موسمِ سرما کی سبزیاں اگائیں کچن گارڈننگ کو اپنائیں

تحریر : عروج فاطمہ


گھر میں تازہ، صحت بخش اور صاف ستھری سبزیاں اگانے کا شوق نہ صرف ذہنی سکون فراہم کرتا ہے بلکہ گھریلو بجٹ میں بھی کمی لاتا ہے۔

 کچن گارڈننگ کے ذریعے محدود جگہ میں بھی ایسی سبزیاں اگائی جا سکتی ہیں جو روزمرہ کھانے میں استعمال ہوتی ہیں۔ موسمِ سرما کچن گارڈننگ کے لیے خاص طور پر موزوں سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس موسم میں پالک، میتھی، دھنیا، مولی، گاجر، شلجم، مٹر، پھول گوبھی، بند گوبھی اور لہسن سمیت کئی سبزیاں آسانی سے اگائی جا سکتی ہیں۔اگر گھر میں صحن، چھت، بالکونی یا کھڑکی کے پاس کچھ جگہ موجود ہو تو اسے ایک چھوٹے سے کچن گارڈن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے بہت زیادہ اخراجات یا باغبانی کے تجربے کی ضرورت نہیں بلکہ مناسب مٹی، پانی، روشنی اور تھوڑی سی توجہ کافی ہے۔

موسمِ سرما میں کون سی سبزیاں اگائیں؟

موسمِ سرما کے آغاز میں سب سے پہلے ایسی سبزیوں کا انتخاب کرنا چاہیے جو مقامی موسم اور دستیاب جگہ کے مطابق ہوں۔ پالک، میتھی اور دھنیا نسبتاً آسان سبزیاں ہیں اور کم جگہ میں بھی اچھی پیداوار دے سکتی ہیں۔ مولی بھی گھر کے باغیچے کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے کیونکہ یہ نسبتاً کم وقت میں تیار ہو جاتی ہے۔گاجر اور شلجم کے لیے گہری مٹی والے گملے یا کیاری  زیادہ مناسب رہتے ہیں تاکہ ان کی جڑوں کو بڑھنے کے لیے مناسب جگہ مل سکے۔ مٹر کو بیل کی شکل میں بڑھنے کے لیے  سہارا درکار ہوتا ہے اس لیے گملے یا کیاری کے ساتھ لکڑی یا جالی کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح پھول گوبھی اور بند  گوبھی کے لیے نسبتاً زیادہ جگہ درکار ہوتی ہے لیکن اگر چھت یا صحن میں بڑے گملے موجود ہوں تو انہیں بھی باآسانی کاشت کیا جا سکتا ہے۔ لہسن بھی گھریلو باغبانی کے لیے اچھا انتخاب ہے اور اسے مناسب مٹی میں جوے لگا کر اگایا جا سکتا ہے۔

اچھی مٹی اور مناسب گملا

کچن گارڈن کی کامیابی کا انحصار بڑی حد تک مٹی کے معیار پر ہوتا ہے۔ ایسی مٹی استعمال کی جائے جو نرم، زرخیز اور پانی کے نکاس کی اچھی صلاحیت رکھتی ہو۔ اگر زمین سخت ہو تو اس میں نامیاتی کھاد یا اچھی طرح گلی سڑی گوبر کی کھاد شامل کی جا سکتی ہے۔گملوں میں سبزیاں اگاتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ گملے کے نچلے حصے میں پانی کے اخراج کے لیے سوراخ ضرور ہوں۔ پانی کھڑا رہنے سے جڑیں خراب ہو سکتی ہیں اور پودا بیماریوں کا شکار ہو سکتا ہے۔گملے کا انتخاب سبزی کے مطابق ہونا چاہیے۔ پالک اور میتھی جیسی پتوں والی سبزیوں کے لیے نسبتاً کم گہرا برتن بھی کافی ہو سکتا ہے جبکہ گاجر اور مولی کے لیے مناسب گہرائی ضروری ہے۔ پلاسٹک کے پرانے ڈبے، لکڑی کے کریٹ یا دیگر محفوظ برتن بھی کچن گارڈن میں استعمال کیے جا سکتے ہیں بشرطیکہ ان میں پانی کے نکاس کا مناسب انتظام ہو۔

