234رکنی پرعزم قومی دستہ تیار
20ویں ایشین گیمز 2026ء:ایشین گیمز 19 ستمبر سے 4 اکتوبر تک جاپان کے شہر ایچی ناگویا میں منعقد ہوں گی
20 ویں ایشین گیمز 2026 جو جاپان کے شہر ایچی ناگویا میں 19 ستمبر سے 4 اکتوبر تک منعقد ہو رہے ہیں، پاکستان کے کھیلوں کے افق پر ایک نیا امتحان لے کر آئے ہیں۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن (پی او اے)کی سینئر نائب صدر فاطمہ لاکھانی کی قیادت میں روانہ ہونے والا پاکستانی دستہ 23 مختلف کھیلوں کے شعبوں میں پاکستان کی نمائندگی کرے گا۔ اس بار دستے میں جہاں ارشد ندیم اور کشمالہ طلعت جیسے نامور اور عالمی سطح پر داد وصول کرنے والے ایتھلیٹس شامل ہیں، وہیں کرکٹ، ہاکی، والی بال اور سکواش کے کھلاڑیوں سے بھی قوم کو سنہری یادیں تازہ کرنے کی امیدیں وابستہ ہیں۔ حکومت اور پاکستان سپورٹس بورڈ کے تعاون سے اس شرکت کا بنیادی مقصد کھلاڑیوں کو بین الاقوامی نمائندگی فراہم کرنا اور تمغوں کی دوڑ میں پاکستانی پوزیشن کو بہتر بنانا ہے۔
ایشین گیمز میں پاکستان کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اس کا آغاز نہایت شاندار اورباعث فخرتھا۔ 1954ء میں پہلی بار شمولیت سے لے کر 1970ء و 1980ء کی دہائیوں تک پاکستان کا شمار ایشیا کی کھیلوں کی سرکردہ قوتوں میں ہوتا تھا۔ ہاکی میں متعدد بار طلائی تمغے، ایتھلیٹکس میں عبدالخالق اور غلام رازق جیسے ناموں کا دبدبہ اور بعد ازاں سکواش و ریسلنگ میں تسلسل کے ساتھ حاصل کی گئی کامیابیاں اس سنہری دور کی گواہی دیتی ہیں۔ تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر میں کمی، جدید سائنسی تربیت کا فقدان، اور حکومتی و انتظامی سطح پر کھیلوں پر خاطر خواہ توجہ نہ دینے کے باعث میڈلز کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ بالخصوص پچھلی کچھ دہائیوں میں پاکستان کی کارکردگی چند انفرادی درخشندہ ستاروں تک محدود ہو کر رہ گئی تھی، جہاں عمومی ٹیم سپورٹس میں قوم کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس پس منظر میں ایچی ناگویا گیمز 2026ء پاکستان کیلئے محض ایک اور ایونٹ نہیں بلکہ کھیلوں کے میدان میں اپنے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کرنے کا ایک سنہری موقع ہے۔
20 ویں ایشین گیمز 2026ء میں پاکستان کی جانب سے 23 کھیلوں کے مختلف شعبوں میں234رکنی دستہ شرکت کررہا ہے۔ ایتھلیٹکس میں انصار عباس، ارشد ندیم، خولہ عمر خان، محمد یاسر، شجر عباس، نورین حسین اور فائقہ ریاض بطور ایتھلیٹ شامل ہیں، جبکہ ان کی رہنمائی کیلئے سجاد احمد خان، سلمان اقبال بٹ اور سیمی رضوی کو بطور کوچز تعینات کیا گیا ہے۔
بیڈمنٹن کے شعبے میں ماہور شہزاد اور محمد علی لروش پاکستان کی نمائندگی کریں گے جبکہ راجہ اظہر محمود ٹیم لیڈر کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
باکسنگ میں فاطمہ زہرا، عرفان خان، ماریا اور سمامہ رحمان رنگ میں اتریں گے، جن کے ساتھ محمد طارق اور محمد لیاقت بطور کوچز اور محمد ناصر اعجاز تنگ بطور ٹیم لیڈر جاپان جائیں گے۔
کرکٹ کے میدان میں مردوں اور خواتین دونوں کی ٹیمیں ایک مضبوط آفیشل اسٹاف کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہیں۔
ایکوسٹرین(شہسواری)میں عثمان خان بطور ایتھلیٹ حصہ لے رہے ہیں۔ای اسپورٹس میں فلک شیر میمن، حسنین رحمان، محمد حذیفہ، شایان اسد، سید سمیر، عدیل احمد، احمد شاہد اور عاطف اعجاز بحیثیت کھلاڑی اور عثمان طارق بطور کوچ شامل ہیں۔ فینسنگ(تلوار بازی)میں عبدالمنعم، باریال خان، محمد نعمان اعجاز، محمد وقاص اور محمد یاسین خان ایکشن میں ہوں گے۔ ہاکی اور کبڈی کی ٹیمیں بھی میڈل کیلئے کاوش کریں گی۔ مکسڈ مارشل آرٹس میں عاصم خان، روئنگ میں اسد اقبال جبکہ سیلنگ میں محبوب، مزمل حسن اور نادین زرقس آواری پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔شوٹنگ میں غلام مصطفی بشیر، امام ہارون، کشمالہ طلعت، محمد فرخ ندیم، محمد شبیر، محمد عمر فاروق، محمد عظمان، عثمان چاند اور رابعہ کبیر شامل ہیں۔سافٹ ٹینس کے مقابلے میں فزہ علی، حمزہ احمد سعید آرائیں، حسین احمد سعید آرائیں، کائنات ذوالفقار شلوانی، محمد علی، محمد ریان خان، رافع بشیر، سبرینا خان، سیدہ ایراج بتول زیدی اور سیدہ تحریم نوشاد اتریں گے۔دیگر جن کھیلوں میں پاکستان نمائندگی کرے گاان میں سکواش ، سوئمنگ ، ٹیبل ٹینس، تائیکوانڈو، ٹینس،ٹرائیتھلون، والی بال، ریسلنگ اور ووشو شامل ہیں۔
ایشین گیمز کی مجموعی تاریخ اور ماضی کی ناکامیوں سے سبق سیکھتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ اس ایونٹ کے بعد بھی کھلاڑیوں کی طویل المیعاد تربیت کا سلسلہ منقطع نہ ہو۔ اگر پاکستان ان 23 کھیلوں میں مسابقتی روح، نظم و ضبط اور جدید تکنیک کو بروئے کار لانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو ناگویا گیمز نہ صرف پاکستانی کھیلوں کا ایک نیا باب ثابت ہوں گے بلکہ ماضی کے گرتے ہوئے گراف کو ایک بار پھر بلندی کی طرف موڑنے کی بنیاد رکھیں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments