سلیم احمد:شاعری اور نثر کو زبان کا رقص بنانے والے ادبی مفکر

تحریر : ڈاکٹر ثاقب حسین


آ ج 43ویں برسی:وہ بلاشبہ اپنی تنقید میں معنی و اسلوب کی سطح پر منفرد بھی ہیں اور مؤثر بھی:جدید اُردو غزل میں بڑی شاعری کے امکان کی بات کی جائے تو سلیم احمد کے پاس اتنا شاعرانہ مواد تھا کہ ان کے معاصرین میں اس کی کوئی دوسری مثال موجود نہیں

مختصر سوانح

سلیم احمد نے ضلع بارہ بنکی کے ایک نواحی علاقے میں 27 نومبر1927ء کو آنکھ کھولی۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی آگئے اور 1950ء میں ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوئے۔ انہوں نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لیے متعدد ڈرامے لکھے اور پاکستان کی پہلی جاسوسی فلم ’’راز کی کہانی‘‘ بھی سلیم احمد ہی نے لکھی اور اس پر انہیں نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔ سلیم احمد کے شعری مجموعوں میں بیاض، اکائی، چراغ ِنیم شب اور مشرق جبکہ تنقیدی مضامین کے مجموعوں میں ادبی اقدار، نئی نظم اور پورا آدمی، غالب کون؟ ادھوری جدیدیت، اقبال ایک شاعر، محمد حسن عسکری آدمی یا انسان شامل ہیں۔سلیم احمد یکم ستمبر 1983ء کو  انتقال کر گئے۔ کراچی کے پاپوش نگر قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔  

اُردو ادب میں سلیم احمد ایک منفرد شخصیت کے مالک اوربڑے نکتہ بیں شمار ہوتے ہیں، جو اپنی قوتِ مشاہدہ اور تجزیاتی فکر کی بدولت ادب میں نمایاں ہوئے۔وہ ایک شاعر، نقاد، ڈرامہ اور کالم نگار تھے اور انہیں ادبی مفکر بھی کہا جاتا ہے۔یقینی طور پہ وہ ایک کثیرالجہت شخصیت تھے؛ چنانچہ ان کی شخصیت اور فکر کی کلیّت کو سمجھنا آسان نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ  انتقال کے 43 سال بعد بھی ان کی شخصیت بالخصوص ان کے فن کو فراموش نہیں کیا جا سکا۔ سلیم احمد کی فنی زندگی میں اصل اہمیت ان کی تنقید اور شاعری کی ہے۔

یوں تو ہر نقاد کے باطن میں ایک جراح بھی چھپا ہوتا ہے لیکن سلیم احمد کے اندر موجود یہ جراح نہ صرف زیادہ فعال اور سرگرم رہتا بلکہ اس نے اپنا کام بھی خاصا بڑھا لیاتھا۔ اس کا اہم ترین سبب وہ موضوعات و مسائل ہیں جنہیں سلیم احمد نے اپنے فکری اور اصولی حوالے کے طور پر ہمیشہ مدِنظر رکھا۔ان کے تنقیدی اسلوب کا دوسرا اور اہم ترین وصف آئینے کی مثال صاف شفاف اور دریا کی طرح رواں دواں بیانیہ ہے۔ تنقید کا ذکر آتا ہے تو سلیم احمد کے ساتھ اُن کے استاد  محمد حسن عسکری کا حوالہ ضرور آتا ہے۔ عسکری صاحب اور سلیم احمد کی تنقید کی اہمیت یہ ہے کہ جس شخص نے ان کی تنقید نہیں پڑھی وہ اُردو ادب کے بارے میں کوئی بنیادی بات نہیں جانتا۔ اُردو ادب کے بارے میں ثانوی باتیں بتانے والے تو بہت ہیں اور ثانوی باتیں بتانے والے بھی غیر اہم نہیں ہوتے  لیکن اُردو ادب کے بارے میں جتنی بنیادی باتیں عسکری صاحب اور سلیم احمد نے بتائی ہیں اتنی کسی اور نقاد نے نہیں بتائیں۔ سلیم احمد کا خمیر محبت سے اُٹھا تھا؛ چنانچہ انہوں نے علم پر بھی اس طرح گفتگو کی ہے کہ اسے ’محبت‘ بنادیا ہے۔ نثر زبان کی چہل قدمی اور شاعری زبان کا رقص ہے اور سلیم احمد نے تنقید میں بھی ایسی نثر لکھی کہ نثر کو بھی زبان کا رقص بنادیا ہے۔ بلاشبہ تنقید میں معنی و اسلوب کی سطح پر سلیم احمد منفرد بھی ہیں اور مؤثر بھی۔

