دانی کی نصیحت

تحریر : طوبیٰ سعید


جمعہ کا مبارک دن تھا۔ احمد اپنے بڑے بھائی دانی کے ساتھ جمعہ پڑھنے جا رہا تھا۔ احمد نہا دھو کر صاف ستھرے سفید رنگ کے کپڑے پہنے دانی بھائی کے ساتھ مسجد جارہا تھا کہ راستے میں احمد کا دوست مقیط اسے مل گیا، جو اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا شربت پی رہا تھا ۔

’’کہاں جارہے ہو ؟‘‘ مقیط نے  احمد کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔ 

’’بھائی جمعہ کی نماز کا وقت ہونے والا ہے، تو وہیں جارہے ہیں۔ چلو تم بھی جلدی جلدی نماز کیلئے آجائو‘‘۔ 

احمد نے تھوڑی دیر کیلئے رک کر مقیط کو مسجد جمعہ کی نماز پڑھنے کا کہا تو وہ بولا: ’’نہیں یار،آج نہیں بہت دیر ہوجائے گی۔ میں نے اپنے امی ابو کے ساتھ سیر کو بھی جانا ہے۔ پھر اگلے ہفتے چلا جائوں گا۔ تم جائو اور نماز پڑھ لو‘‘۔

 مقیط کے اس طرح کہنے پر احمد، دانی بھائی کے ساتھ مسجد کی طرف جانے لگا ہی تھا کہ مقیط کو ایک شرارت سوجھی۔ اس نے احمد کو پیچھے سے آواز دی۔ احمد نے پیچھے مڑ کر اس کی جانب دیکھا تو مقیط نے سارا شربت اس کے کپڑوں پر گرا دیااور  اونچا اونچا ہنسنے لگاجبکہ احمد اور دانی چیخ اٹھے۔

’’یہ کیا بدتمیزی ہے، تم نے نماز نہیں پڑھنی تو نہ پڑھو لیکن دوسروں کی نماز تو نہ خراب کرو‘‘،دانی غصے سے بولا تو مقیط کی امی باہر آگئیں اور مقیط کی اس حرکت پر بہت پشیمان ہوئیں۔احمد تیزی سے دوڑتا ہوا گھر گیا اور فوری طور پر کپڑے بدلنے لگا۔

ادھر دانی نے مقیط کو اس کی امی کی موجودگی میں کہا: ’’تمہیں اس طرح کی حرکت نہیں کرنی چاہیے تھی ، جمعہ کی نماز کاوقت شروع ہونے والا ہے اور اللہ ایسے موقع پر انسان کے بہت قریب ہوتاہے، دعائیں سنتا اور قبول کرتا ہے۔ فرشتے ثواب لکھتے ہیں تو کیا تم کو یہ بات گوارا کرے گی کہ فرشتے تمہاری اس حرکت کے بارے میں لکھیں اور اللہ بھی ناراض ہو۔ ہم نے تمہیں نماز پڑھنے کیلئے زبردستی نہیں کی تو تمہیں بھی روکنے کا حق نہیں۔ یاد رہے ’’نماز دین کا ستون ہے اور نبی کریمﷺ نے اسے آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا ہے۔نماز ادا کر کے زندگی سکون میں آتی ہے اور انسان غلط کاموں سے محفوظ رہتا ہے‘‘۔ لیکن تم دیکھ لو کہ یہ حرکت شیطانی ہے اور اللہ سخت ناراض بھی ہو گا‘‘۔

اتنی دیر میں احمد دوسرے کپڑے پہن کر بھاگتا ہوا وہاں پہنچ گیا اور اپنے بڑے بھائی دانی کے ساتھ مسجد کی راہ لی۔

مقیط کی امی نے اسے سمجھانا چاہا مگر وہ نہ سمجھا۔

جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر اور عصر کی نماز پڑھ لینے کے بعد سب بچے گلی میں کھیلنے لگے تو مقیط بھی باہر آ کر کھیلنے لگا۔ احمد اور دانی بھی ایک ساتھ موجود تھے کہ مقیط نے پھر احمد کے کپڑوں پر شربت گرنے کا مذاق اڑانا چاہا تو اچانک کھیلتے کھیلتے اس کا پائوں مڑ گیا اور وہ زمین پر گر گیا جس سے اس کے گھٹنوں پر زخم ہو گیا۔ 

احمد اور دانی تیزی سے آگے بڑھے۔اس کو اٹھا کر پاس کلینک میں لے گئے جہاں اس کو ٹیٹنس کا انجیکشن لگا اور زخموں پر پٹیاں کی گئیں اور پھر دونوں اسے گھر لے آئے۔

 مقیط کی امی نے ان دونوں کا شکریہ ادا کیا تو دانی نے کہا : ’’دیکھ لو مقیط! اللہ ایسے ہی ناراض ہوتا ہے۔ تم نے کھیلنے کے دوران بھی مذاق اڑایا تو اللہ نے پھر اپنی ناراضگی دکھائی۔یاد رکھو جب بھی آپ مذاق اڑاتے یا کسی کا نقصان کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ کو خود بھی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ آج تم جمعہ کی نماز پڑھتے تو اللہ تعالیٰ خوش ہوتااور تمہارے دل کی سختی ختم ہوجاتی۔ اب تمہارے پاس موقع ہے فوری طور پر دل کی آنکھیں کھولو اور اللہ کی جانب رجوع کرو‘‘۔

 مقیط دانی کی باتیں سنتا رہا اور پھر اس نے آگے ہوکر احمد سے معافی مانگی تو اس نے بھی اسے معاف کردیا۔مقیط نے زخم ٹھیک ہوتے ہی دانی اور احمد کے ساتھ پانچ وقت کی نماز پڑھنا شروع کر دی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

کھیلوں کاایشیائی میلہ جاپان مین سج گیا

20ویں ایشین گیمز 2026ء: گرین شرٹش مختلف کھیلوں میں مجموعی طور پر4سے 6 تمغے جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہیں: افتتاحی تقریب میں سکواش کے کھلاڑی نور زمان اور پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا نے پرچم تھامے قومی دستے کی قیادت کی: پاکستان کے 7 بہترین شوٹرز این او سی جبکہ پاکستان بیس بال ٹیم سپانسر نہ ملنے کے باعث ایشین گیمز کا حصہ بننے سے محروم رہ گئے

پاکستان کرکٹ کا نیا بحران:محمدرضوان اور امام الحق تنازع

حساس معلومات اور ویڈیوز کے مبینہ لیک ہونے کا معاملہ این سی سی آئی اے اوراعلیٰ عدلیہ تک پہنچ :حتمی فیصلہ فارنزک رپورٹ آنے کے بعد ہوگا، واقعے نے قومی کرکٹ کے اندرونی ڈسپلن اور انتظامی ڈھانچے پر سوالات کھڑے کر دئیے ہیں:ہائیکورٹ سے درخواست خارج ہونے اوررضوان کوایجنسی کے سامنے پیش ہو نے کے حکم کے بعد کھلاڑیوں پر دبائو بڑھ گیا

گنیز بک 2027ء میں شامل دنیا کے ہونہار بچے!

میکس الیگزینڈر:کم عمری میں فیشن ورلڈفتح کرنیوالا

بڑا امتحان

شام ہو چلی تھی۔ بادلوں کی ہلکی سی پردہ داری نے موسم کو دلکش بنا دیا تھا اور باہر ہوا میں پرندوں کی چہچہاہٹ گونج رہی تھی۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

پہاڑوں پر سانس کیوں پھولتاہے؟

کتنا اچھا ہے کتنا پیارا ہے

کتنا اچھا ہے کتنا پیارا ہے،اِک چمکتا ہوا ، ستارا ہے