عدل و انصاف: تعلیماتِ نبوی ﷺ کا بنیادی تقاضا
’’اور اگر تم ان کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کیساتھ کرو، بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے‘‘ (المائدہ) نبی کریمﷺ نے فرمایا’’ کوئی حاکم دو آدمیوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے‘‘ (جامع ترمذی)’’اور کسی قوم کی دشمنی کے باعث عدل کو ہرگز نہ چھوڑو، عدل کرو یہی تقویٰ کے بہت زیادہ قریب ہے(المائدہ: 8)
اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانی زندگی کے ہر گوشے میں عدل، انصاف، مساوات اور حقوق العباد کی پاسداری کا درس دیتا ہے۔ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی سیرتِ طیبہ میں عدل و انصاف کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ آپﷺ نے معاشرے میں ایسا نظام قائم فرمایا جس میں طاقتور اور کمزور، امیر اور غریب، حاکم اور محکوم سب قانونِ عدل کے سامنے برابر تھے۔ آپﷺ کی تعلیمات نے واضح کر دیا کہ کسی شخص کی محبت، دشمنی، رشتہ داری، دولت یا منصب انصاف کے تقاضوں کو متاثر نہیں کرنا چاہیے۔ قرآنِ کریم کا حکم ہے کہ کسی قوم کی دشمنی بھی انسان کو انصاف سے نہ ہٹائے۔ یہی وہ اصول ہے جس پر ایک پرامن، مضبوط اور باوقار معاشرہ قائم ہوتا ہے۔ آج جب معاشرتی زندگی میں ناانصافی، حق تلفی اور امتیاز مختلف صورتوں میں دکھائی دیتے ہیں، سیرتِ رسولِ اکرمﷺ ہمارے لیے واضح رہنمائی فراہم کرتی ہے کہ حقیقی فلاح اسی وقت ممکن ہے جب عدل کو ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر زندگی کا اصول بنایا جائے۔
کسی بھی قوم کی نشوؤنما اور تعمیر وترقی کیلئے عدل و انصاف ایک بنیادی ضرورت ہے۔ جس سے مظلوم کی نصرت، ظالم کا قلع قمع اور جھگڑوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے، حقوق کو ان کے مستحقین تک پہنچایا جاتا ہے، دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں تاکہ معاشرے کے ہر فرد کی جان و مال، عزت و حرمت اور مال و اولاد کی حفاظت کی جا سکے۔ یہی وجہ ہے اسلام نے قیام عدل کا انتہا درجہ اہتمام کیا ہے اوراسے انبیاء کی سنت بتایا ہے۔
نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: ’’اے نبی کریمؐ! آپؐ لوگوں کے درمیان اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں‘‘۔
نبی کریمﷺ کی حیات مبارکہ مسلمانوں کیلئے دین و دنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپﷺ کی تنہا ذات میں حاکم، قائد، مربی، مرشد اور منصف اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں۔جو لوگ آپ ﷺ کے فیصلے پر راضی نہیں ہوئے ا ن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سنگین وعید نازل فرمائی اور اپنی ذات کی قسم کھا کرآپﷺ کے فیصلے تسلیم نہ کرنے والوں کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔
نبی کریمﷺ کے بعد خلفاء راشدین سیاسی قیادت،عسکری سپہ سالاری اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ منصف و قاضی کے مناصب پر بھی فائز رہے اور خلفاء راشدین نے اپنے دور ِخلافت میں دور دراز شہروں میں متعدد قاضی بناکر بھیجے۔ آئمہ محدثین نے نبیﷺ اور صحابہ کرامؓ کے فیصلہ جات کو کتب احادیث میں نقل کیا ہے۔بعض اہل علم نے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کے فیصلہ جات پرمشتمل کتب بھی تصنیف کی ہیں۔
نظام عدل قرآن کی روشنی میں
نظام عدل ایک نہایت با عزت منصب ہے،اس کا احترام اور تعظیم کرنا فر ض ہے۔ دین ِاسلام میں اس کام کی جواہمیت اور مقام و مر تبہ ہے اس سے واقفیت حاصل کر نی چاہیے۔اسی منصب کی تکمیل کیلئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام بھیجے۔ عدل اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ اس کے اسماء الحسنی میں ایک اسم مبارک بھی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی بات، فیصلہ اور حکم توازن و تناسب کے منافی نہیں ہوتا۔ وہ حق عدل ہے اور اس کی ذات پاک سے صادر ہو نے والی ہر شے حق و عدل ہے۔ ارشا د باری تعالیٰ ہے: ’’اور اللہ حق کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا (الغافر: 20)۔
اس آیت مبارکہ میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا انسانی اعمال کے بارے میں فیصلہ کا بیان ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ بے لاگ فیصلہ فرمائے گا۔ جس میں کسی کی بھی حق تلفی نہیں کی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔
نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ’’قضا‘‘ کے منصب پر فائز کیا اور اس کے کچھ اصول مقرر کیے جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور فرما دیجئے میں اس کتاب پر ایمان رکھتا ہوں جو اللہ نے نازل فرمائی ہے اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل قائم کروں (سورۃ الشوریٰ: 15)۔
’’اور کہہ دیجئے کہ میرے رب نے مجھے انصاف کا حکم دیا ہے‘‘(الاعراف: 29)۔
’’اور اگر تو ان کے درمیان فیصلہ کرے تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کر، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے‘‘ (المائدہ: 42)۔
’’اور کسی قوم کی دشمنی کے باعث عدل کو ہرگز نہ چھوڑو، عدل کرو یہی تقویٰ کے بہت زیادہ قریب ہے‘‘(سورۃ المائدہ: 8)۔
نظام عدل احادیث
مبارکہ کی روشنی میں
حضرت ابوبکرؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا کہ کوئی حاکم دو آدمیوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے (جامع ترمذی: 1334)۔
حضرت عبداللہ بن عمرو اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب حاکم اجتہاد کر کے فیصلہ کرے اور صواب کو پہنچے (درست فیصلہ کرے) تو اس کیلئے دو اجر ہیں اور جب اجتہاد کر کے فیصلہ کرے اور خطا کر جائے تو اس کیلئے ایک اجر ہے(ابو داؤد: 3574)
حضرت بریدہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قاضی تین قسم کے ہیں، ان میں سے ایک جنت میں اور دو دوزخ میں ہیں، جنتی وہ ہے جو حق کو پہچانے اور اس کا فیصلہ کرے، اور جو شخص حق کو تو پہچانے مگر فیصلے میں ظلم کرے تو وہ آگ میں ہے اور جو شخص جہالت کی بنا پر لوگوں کے فیصلے کرے وہ بھی آگ میں ہے۔ (ابو داؤد: 3573)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے مسلمانوں کا قاضی بننے کا مطالبہ کیا یہاں تک کہ یہ مرتبہ حاصل کر لیا، پھر اس کا انصاف اس کے ظلم پر غالب ہو، تو اس کیلئے جنت ہے، اور جس کا ظلم اس کے انصاف پر غالب ہو، اس کیلئے آگ ہے۔( ابو داؤد:3575)
حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں یمن بھیجا تو فرمایا ؟ جب تمہارے سامنے کوئی مقدمہ پیش ہو تو تم کیسے فیصلہ کرو گے، تو انہوں عرض کیا: اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا، فرمایا: اگر تم اللہ کی کتاب میں نہ پاؤ تو؟ عرض کیا اللہ تعالیٰ کے رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ فرمایا: اگر تم رسول اللہﷺ کی سنت میں بھی نہ پاؤ تو؟، عرض کیا میں اپنے قیاس سے اجتہاد کروں گا، اور کوتاہی نہیں کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے سینے پر دست اقدس مار کر فرمایا: اللہ تعالیٰ کیلئے ہر تعریف ہے جس نے رسول اللہﷺ کے نمائندے کو اس چیز کی توفیق دی ہے جسے رسول اللہ ﷺپسند کرتے ہیں۔ (ابو داؤد :3592)
حضرت علی المرتضیٰؓسے روایت ہے، کہ مجھے رسول اللہﷺ نے قاضی بنا کر یمن بھیجا ، میں نے عرض کیا :کہ یا رسول اللہﷺ! آپﷺ مجھے بھیج رہے ہیں حالانکہ میں نو عمر ہوں اور مجھے فیصلہ کرنے کا علم نہیں ہے۔ فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہارے دل کو ہدایت اور تمہاری زبان کو پختگی عطا فرمائے گا، جب دو شخص تمہارے پاس مقدمہ پیش کریں تو پہلے کیلئے فیصلہ نہ کرنا، یہاں تک کہ دوسرے کی بات نہ سن لو۔ فرماتے ہیں: اس کے بعد مجھے کسی فیصلے میں شک واقع نہیں ہوا۔ (ابو داؤد: 3582)
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ؓسے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے جب تک وہ ظلم نہ کرے ،جب اس نے ظلم کیا تو اس سے جدا ہو جاتا ہے اور شیطان اسے پکڑ لیتا ہے (جامع ترمذی: 1330)۔ حضرت عبداللہ بن عمروؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی۔ (جامع ترمذی: 1337)
اسلام میں سب سے پہلے قاضی خود رسول اللہﷺ تھے جنہوں نے عدل کا بول بالا کیا۔ نبی کریمﷺ کے عدالتی طریق کار کے بعد حضرت ابوبکرصدیقؓ کا عہد ِقضا آتا ہے، ان کے معمول کے متعلق رئیس احمد جعفری لکھتے ہیں: ’’اگر کتاب و سنت سے کوئی نظیر نہیں ملتی تھی تو وہ باہر تشریف لے جاتے اور مسلمانوں سے کہتے کہ میرے سامنے یہ مسئلہ درپیش ہے، کیا تم جانتے ہو؟ وہ اس کے بارے میں جو بات کہتے ان سے مشورہ کرکے قرآن و سنت کی روشنی میں فیصلہ کرتے۔ (سیاست شرعیہ، ص127 )
حضرت عمرؓ نے بھی حضرت ابوبکر ؓ والا اصول اپنایا کہ پہلے قرآن وسنت سے مسئلے کا فیصلہ ڈھونڈتے تھے۔ اس کے بعد دیکھتے تھے کہ حضرت ابوبکر ؓ کے زمانے میں اس کے بارے میں کیا فیصلہ ہوچکا ہے؟ اگر معلوم ہوجاتا تو حضرت ابوبکر ؓ کے فیصلہ کو نافذ کردیتے ، ورنہ وہ بھی اہل حل وعقد کو جمع کرتے اور باہمی مشاورت سے جو فیصلہ ہوتا، اس کو نافذ کر دیا جاتا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments