ٹیکنالوجی کے دور میں خواتین کے لیے سنہری مواقع

تحریر : روبینہ شاہد


دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور آن لائن معیشت نے روزگار اور کاروبار کے روایتی تصورات کو تبدیل کر دیا ہے۔

 آنے والے برسوں میں وہی شعبے زیادہ اہمیت اختیار کریں گے جو ٹیکنالوجی، تخلیقی صلاحیت، تحقیق اور انسانی ضروریات سے جڑے ہوئے ہیں۔ خواتین کے لیے یہ تبدیلی ایک بڑا موقع ہے کیونکہ اب کامیاب کیریئر کے لیے صرف روایتی شعبوں تک محدود رہنے کی ضرورت نہیں۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں خواتین تعلیم، کاروبار، طب، ٹیکنالوجی، سائنس اور انتظامی شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ اگر نوجوان لڑکیاں مستقبل کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے تعلیمی شعبے کا انتخاب کریں تو نہ صرف مضبوط کیریئر بنا سکتی ہیں بلکہ معاشی طور پر خودمختار بھی ہو سکتی ہیں۔

مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی

مستقبل کے سب سے اہم شعبوں میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی سرفہرست ہے۔ چیٹ بوٹس، خودکار نظام، روبوٹکس، ڈیٹا اینالیٹکس اور مشین لرننگ کاروبار، تعلیم، طب اور صنعت کا حصہ بن چکے ہیں۔ آنے والے برسوں میں ان شعبوں کی طلب مزید بڑھنے کا امکان ہے۔خواتین کے لیے کمپیوٹر سائنس، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ڈیٹا سائنس، سائبر سکیورٹی، مشین لرننگ اور اے آئی سے متعلق شعبے بہترین مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر سائبر سکیورٹی ایک ایسا میدان ہے جہاں دنیا بھر میں ماہر افراد کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔اس شعبے کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ بہت سے ٹیکنالوجی کے کام گھر سے یا ریموٹ بنیادوں پر کیے جا سکتے ہیں۔ اس طرح خواتین اپنی پیشہ ورانہ زندگی اور گھریلو ذمہ داریوں میں بہتر توازن قائم کر سکتی ہیں۔

میڈیکل اور ہیلتھ کیئر

صحت کا شعبہ ایسا میدان ہے جس کی اہمیت مستقبل میں بھی کم نہیں ہوگی۔ دنیا کی آبادی میں اضافہ، عمر رسیدہ افراد کی تعداد میں بڑھوتری اور نئی بیماریوں کی تشخیص نے طبی ماہرین کی ضرورت مزید بڑھا دی ہے۔ خواتین ڈاکٹر، سرجن، فارماسسٹ، نرس، فزیوتھراپسٹ، نیوٹریشنسٹ، سائیکالوجسٹ اور میڈیکل ریسرچر کے طور پر کامیاب کیریئر بنا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیلی میڈیسن اور ڈیجیٹل ہیلتھ جیسے شعبے بھی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ جو طالبات سائنس اور بائیولوجی میں دلچسپی رکھتی ہیں ان کیلئے ہیلتھ کیئر ایک مضبوط اور باوقار انتخاب ہو سکتا ہے۔

ڈیٹا سائنس اور سائبر سکیورٹی

آج ہر ادارہ بڑی مقدار میں ڈیٹا جمع کر رہا ہے۔ کمپنیوں، بینکوں، ہسپتالوں اور حکومتوں کو ایسے ماہرین کی ضرورت ہے جو اس ڈیٹا کو سمجھ  کر بہتر فیصلے کرنے میں مدد دے سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیٹا سائنس، ڈیٹا اینالیٹکس اور بزنس انٹیلی جنس مستقبل کے اہم شعبوں میں شمار ہوتے ہیں۔اسی طرح آن لائن فراڈ، ہیکنگ اور ڈیٹا چوری کے بڑھتے ہوئے خطرات نے سائبر سکیورٹی کو انتہائی اہم بنا دیا ہے۔ خواتین اس شعبے میں سائبر سکیورٹی اینالسٹ، سکیورٹی انجینئر یا ڈیجیٹل فارنزکس سپیشلسٹ کے طور پر کام کر سکتی ہیں۔یہ شعبے ان طالبات کے لیے خاص طور پر موزوں ہیں جنہیں ریاضی، کمپیوٹر اور مسائل حل کرنے میں دلچسپی ہو۔

ماحولیات اور گرین انرجی

موسمیاتی تبدیلی دنیا کے بڑے چیلنجز میں شامل ہے۔خواتین ماحولیاتی سائنس، ری نیو ایبل انرجی، ماحولیاتی انجینئرنگ، موسمیاتی تحقیق اور پائیدار ترقی میں اپنا کیریئر بنا سکتی ہیں۔ یہ شعبہ ان خواتین کے لیے بہترین ہے جو سائنس کے ساتھ ساتھ ماحول اور معاشرے کے مسائل حل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

فنانس، فن ٹیک اور آن لائن کاروبار

مالیاتی دنیا بھی تیزی سے ڈیجیٹل ہو رہی ہے۔ موبائل بینکنگ، آن لائن ادائیگیوں، ڈیجیٹل والٹس اور فن ٹیک نے مالیاتی شعبے کی شکل بدل دی ہے۔ مستقبل میں مالیاتی ٹیکنالوجی، اکاؤنٹنگ، سرمایہ کاری کے تجزیے اور ڈیجیٹل بینکنگ میں نئی ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔خواتین اس شعبے میں ملازمت کے ساتھ اپنا کاروبار بھی شروع کر سکتی ہیں۔ ای کامرس، آن لائن سٹورز، ڈیجیٹل برانڈز اور سوشل میڈیا کے ذریعے مصنوعات فروخت کرنے کے مواقع پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔

تخلیقی شعبے اور ڈیجیٹل میڈیا

مستقبل صرف سائنس اور ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ تخلیقی صلاحیتوں کا بھی ہے۔ گرافک ڈیزائن، ویڈیو پروڈکشن، اینیمیشن، یو ایکس؍یو آئی ڈیزائن، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور سوشل میڈیا مینجمنٹ میں بھی وسیع مواقع موجود ہیں۔ان شعبوں میں کامیابی کے لیے روایتی ڈگری کے ساتھ تخلیقی صلاحیت اور جدید سافٹ ویئر زکا استعمال زیادہ اہم ہے۔ خواتین گھر بیٹھے فری لانسنگ کے ذریعے عالمی مارکیٹ میں بھی کام حاصل کر سکتی ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

گرین شرٹس کی طلائی تمغے سے محرومی

20ویں ایشین گیمز 2026ء جاپان:2 چاندی اور 8 کانسی کے تمغوں کے ساتھ پاکستان 10 میڈلز حاصل کر کے 29 ویں نمبر پر رہا:2022ء میں پاکستان 3میڈلز کے ساتھ 31ویں نمبر پر تھا، اس بار رینکنگ میں دو درجے بہتری آئی: ایشین گیمز میں پاکستان نے والی بال میں 1962ء کے بعد پہلی مرتبہ کوئی تمغہ حاصل کیا

قطرہ قطرہ زندگی

نوشین اور اس کا چھوٹا بھائی ارتضیٰ دونوں صحن میں لگے نل کے پاس کھڑے تھے۔ ارتضیٰ دانت برش کر رہا تھا اور نلکا پوری طرح کھلا ہوا تھا۔ پانی تیزی سے بہہ کر نالی میں ضائع ہو رہا تھا۔

گنیز بک 2027ء میں شامل دنیا کے ہونہار بچے!

بڑی ٹیبل کا ننھا کھلاڑی:جوڈ اوونز

عیادت

ارے ، یہ کیا ہو رہا ہے ؟ بیمار شخص نے گھبرا کر بستر سے اُٹھتے ہوئے کہا۔ ایک موٹے سے لڑکے نے اپنے بازوں کو پھیلا کر جواب دیا : چچا جان ! ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔ ہم آپ کی عیادت کیلئے آئے ہیں ۔

ماں ہماری وقار ہستی ہے

ماں ہماری وقار ہستی ہے،ان کے دم سے بہارِ ہستی ہے

نصیحت آموز باتیں

٭…زبان کی حفاظت کرو، بہت سے فتنے خود ختم ہوجائیں گے۔