آج کا پکوان:حیدرآبادی بریانی
اجزا: چکن : ایک کلو ۔دہی :ایک کپ۔ادرک لہسن پیسٹ : دو چمچ۔ہری مرچ پیسٹ :ایک چمچ۔لیمن جوس:دو چمچ۔لال مرچ پاؤڈر :ایک چمچ۔دھنیا پاؤڈر ایک چمچ۔زیرہ پاؤڈر: ایکچمچ۔گرم مصالحہ پاؤڈر: ایک چمچ۔
نمک : حسبِ ذائقہ۔باسمتی چاول: 750 گرام۔پانی : حسبِ ضرورت۔دار چینی : دو ٹکڑے۔لونگ :دو عدد۔تیز پات: چار عدد۔الائچی :چار عدد۔زیرہ :ایک چائے کا چمچ۔پیاز :دوبڑی، باریک کٹی ہوئی۔گھی: آدھاکپ۔زردہ رنگ :ایک چوتھائی چائے کا چمچ۔کیوڑا : ایک چمچ۔پودینہ:ایک چوتھائی کپ۔ہرا دھنیا: ایک چوتھائی کپ۔دودھ :آدھاکپ۔
ترکیب: تمام میرینیٹ کرنے والے اجزاکو چکن کے ساتھ اچھی طرح مکس کریں اور تقریباً دو گھنٹے کے لیے رکھ دیں۔چاولوں کو تقریباً 30 منٹ بھگو دیں۔ پھر پانی میں نمک، دار چینی، لونگ، تیز پات، الائچی اور زیرہ ڈال کر چاول ابالیں۔ چاول تقریباً 70فیصد گلنے پر چھان لیں۔اب ایک بڑے برتن میں میرینیٹ کیا ہوا چکن ڈال کر پکائیں۔ چکن کو اس وقت تک پکائیں جب تک وہ تقریباً گل جائے اور مصالحہ اچھی طرح بھن جائے۔چکن کے اوپر آدھے چاول ڈالیں، پھر تلی ہوئی پیاز، پودینہ، ہرا دھنیا اور دیگر اجزاکی تہہ لگائیں۔ اس کے بعد باقی چاول ڈال دیں۔زردہ رنگ کو گرم دودھ میں ملا کر چاولوں پر ڈالیں۔ کیوڑا اور چند قطرے لیموں بھی شامل کریں۔برتن کو اچھی طرح ڈھک کر پہلے ہلکی آنچ پر تقریباً 20،25 منٹ دم دیں۔دم کے بعد چاولوں کو ہلکے ہاتھ سے مکس کریں اور گرم گرم بریانی پیش کریں۔
کھجور کا حلوہ
اجزا:نرم کھجوریں: آدھا کلو گرام (گٹھلی نکلی ہوئی)دیسی گھی: آدھا کپ۔ دودھ: ایک سے دو کپ (کھجوریں بھگونے یا پیسنے کے لیے)کھویا: آدھا کپ۔ ڈرائی فروٹ: بادام، پستہ، کاجو (حسب ضرورت) الائچی پاؤڈر: آدھا چھوٹا چمچ۔
ترکیب: کھجوروں کی گٹھلیاں نکال کر انہیں صاف کر لیں۔ اگر کھجوریں سخت ہوں تو انہیں ایک گھنٹے کے لیے گرم دودھ میں بھگو دیں۔ اب کھجوروں کو بلینڈر میں ڈال کر پیس لیں تاکہ نرم پیسٹ بن جائے۔کڑاہی میں دیسی گھی گرم کریں اور اس میں الائچی پاؤڈر ڈالیں۔ گھی میں کھجور کا پیسٹ شامل کریں اور ہلکی آنچ پر چمچ چلاتے ہوئے اچھی طرح بھونیں۔ جب حلوہ گھی چھوڑنے لگے تو اس میں کھویا اور آدھے خشک میوہ جات ڈال کر مزید پانچ منٹ بھونیں۔ گرما گرم کھجور کا حلوہ ڈش میں نکالیں اور باقی میوہ جات سے سجا کر پیش کریں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments