بڑی جماعتیں نئے صوبوں سے گریزاں کیوں؟

تحریر : سلمان غنی


سیاسی جماعتوں کی جانب سے نئے صوبوں کی تشکیل بارے تحفظات کے باوجود اراکینِ اسمبلی اس حوالہ سے پس پردہ تیاریوں کے سگنلز کی تصدیق کرتے نظر آ رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعتوں کا مؤقف اپنی جگہ لیکن یہ نظر آ رہا ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل ان کے روکنے سے نہیں رکنے والی۔

 البتہ یہ کہا جاتا ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل بارے وسیع سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت ہے اور سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر ہی پیش رفت ہو تو یہ عمل نتیجہ خیز ہوگا، محض عددی اکثریت سے منظور ہونے والی ترمیم مستقبل میں سیاسی تنازع کا باعث بن سکتی ہے۔ اس آئینی ترمیم کیلئے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی چنانچہ حکومتی اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنے کا عمل ہی مثبت پیش رفت کا باعث بن سکتا ہے۔ پیپلزپارٹی تو صوبوں کی تقسیم کے حوالہ سے واضح لکیر کھینچ چکی ہے البتہ مسلم لیگ (ن) کے اندر یہ سوچ موجود ہے کہ ہمیں ایسے کسی عمل کو انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے گورننس کو بنیاد بناتے ہوئے آگے بڑھنا چاہئے۔ اس ضمن میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہاہے کہ یاتو ملک بھر میں 160مؤثر ضلعی حکومتیں عمل میں آنی چاہئیں اور یا پھر ملک میں پندرہ صوبے بنائے جانے چاہئیں، موجودہ دو سطحی حکومتی ڈھانچہ سماجی اشاریوں کو بہتر بنانے میں ناکام ہو چکا ہے۔ وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کی جمہوریت اجارہ دارانہ بن چکی ہے کیونکہ 26کروڑ آبادی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے 1170سرکاری دفاتر موجود ہیں، جب تک مقامی حکومتوں کے ذریعہ ڈیڑھ سے دو لاکھ سرکاری دفاتر قائم نہ ہوئے عوامی مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ بعض دیگر اہم وزرا بھی سسٹم کی ناکامی کا ذکر کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اس صورتحال میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ حکومتی عہدیدار خود حکومت پر دبائو بڑھا رہے ہیں بلکہ بعض تو آنے والے چند ہفتوں کو حکومت کے مستقبل کے حوالہ سے اہم بھی قرار دے رہے ہیں۔ اگر اس عمل کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو بنیادی مقصد اہم معاملات میں تبدیلی کا ہے۔ فیصلہ ساز سمجھتے ہیں کہ سسٹم پر عوامی اعتماد متاثر ہو رہا ہے، معاشی اشارے بہتر ہونے کے باوجود عوام مسائل زدہ، مہنگائی زدہ ہیں اور سلگتے مسائل کے حل کیلئے پیش رفت نہیں ہو رہی۔اس طرح کیسے آگے بڑھا جا سکے گا؟

اس صورتحال میں مسلم لیگ( ن) اور وزیراعظم شہبازشریف کا کردار اہم ہوگا۔ واقفانِ حال تو یہ کہتے ہیں کہ حکومت نئے صوبوں کی تشکیل کے عمل میں رکاوٹ نہیں بننا چاہتی لیکن اس فیصلہ میں بڑا کردار مسلم لیگ (ن) کے لیڈر نوازشریف کا ہوگا اور ایسی اطلاعات ہیں کہ وہ فی الحال اس پر لب کشائی کیلئے تیار نہیں اور انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل کے عمل بارے فیصلہ ساز یکسو اور سنجیدہ ہیں اور اب یہ عمل روکے رکتا نظر نہیں آ رہا۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ جماعتیں اور ان کے اراکین تو صوبوں کی تقسیم کی ضرورت اور اہمیت کو محسوس کرتے ہیں لیکن پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ( ن) کی لیڈر شپ نئے صوبوں کی تشکیل کے عمل کو اختیارات کی تقسیم کی بجائے اپنی سیاست پر کڑا وار سمجھ رہی ہے، مگر سیاسی جماعتوں نے اس عمل میں رکاوٹ بننے کی کوشش کی تو یہ سیاسی اور حکومتی محاذ پر اَپ سیٹ کا باعث بن سکتا ہے، جس وجہ سے حکومتی اور سیاسی قیادتیں پریشان ہیں۔

ادھرپنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیلئے تیاریاں شروع ہیں اور غیر محسوس انداز میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی سمیت سبھی سیاسی جماعتیں انتخابی عمل میں حصہ لینے کی تیاریاں شروع کئے ہوئے ہیں۔ پنجاب کے وزیر بلدیات ذیشان رفیق کے مطابق بلدیاتی انتخابات بلدیاتی ایکٹ 2025ء کے تحت ہوں گے، لیکن ایکٹ بلدیاتی انتخابات کے بعد مکمل فعال ہوگا۔ بلدیاتی ایکٹ میں عمر اور تعلیم کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی البتہ نوجوانوں کی عمر کے حوالہ سے قانون کے مطابق حد مقرر ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے اور بلدیاتی انتخابات کی حتمی تاریخ اور شیڈول کا اعلان الیکشن کمیشن کرے گا۔بلدیاتی انتخابات وقت کی ضرورت ہیں اور بلدیاتی سسٹم کے ذریعہ مقامی سطح پر سلگتے مسائل کا حل ہوگا۔ حکومت پنجاب بلدیاتی انتخابات کے حوالہ سے بظاہر سنجیدہ ہے۔ حکومت نے اپنی تیاریوں کی تکمیل کے بعد الیکشن کمیشن کو اطلاع کرنا ہے اور الیکشن کمیشن 15دسمبر اور 15 جنوری کے درمیان کسی بھی وقت انتخابات کا اعلان کر سکتا ہے۔ پنجاب میں کئی برسوں سے مقامی حکومتوں کے انتخابات کا انعقاد نہ ہو سکا اور بار بار حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود انتخابات نہ ہونا حکومت کیلئے چیلنج بن گیا تھا۔ پنجاب حکومت نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالہ سے وفاق سے فنڈز کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا ہے لیکن وفاق کو در پیش مالی مسائل کے باعث یہ تو ممکن نظر نہیں آ رہا اور پنجاب حکومت کو بجٹ میں مختص کئے جانے والے فنڈز پر ہی اکتفا کرنا ہوگا۔ ایک عام تاثر یہ ہے کہ اب ملک میں نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالہ سے آنے والے دبائو کے بعد پنجاب نے بلدیاتی انتخابات میں سنجیدگی ظاہر کی ہے اور تیاریاں شروع کر رکھی ہیں اور پنجاب میں بلدیاتی اداروں کے انتخابات کا انعقاد اب خود ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے، لہٰذا اب دیکھنا ہوگا کہ حکومت پنجاب کب اپنا مکمل شیڈول اور ہوم ورک الیکشن کمیشن کو جمع کرواتی ہے اور کب الیکشن کمیشن اس کو منظوری کے بعد شیڈول جاری کرتا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے عمل سے ایک مرتبہ پھر سیاسی جماعتیں یہ معرکہ سر کرنے کیلئے متحرک ہوں گی اور یہ عمل جمہوریت اور سیاست کے حوالہ سے نچلی سطح پر عوامی مسائل کے حل کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر کے نو منتخب وزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی حالیہ دنوں جاتی عمرہ آئے جہاں ان کی اپنی جماعت کی لیڈر شپ، میاں نوازشریف، وزیراعظم شہبازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے ملاقات ہوئی۔ پارٹی سربراہ نوازشریف نے انہیں ہدایت کی کہ جس منشور اور پروگرام کے لیے ان کا انتخاب عمل میں آیا ہے اس پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آ گیا ہے۔ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کی لاہور میں سینئر اخبار نویسوں اور اینکرز پرسنز سے ہونے والی گفتگو سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ آزاد کشمیر کے حالات میں بہتری، عوامی مسائل کے حل اور سیاسی ٹھہرائو قائم کرنے کا عزم رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کشمیر کے محاذ پر ریاستی مفادات کے تحفظ کیلئے پیپلزپارٹی بھی ان کے ساتھ ہوگی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

کیا شہر اقتدار میں سب اچھا ہے؟

باتیں ہونے لگی ہیں کہ سب اچھا نہیں ہے۔شہرِ اقتدار میں ایک عجیب سی خاموشی ہے۔ حکومت کی بڑی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے تیور کچھ بدلے بدلے دکھائی دے رہے ہیں اور اس نے اُکھڑی اُکھڑی باتیں کرنا شروع کر دی ہیں۔

سندھ میں نئے صوبوں کی بحث، سیاسی محاذ گرم

نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کے مطالبہ پر سندھ میں سیاسی ماحول آج کل گرم ہے۔ صوبائی اسمبلی میں بحث کے دوران وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہاکہ سندھ ایک تھا اور رہے گا۔

تلخیاں آسانی سے ختم ہونے والی نہیں

27ستمبر کا جلسہ اور ایک دن کا خرچہ 45 کروڑ روپے اور اس کے بعد یومیہ خرچہ تقریبا ڈیڑھ کروڑ روپے، یہ ہے اس لانگ مارچ پر آنے والے اخراجات کا ابتدائی تخمینہ جو پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر کی جانب سے پیش کیاگیا ہے۔

بلوچستان میں پائیدار امن کی بنیاد

بلوچستان کے مسائل کا پائیدار حل ریاستی رٹ، مؤثر حکمرانی، سیاسی مکالمہ اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔

آزاد جموں و کشمیر کی نئی حکومت سے امیدیں

آزاد جموں و کشمیر میں بیرسٹر افتخار گیلانی نے 17 ویں وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا لیاہے۔ تقریبِ حلف برداری میں وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ، وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور امیر مقام کے فرزند ڈاکٹر عباد نے بھی شرکت کی۔

خواتین کا سماجی و معاشی کردار تبدیلی ناگزیر ہے

کسی بھی معاشرے کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں خواتین کو کس قدر بااختیار، محفوظ اور فعال کردار ادا کرنے کے مواقع حاصل ہیں۔