دھوپ، پانی اور دیکھ بھال

موسمِ سرما کی زیادہ تر سبزیوں کو روزانہ کئی گھنٹے دھوپ کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے گملوں یا کیاریوں کو ایسی جگہ رکھیں جہاں انہیں مناسب براہِ راست روشنی مل سکے۔ بہت زیادہ سایہ پودوں کی نشوونما کو متاثر کر سکتا ہے۔پانی دیتے وقت بھی احتیاط ضروری ہے۔ روزانہ مقررہ مقدار میں پانی ڈالنے کے بجائے مٹی کی نمی دیکھ کر فیصلہ کریں۔ اگر اوپر سے مٹی خشک محسوس ہو تو پانی دیں لیکن اتنا پانی نہ ڈالیں کہ گملے میں پانی کھڑا ہو جائے۔ سرد موسم میں عموماً پانی کی ضرورت گرم موسم کے مقابلے میں  کم ہو سکتی ہے۔پودوں کی باقاعدگی سے نگرانی بھی ضروری ہے۔ پتوں پر کیڑے، سوراخ، دھبے یا غیر معمولی رنگت نظر  آئے تو فوری توجہ دیں۔ ابتدا ہی میں مسئلے کی نشاندہی ہو جائے تو پودے کو بچانا آسان ہوتا ہے۔ گھر کے باغیچے میں غیر ضروری کیمیائی سپرے سے حتی الامکان گریز کرنا چاہیے اور محفوظ، نامیاتی طریقوں کو ترجیح دینی چاہیے۔

تھوڑی محنت، تازہ سبزی اور صحتمند زندگی

کچن گارڈننگ صرف سبزیاں اگانے کا نام نہیں بلکہ ایک صحت مند طرزِ زندگی کی طرف قدم بھی ہے۔ اپنے ہاتھوں سے اگائی ہوئی سبزیوں کے ذریعے گھر کے افراد کو تازہ پیداوار میسر آ سکتی ہے جبکہ بچوں میں بھی پودوں اور ماحول سے محبت پیدا ہوتی ہے۔کچن گارڈن شروع کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ ایک ہی وقت میں بہت سی سبزیاں کاشت کی جائیں۔ ابتدا میں پالک، میتھی، دھنیا اور مولی جیسی آسان سبزیوں سے آغاز کیا جا سکتا ہے۔ تجربہ بڑھنے کے ساتھ گاجر، شلجم، مٹر اور گوبھی وغیرہ بھی شامل کی جا سکتی ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ دستیاب جگہ، دھوپ، پانی اور وقت کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بنایا جائے۔ بیج یا پنیری خریدنے سے پہلے یہ بھی معلوم کر لیا جائے کہ متعلقہ سبزی کی کاشت کے لیے کون سا وقت اور ماحول زیادہ موزوں ہے۔اگر تھوڑی سی منصوبہ بندی، باقاعدگی اور محنت کو معمول بنا لیا جائے تو چھوٹا سا صحن، چھت یا بالکونی بھی سردیوں میں سبز اور خوبصورت باغیچے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ یوں بازار سے سبزی خریدنے کے ساتھ ساتھ گھر سے تازہ سبزی حاصل کرنے کا خوشگوار تجربہ بھی نصیب ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

اچھی صحت کے لیے کیا کھائیں، کتنا کھائیں ؟

خواتین اور نوجوان لڑکیوں کی صحت کا براہِ راست تعلق ان کی روزمرہ خوراک سے ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر خوراک کا انتخاب ذائقے، سہولت یا خاندانی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے جبکہ جسم کی اصل ضرورت یعنی متوازن غذائیت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

آج کاپکوان:وائٹ چکن ہانڈی

اجزا: چکن :آدھا کلو، پیاز :تین عدد، لہسن کا پیسٹ : آدھا چائے کا چمچ۔ادرک :ایک انچ کا ٹکڑا باریک کٹا ہوا، ہری مرچ باریک کٹی ہوئی: تین عدد،پسی کالی مرچ: آدھا چائے کا چمچ،

ہاجرہ مسر ور اُردو ادب میں نسائی شعور کی اہم نمائندہ

آ ج14ویں برسی:اسلوب میں درد مندی کا جذبہ ان کی تحریر کو اثر پذیری بخشتا ہے : انہوں نے عورت کو محض جذباتی یا ثانوی کردار کے طور پر پیش نہیں بلکہ اپنے افسانوں میں عورت کے مسائل اور اس کی جدوجہد کو نہایت حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا گیا :ہاجرہ مسرور کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنی عبارت میں نادر تشبیہات واستعارات کا استعمال کرکے منظر قاری کے ذہن پر نقش کر دیتی ہیں

فورٹ ولیم کالج،تحریک اور تاریخ

فورٹ ولیم کالج کلکتہ کا قیام اُردو ادب کی تاریخ کا بہت اہم اور بعض حیثیتوں سے اردو نثر کی تاریخ کا سب سے اہم واقعہ ہے۔

پاکستان کرکٹ تاریخ کی بدترین شکست

قومی کرکٹ ٹیم کا دورہ انگلینڈ:ماضی کی بہترین ٹیموں میں شمارگرین شرٹس کی تنزلی، انتظامی زوال اور بوکھلاہٹ طشت ازبام

234رکنی پرعزم قومی دستہ تیار

20ویں ایشین گیمز 2026ء:ایشین گیمز 19 ستمبر سے 4 اکتوبر تک جاپان کے شہر ایچی ناگویا میں منعقد ہوں گی