ہے: تمہارے خدمت گزار تمہارے بھائی ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے ہاتھوں (قبضہ) میں دے دیا ہے، اس لیے جس کا بھائی اس کے قبضے میں ہو تو اسے وہی کھلائے جو خود کھاتا ہے اور اسے ویسا ہی پہنائے،جیسا خود پہنتا ہے،انہیں ایسے کام کی تکلیف نہ دو جو ان سے نہ ہو سکے اور اگر انہیں زحمت دو تو ان کی مدد کرو(صحیح بخاری: 5703)۔

حضرت ابوالیسر ؓ، آپ ﷺسے اپنی ملاقات کااحوال بیان کرتے ہیں کہ میں آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ جو چادر اور لباس آپﷺنے پہنا ہو اہے، وہی آپﷺ کے غلام نے بھی پہنا ہوا ہے۔ میں نے آپ ﷺسے اس بارے میں استفسار کیا تو آپﷺنے ارشاد فرمایا، ’’تم ان غلاموں کو وہیں سے کھلائو جو تم خود کھاتے ہو اور وہی پہنا ئو جوتم خود پہنتے ہو‘‘۔ اگرمیں اس غلام کو متاع دنیا میں سے کوئی چیز دے دوں،یہ میر ے لیے اس امر سے زیادہ آسان ہے کہ وہ قیامت کے دن میر ی نیکیاں لے لے(صحیح مسلم)۔آپ ﷺنے ارشاد فرمایا، غلاموں کے ساتھ خوش خلقی کا برتائو کر نا برکت کا موجب ہے اور بد خلقی کا برتائو کر نا بے برکتی کا سبب ہے۔(سنن ابودائو)

اجرت کی ادائیگی میں ٹال مٹول پر نبی کریم ﷺنے سخت وعیدیں ارشاد فرمائی ہیں:آپ ﷺنے فرمایا: تین شخص ایسے ہیں قیامت کے دن میں ان کا دشمن ہوں گا، ان میں سے ایک وہ شخص ہے جو کسی مزدور کو اجرت پر رکھے، اس سے پورا کام لے اور اسے اجرت نہ دے (صحیح بخاری: 2114)۔

خیر کے کاموں میں حسنِ سلوک کی بڑی اہمیت ہے۔ اس کے ذریعے انسان میں تواضع پیدا ہوتی ہے۔ حضورﷺ اپنے خدام کے ساتھ سب سے مثالی سلوک کرتے تھے۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں آنحضرت ﷺ کی خدمت کرتا رہا، لیکن حضور ﷺنے مجھ سے کبھی یہ نہیں کہا کہ تم نے فلاں کام ایسے کیوں کیا اور ایسے کیوں نہ کیا(صحیح بخاری)۔ 

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓسے روایت ہے کہ حضورﷺنے فرمایا کیا میں تمہیں وہ شخص نہ بتائوں، جو آگ پر حرام اور آگ اس پر حرام ہے۔ وہ نرم طبیعت، نرم زبان، گھل مل کر رہنے والا اور درگزر کرنے والا ہے(جامع ترمذی)۔ حضرت سہیل بن معاذ ؓنے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جو اپنے غصے کو پی جائے، اگرچہ وہ اس کے مطابق کرنے پر قدرت رکھتا ہو، تو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اسے مخلوق کے سرداروں میں بلائے گا اور اسے اختیار دے گا کہ جس حور کو چاہے، پسند کرلے (جامع ترمذی)۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جب تم سے کسی کا خادم اس کا کھانا لائے تو اسے چاہیے کہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا لے یا اسے بھی کچھ کھانا دے دے کیونکہ اس نے اس کی گرمی اور دھواں برداشت کیا ہے ‘‘( ابن ماجہ: 3291)۔

انسان غلطی کا پتلا ہے، انسان ہونے کے ناطے اس سے غلطی سرزد ہوجائے تو اس سے درگزر سے کام لیا جائے نہ کہ  اس کی گرفت کی جائے، اس پر سختی کی جائے۔ حضور نبی کریمﷺ کا عمل اس حوالے سے ہمارے لئے اُسوہ ٔ حسنہ اور نمونہ ہے:اسی لئے نبی کریمﷺنے فرمایا ’’برتنوں کے ٹوٹنے پر اپنے خادموں کو نہ مارو، کیونکہ تمہاری عمر کی طرح برتنوں کی بھی عمر ہوتی ہے‘‘(کنزالعمال: 2081)۔نبی کریمﷺ نے یہاں خادموں سے کسی غلطی کے سرزد ہونے پر انہیں مارنے پیٹنے پر تنبیہ فرمائی اور خود مخدوم کی تسلی کا سامان یوں فرمایا: اس سے کہا: تمہیں افسوس اس برتن کے ٹوٹنے پر نہیں کرناچاہئے کہ یہ برتن اپنی مدت عمر کے ختم پر ٹوٹ گیا ہے۔ 

اللہ تبارک تعالی ہمیں اپنے گھریلو ملازمین، خادمین اور دیگر زیرِ کفالت افراد کے ساتھ عدل و احسان کرنے اور ان کے جملہ حقوق احسن طریقے سے پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم میں رحم، درگزر اور معاف کرنے کی صفت پیدا فرمائے۔ آمین

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

نئے انتظامی یونٹس اور 28 ویں آئینی ترمیم

پاکستان میں اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی کی بحث اب سنجیدہ رُخ اختیار کر چکی ہے۔ نئے صوبوں کے قیام پر ایک کے بعد ایک قومی مباحثہ ہو رہا ہے جس میں سیاستدان، سول سوسائٹی ، قانون دان اور گورننس کے ماہرین حصہ لے رہے ہیں اور اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش ،کتنی سنجیدہ؟

وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کا تعلق دہشت گردی کے خلاف سیاسی یکجہتی اور ہم آہنگی سے ہے ۔

جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ، پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالات

سندھ کابینہ نے میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پبلک کردی ہے،جس میں پولیس کی کارکردگی کو بدترین قرار دیا گیا ہے ‘میڈیکو لیگل نظام کی بھی قلعی کھول دی ہے۔

خیبر پختونخوا میں اگلے دو ماہ اہم!

کیا خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی واپس آجائے گی ؟یہ ایک سوال ہے جو آج کل تقریبا ًتمام حلقوں میں پوچھا جارہا ہے ۔بظاہر تو یہ مشکل لگ رہا ہے لیکن پس پردہ اس کیلئے کوششیں جاری ہیں۔

بلوچستان: قربانیاں، چیلنجز اور ذمہ داریاں!

بلوچستان میں ایک طرف سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں کر رہی ہیں اور اہلکار اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں تو دوسری طرف اغوا، دھماکوں، فائرنگ اور شہریوں کے عدم تحفظ کی خبریں مسلسل توجہ حاصل کر رہی ہیں۔

آزاد کشمیر، سیاسی صف بندی یا دھڑے بندی؟

آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں مسلم لیگ (ن) ایک بار پھر اندرونی خلفشار، قیادت کے سوال اور باہمی سیاسی اختلافات کے باعث توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