ان کی تنقید میں اچھوتا پن ہے اور گہرائی۔ اسی طرح ان کی شاعری ندرتِ خیال اور موضوعات کی رنگارنگی سے آراستہ ہے۔اُردو کے اس معروف شاعر اور نقاد کے بارے میں اُن کے ہم عصروں کی رائے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ ڈاکٹر سہیل احمد خاں کہتے ہیں: سلیم احمد کی تنقیدی تحریریں میرے لیے ادب کے ایک عام قاری کی حیثیت سے قابلِ توجہ رہی ہیں۔ وہ ایسے نقاد ہیں جنہیں بار بار پڑھا جا سکتا ہے اور ادبی اور فکری معاملات میں ان کی بصیرت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ فراق اور عسکری کو ایک طرف رہنے دیں، اُردو کے اور کتنے نقادوں کے بارے میں یہ بات آسانی سے کہی جا سکتی ہے؟ ڈاکٹر تحسین فراقی نے کہا : محمد حسن عسکری کے بعد اگر نگاہ کسی اُردو نقاد پر ٹھہرتی ہے، جو ہمیں نو بہ نو ادبی، علمی اور تہذیبی سوالوں سے دو چار کرتی ہے اور مدرس نقاد کی پھبتی سے بچ سکتا ہے تو وہ ایک دو مستثنیات کے علاوہ سلیم احمد ہیں۔

 اردو غزل میں بڑی شاعری کے امکان کی بات کی جائے تو سلیم احمد کو اس فہرست میں آسانی سے شامل کیا جا سکتا ہے ۔ان کے پاس اتنا شاعرانہ مواد تھا کہ ان کے معاصرین میں اس کی کوئی دوسری مثال موجود نہیں۔ شاعری میں سلیم احمد کی خلّاقانہ صلاحیت بے مثال تھی۔اس کا سب سے بڑا ثبوت ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’بیاض‘‘ ہے۔ ’’بیاض‘‘ ان کی پچاس سال کی اُردو غزل کا سب سے بڑا شاعرانہ تجربہ ہے اور اس کی نوعیت ایک اعتبار سے تاریخی ہے۔ سلیم احمد کا ایک مجموعہ ’’اکائی‘‘ ہے۔ اس مجموعے میں سلیم احمد نے روح اور جسم کے اتصال کو دریافت کرکے روح کو جسم کا اور جسم کو روح کا آئینہ بنادیا ہے۔ یہ کام تصوف کی روایت کو جذب کیے بغیر ممکن نہیں تھا مگر اہم بات صرف تصوف کی روایت کو جذب کرنا نہیں ہے۔اہم بات تصوف کی روایت کو جذب کرکے اسے عصر کے طرزِ احساس میں ظاہر کرنا ہے۔ ان کا آخری شعری مجموعہ ’’چراغِ نیم شب‘‘ ان کی وفات کے بعد شائع ہوا۔ یہ مجموعہ ایک طرف ان کے شعور اور لاشعور کی ہم آہنگی کا عکاس ہے اور دوسری جانب اس مجموعے میں سلیم احمد نے عصر کے حوالے سے فکر کو اس طرح احساس بناکر دکھایا ہے کہ جدید اردو شاعری میں اس کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔

 تخلیقی زندگی کا عام تجربہ ہے کہ شاعر اور ادیب کو جو کچھ کہنا ہوتا ہے وہ پچیس تیس سال کی عمر میں کہہ لیتا ہے، اس کے بعد یا تو وہ خاموش ہوجاتا ہے یا پھر ساری عمر اپنے آپ کو دہراتا ہے لیکن سلیم احمد کا کمال یہ تھا کہ 56 برس کی عمر میں بھی تخلیقی طور پر زندہ اور توانا تھے، اس عمر میں بھی ان کی شخصیت امکانات کی ایک دنیا تھی۔ یہ خیال سلیم احمد کے انتقال کے بعد بھی اُن کی موت کے دکھ کو کم نہیں ہونے دیتا۔

غزلیں

دلوں میں درد بھرتا آنکھ میں گوہر بناتا ہوں

جنہیں مائیں پہنتی ہیں میں وہ زیور بناتا ہوں

غنیم وقت کے حملے کا مجھ کو خوف رہتا ہے

میں کاغذ کے سپاہی کاٹ کر لشکر بناتا ہوں

پرانی کشتیاں ہیں میرے ملاحوں کی قسمت میں

میں ان کے بادباں سیتا ہوں اور لنگر بناتا ہوں

یہ دھرتی میری ماں ہے اس کی عزت مجھ کو پیاری ہے

میں اس کے سر چھپانے کے لیے چادر بناتا ہوں

یہ سوچا ہے کہ اب خانہ بدوشی کر کے دیکھوں گا

کوئی آفت ہی آتی ہے اگر میں گھر بناتا ہوں

حریفان فسوں گر مو قلم ہے میرے ہاتھوں میں

یہی میرا عصا ہے اس سے میں اڑدر بناتا ہوں

مرے خوابوں پہ جب تیرہ شبی یلغار کرتی ہے

میں کرنیں گوندھتا ہوں چاند سے پیکر بناتا ہوں

..........

جانے کسی نے کیا کہا تیز ہوا کے شور میں

مجھ سے سنا نہیں گیا تیز ہوا کے شور میں

میں بھی تجھے نہ سن سکا تُو بھی مجھے نہ سن سکا

تجھ سے ہوا مکالمہ تیز ہوا کے شور میں

کشتیوں والے بے خبر بڑھتے رہے بھنور کی سمت

اور میں چیختا رہا تیز ہوا کے شور میں

میری زبانِ آتشیں لو تھی مرے چراغ کی

میرا چراغ چپ نہ تھا تیز ہوا کے شور میں

..........

دل کے اندر درد آنکھوں میں نمی بن جائیے

اس طرح ملیے کہ جزوِ زندگی بن جایئے

اک پتنگے نے یہ اپنے رقصِ آخر میں کہا

روشنی کے ساتھ رہیے روشنی بن جایئے

دیوتا بننے کی حسرت میں معلق ہو گئے

اب ذرا نیچے اتریے آدمی بن جائیے

وسعتوں میں لوگ کھو دیتے ہیں خود اپنا شعور

اپنی حد میں آیئے اور آگہی بن جایئے

عالمِ کثرت نہاں ہے اس اکائی میں سلیم

خود میں خود کو جمع کیجیے اور کئی بن جائیے

..........

زندگی موت کے پہلو میں بھلی لگتی ہے

گھاس اس قبر پہ کچھ اور ہری لگتی ہے

روز کاغذ پہ بناتا ہوں میں قدموں کے نقوش

کوئی چلتا نہیں اور ہم سفری لگتی ہے

آنکھ مانوسِ تماشا نہیں ہونے پاتی

کیسی صورت ہے کہ ہر روز نئی لگتی ہے

گھاس میں جذب ہوئے ہونگے زمیں کے آنسو

پاؤں رکھتا ہوں تو ہلکی سی نمی لگتی ہے

سچ تو کہہ دوں مگر اس دور کے انسانوں کو

بات جو دل سے نکلتی ہے بری لگتی ہے

میرے شیشے میں اتر آئی ہے جو شام ِفراق

وہ کسی شہر نگاراں کی پری لگتی ہے

بوند بھر اشک بھی ٹپکا نہ کسی کے غم میں

آج ہر آنکھ کوئی ابر تہی لگتی ہے

شورِ طفلاں بھی نہیں ہے نہ رقیبوں کا ہجوم

لوٹ آؤ یہ کوئی اور گلی لگتی ہے

گھر میں کچھ کم ہے یہ احساس بھی ہوتا ہے سلیم

یہ بھی کھلتا نہیں کس شے کی کمی لگتی ہے

..........

منتخب  اشعار

در بہ در ٹھوکریں کھائیں تو یہ معلوم ہوا

گھر کسے کہتے ہیں کیا چیز ہے بے گھر ہونا

.....

گھاس میں جذب ہوئے ہونگے زمیں کے آنسو

پاؤں رکھتا ہوں تو ہلکی سی نمی لگتی ہے

.....

مجھ سے کہتا ہے کہ سائے کی طرح ساتھ ہیں ہم

یوں نہ ملنے کا نکالا ہے بہانہ کیسا

قطعہ

بدن ہی گو جدائی کا سبب ہے

بدن ملنے سے جانیں مل رہی ہیں

یہی خط دائرے کے درمیاں ہے

اس خط پر کمانیں مل رہی ہیں

 ایک ثلاثی 

بدن میں روح کا در پھوٹتا ہے

نہیں ہوتی محبت بالا بالا

یہ اکھوا تہہ کے اندر پھوٹتا ہے

منتخب غزلیں

ہر آنکھ کا حاصل دوری ہے

ہر منظر اک مستوری ہے

جو سود و زیاں کی فکر کرے

وہ عشق نہیں مزدوری ہے

سب دیکھتی ہیں سب جھیلتی ہیں

یہ آنکھوں کی مجبوری ہے

اس ساحل سے اس ساحل تک

کیا کہیے کتنی دوری ہے

میں تجھ کو کتنا چاہتا ہوں

یہ کہنا غیر ضروری ہے

..........

عمر بھر کاوشِ اظہار نے سونے نہ دیا

حرف ِنا گفتہ کے آزار نے سونے نہ دیا

دشت کی وسعت بے قید میں کیا نیند آتی

گھر کی قید در و دیوار نے سونے نہ دیا

تھک کے سو رہنے کو رستے میں ٹھکانے تھے بہت

ہوس ِسایۂ دیوار نے سونے نہ دیا

کبھی اقرار کی لذت نے جگائے رکھا

کبھی اندیشۂ انکار نے سونے نہ دیا

ہو گئی صبح بدلتے رہے پہلو شب بھر

ایک کروٹ پہ دلِ زار نے سونے نہ دیا

سلیم احمد کی تصانیف

شاعری

٭بیاض (1966ء)

٭اکائی (1982ء)

٭چراغِ نیم شب (1985ء)

٭مشرق 

تنقید

٭ادبی اقدار

٭نئی نظم اور پورا آدمی

٭ادھوری جدیدت

٭محمد حسن عسکری آدمی یا انسان

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

اختر الایمان، مختصر نظم کا شاعر

اخترالایمان کی شاعری بالخصوص نظمیں ماضی کے تجربات اورمحسوسات کی یادیں ہیں۔ یہ یادیں تلخ اور حسین دونوں طرح کے جذبات اوراحساسات سے مزین ہیں، لیکن ان میں اکثریت تلخ تجربات اوراحساسات سے بھرپور یادوں کی ہے۔

پاکستان 23سال بعد بین الاقوامی کھیلوں کا میزبان

14ویں سائوتھ ایشین گیمز2027ء:گیمز آئندہ سال اپریل میں تین شہروں اسلام آباد، لاہور اور پشاور میں منعقد ہوں گے: سائوتھ ایشیا اولمپک کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے 14ویں سائوتھ ایشین گیمز کے حتمی شیڈول اور انتظامی فریم ورک کی منظوری دے دی

ویمنز اِن گرین کانیا امتحان

ویمنزایشیا کپ اور ایشین گیمز2026ء: دبئی میں جاری ویمنز ایشیا کپ میں پاکستان ٹیم اپنا پہلا میچ یکم ستمبر کو تھائی لینڈ کیخلاف کھیلے گی: 20 ویں ایشین گیمز میں ویمنز کرکٹ ٹورنامنٹ17سے 22 ستمبر تک ایچی کے کوروگی ایتھلیٹک پارک میں کھیلا جائے گا، فاطمہ ثناء دونوں ٹورنامنٹس میں گرین شرٹس کی کپتان ہیں

آزادی کا چراغ

ننھا فرہاد اپنے کمرے میں بیٹھا ہوم ورک کر رہا تھا، وہ تیسری جماعت کا طالب علم تھا اور پڑھائی میں بہت دلچسپی لیتا تھا۔

محنت کامیابی کی کنجی

ساجد ایک ذہین لڑکا تھا لیکن وہ محنت سے جی چراتا اورہر وقت کسی ایسی سوچ میں ڈوبارہتا جو اس کے تمام مسائل کوحل کردے۔

بارش کیسے ہوتی ہے؟

سمندروں،دریائوں، جھیلوں یا ایسی کسی بھی جگہ کا پانی سورج کی تپش سے گرم ہو جاتاہے۔ایک سو درجہ حرارت سینٹی گریڈ پرپانی ابلنا شرع کر دیتا ہے،یہ آبی بخارات (بھاپ کی صورت میں)اوپر چلے جاتے ہیں۔