التجا کے آداب اور قبولیتِ دُعا کے اسرار
مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا‘‘(المؤمن: 60) ’’دُعا تمام عبادات کا مغز اور جوہر ہے‘‘(جامع ترمذی) ’’بندے کی دُعا اس وقت تک قبول ہوتی رہتی ہے جب تک وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دُعا نہ کرے اور جب تک وہ عجلت کا مظاہرہ نہ کرے‘‘(صحیح مسلم)
جب بندہ عاجز اور سراپا خطا اپنے خالقِ حقیقی کی بارگاہ میں دستِ سوال دراز کرتا ہے، تو دعا کائنات کی سب سے مقدس، لطیف اور باطنی رشتہ جوڑنے والی حقیقت بن جاتی ہے۔ دعا انسان کی عاجزی اور ربِ کائنات کی صمدیت کے درمیان ایک ایسا پُل ہے جہاں مٹی کی پستی سے اٹھنے والی صدا سیدھے عرشِ بریں کے مالک کے حضور شرفِ قبولیت حاصل کرتی ہے۔ کائنات کی اس عظیم الشان حقیقت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انسان اپنی تمام تر سائنسی اور مادی ترقی کے باوجود جب اندرونی طور پر تہی دست ہوتا ہے، تو اس کا دل بے ساختہ اپنے مالک کے حضور پناہ ڈھونڈتا ہے۔
لغت کی رو سے دُعا کا مطلب پکارنا، ندا کرنا، پکار بلند کرنا یا کسی خیر کو طلب کرنا ہے، جبکہ علم اخلاق اور اصطلاح شریعت میں دُعا سے مراد بندے کا اپنے تمام اختیارات سے دستبردار ہو کر، کمالِ عاجزی اور انکساری کے ساتھ اپنے پروردگار سے اپنی حاجتوں کا سوال کرنا اور ساری مخلوق سے کٹ کر اسی اللہ کریم کے در پر اپنی جبین نیاز کو جھکا دینا ہے۔ دین اسلام میں دُعا کو اتنی بلند مرتبت اور مرکزیت حاصل ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے اسے عبادت کا مغز قرار دیا ہے، جیسا کہ جامع ترمذی کی روایت میں وارد ہے: دُعا تمام عبادات کا مغز اور جوہر ہے۔(سنن الترمذی: 3371)
قرآنِ پاک میں ربِ ذوالجلال نے خود بندوں کو پکارنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے: ’’تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا‘‘ (سورۃ المؤمن: 60)۔ قرآنِ مجید کے اوراقِ زریں اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ انبیائے کرام علیہم السلام کی پوری حیاتِ مبارکہ دُعا کے انمول جذبوں سے مزین رہی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لے کر حضرت موسیٰ اور حضرت زکریا علیہ السلام تک، ہر صاحبِ نسبت ہستی نے کڑے ترین حالات میں بھی دُعا ہی کو اپنا سب سے بڑا ہتھیار بنایا۔
روحِ کائناتﷺ کی پاکیزہ ذات نے تو دُعا کو بندگی کا وہ معراج عطا کیا کہ آپﷺ کی ہر سانس، ہر جنبشِ لب اور ہر عمل میں ربِ کائنات کے ساتھ تعلق کی گہرائی نمایاں نظر آتی ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں دُعا کی قبولیت کے حوالے سے بڑے واضح اور مستند اصول بیان کیے گئے ہیں۔ صحیح مسلم شریف کی ایک روایت کے مطابق جانِ عالمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’بندے کی دُعا اس وقت تک قبول ہوتی رہتی ہے جب تک وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دُعا نہ کرے اور جب تک وہ عجلت کا مظاہرہ نہ کرے‘‘(صحیح مسلم: 2735)۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ! عجلت کیا ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ بندے کا یہ کہنا کہ میں نے دُعا کی، بار بار دُعا کی، مگر میں دیکھتا ہوں کہ میری دُعا قبول نہیں کی گئی، تو وہ دل شکستہ ہو کر دعا مانگنا چھوڑ دیتا ہے۔
ایک اور مقام پر رحمت کونینﷺ کا یہ فرمانِ عالی شان موجود ہے جو مسند احمد میں نقل ہوا ہے کہ زمین پر جو مسلمان بھی کوئی ایسی دُعا کرتا ہے جس میں گناہ یا قطع رحمی نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ اسے تین چیزوں میں سے ایک ضرور عطا فرما دیتا ہے: یا تو اس کی دُعا دنیا میں فوراً قبول کر لی جاتی ہے، یا اس کے بدلے اس کیلئے آخرت میں اجر محفوظ کر لیا جاتا ہے، اور یا اس دُعا کی برکت سے اتنی ہی بڑی کوئی مصیبت اور بلا اس سے ٹال دی جاتی ہے (مسند احمد: 11133)۔
سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کیا جائے تو روحِ کائناتﷺ کے اسوۂ حسنہ سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ مشکلات اور مصائب کے طوفانوں میں دُعا کس طرح تقدیر کے فیصلوں کو بدلتی ہے۔ غزوۂ بدر کا وہ پرخطر معرکہ تاریخ کا روشن ترین باب ہے جب جانِ عالمﷺ نے میدانِ بدر میں سجدہ ریز ہو کر اتنی گریہ زاری اور عاجزی کے ساتھ دعا مانگی کہ آپﷺ کی چادر مبارک مبارک شانوں سے گر گئی، اور آپﷺ نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا: اے اللہ! آج اگر یہ مٹھی بھر مسلمان جماعت ہلاک ہو گئی تو روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں رہے گا‘‘۔ اس استغراق اور اخلاص کا نتیجہ یہ نکلا کہ فرشتوں کے لشکر نصرتِ الٰہی لے کر میدان میں اتر آئے۔ اسی طرح طائف کی خون چکاں گھاٹی کا وہ لرزہ خیز واقعہ جب دشمنوں نے آپﷺ کو لہولہان کر دیا، اس وقت بھی آپﷺ کے مبارک لبوں پر بددعا کے بجائے امت کی ہدایت اور مغفرت کیلئے دعائیں ہی جاری تھیں۔ اسوۂ نبوی ہمیں سکھاتا ہے کہ دعا میں عجلت نہیں بلکہ صبر، تسلیم و رضا، اور عاجزی کی وہ روح ہونی چاہیے جو عرشِ الٰہی کو ہلا کر رکھ دے۔
اس کے باوجود آج کے دور میں ہر طرف یہ سوال اضطراب بن کر گونج رہا ہے کہ آخر ہماری دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتیں؟ کیوں ہمارے ہاتھ اٹھتے ہیں مگر آسمان کے دروازے بند دکھائی دیتے ہیں؟ اس المیے کے بنیادی اسباب کو قرآنی بصیرت، احادیث اور اسوۂ کاملہ کی روشنی میں پرکھا جائے تو چند اہم حقیقتیں سامنے آتی ہیں۔ دُعا کی قبولیت میں سب سے بڑی اور ہولناک رکاوٹ حرام کمائی، سودی لین دین اور رزقِ ناپاک ہے۔ صحیح مسلم شریف کی ایک اور مستند حدیث میں رحمتِ کونینﷺ نے ایک ایسے مسافر کا ذکر کیا ہے جو لمبا سفر کرتا ہے، اس کے بال پراگندا اور جسم غبار آلود ہے، وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہتا ہے ’’اے میرے رب! اے میرے رب!‘‘ حالانکہ اس کا کھانا حرام کا ہے، اس کا پینا حرام کا ہے، اس کا لباس حرام کا ہے اور اس کی پرورش حرام پر ہوئی ہے، تو ایسے شخص کی دُعا کیسے قبول ہو سکتی ہے! (صحیح مسلم: 1015)۔ اس فرمانِ نبویؐ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جب انسان کا لقمہ حرام سے پلتا ہے، اس کے کاروبار میں ملاوٹ اور دھوکہ دہی شامل ہوتی ہے، اور اس کے اموال میں غریبوں اور محتاجوں کا حق مارا جاتا ہے، تو دعاؤں کے راستے میں سنگین حجاب حائل ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ غفلتِ قلب اور لاپرواہی بھی عدم قبولیت کا سب سے بڑا سبب ہے۔ سنن ترمذی کی روایت میں جانِ عالمﷺ کا ارشاد مبارک منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دل کی دعا قبول نہیں کرتا جو غافل اور کھیل کود میں مست ہو (جامع ترمذی: 3479)۔
جب ہم زبان سے تو دعاؤں کے الفاظ ادا کرتے ہیں مگر ہمارے دل دنیا کی محبت، ہوس، غفلت اور غیبت و حسد کی آلائشوں سے بھرے ہوتے ہیں، تو ایسی صدائیں روح سے محروم لاشوں کی مانند ہوتی ہیں جو فضا میں ہی تحلیل ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ حقوق العباد کی پامالی، صلہ رحمی سے دوری اور معاشرتی ناانصافیاں بھی وہ دیواریں ہیں جو دعاؤں کو اوپر جانے سے روکتی ہیں۔
آج کا مادہ پرست، خود غرض اور بحران زدہ معاشرہ اخلاقی زوال کی اس اتھاہ گہرائی میں اتر چکا ہے جہاں جھوٹ، فریب، بد دیانتی، ظلم اور نفس پرستی کو کامیابی کا معیار سمجھ لیا گیا ہے۔ ہم نے اپنی ذاتی، خاندانی اور اجتماعی زندگیوں کو روحِ کائناتﷺ کے اسوۂ حسنہ سے یکسر کاٹ لیا ہے۔ ہمارے دست دُعا اٹھتے تو ہیں مگر ہمارے دلوں میں خلوص کا نور اور اعمال میں دیانت کی خوشبو موجود نہیں ہوتی۔ منڈیوں میں ناپ تول کی کمی، دفاتر میں رشوت ستانی اور گھروں میں باہمی محبت و رواداری کا خاتمہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنی دعاؤں کے راستے بند کر دیے ہیں۔ اس تاریک دلدل سے نکلنے کا واحد اور شافی علاج یہ ہے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کا رخ دوبارہ رحمتِ کونین ﷺ کے اسوۂ منور کی طرف موڑ دیں۔ ہمیں سب سے پہلے اپنے رزق کو پاک کرنا ہوگا، حلال و حرام کی تمیز کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا، اپنے دلوں سے دنیا کی ہوس کی گرد کو جھاڑنا ہوگا، اور جانِ عالمﷺ کی سچی محبت اور اطاعت کو اپنے سینوں میں بسانا ہوگا۔ جب تک ہم اپنے گناہوں پر ندامت کے آنسو بہا کر، توبہ و استغفار کا قلعہ استوار کر کے، اور حقوق العباد کی ادائیگی کا پختہ عزم لے کر اس درِ اقدس پر نہیں جھکیں گے جہاں سے کبھی کوئی سوالی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا، اس وقت تک ہمارے حالات کا یہ گھنا اندھیرا اجالے میں نہیں بدل سکتا۔ ہمیں عاجزی، صبر اور اخلاص کے ساتھ اپنے دامن کو پھیلانا ہوگا، کیونکہ جب عشق مصطفیٰ ﷺ کی حرارت سے دل منور ہو جاتے ہیں اور عمل اسوۂ نبوی کے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں، تو پھر بارگاہِ الٰہی میں کی جانے والی ہر التجا تقدیر کے دروازے کھول دیتی ہے اور دونوں جہان کی سرخروئی انسان کا مقدر بن جاتی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments