خشک موسم اور جلد کے مسائل
موسم میں تبدیلی کا اثر صرف ہمارے لباس، خوراک اور روزمرہ معمولات پر نہیں پڑتا بلکہ ہماری جلد بھی اس تبدیلی سے متاثر ہوتی ہے۔
خاص طور پر خشک موسم میں ہوا میں نمی کی مقدار کم ہونے کی وجہ سے جلد اپنی قدرتی نمی کھونے لگتی ہے۔ نتیجتاً جلد خشک، کھردری اور بے رونق محسوس ہونے لگتی ہے۔ بعض افراد کو اس دوران شدید خارش، سرخی، جلد کا چھلکنا یا ہاتھوں اور پاؤں کی جلد پھٹنے کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔خشک موسم میں جلد کے مسائل ہر عمر کے افراد کو متاثر کر سکتے ہیں تاہم حساس جلد رکھنے والے افراد میں یہ مسئلہ زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے۔ مناسب احتیاط اور روزمرہ معمولات میں معمولی تبدیلیاں کرکے جلد کو خشک ہونے اور خراب ہونے سے کافی حد تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
خشک موسم جلد کو کیسے متاثر کرتا ہے؟
جلد کے اوپر ایک قدرتی حفاظتی تہہ موجود ہوتی ہے جو نمی کو برقرار رکھنے اور بیرونی عوامل سے جلد کی حفاظت میں مدد دیتی ہے۔ خشک اور سرد ہوا اس قدرتی نمی کو کم کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بہت گرم پانی سے نہانا، بار بار صابن استعمال کرنا اور ایسے سکن کیئر پراڈکٹس استعمال کرنا جن میں سخت کیمیکلز یا زیادہ خوشبو شامل ہو، جلد کی خشکی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔خشک جلد میں عموماً کھنچاؤ محسوس ہوتا ہے، خاص طور پر چہرہ دھونے یا نہانے کے بعد۔ جلد پر باریک سفید چھلکے نظر آ سکتے ہیں اور بعض اوقات خارش بھی شروع ہو جاتی ہے۔ اگر خشکی زیادہ بڑھ جائے تو جلد میں چھوٹی دراڑیں پڑ سکتی ہیں، جن سے تکلیف اور جلن محسوس ہوتی ہے۔
خشک جلد کی علامات اور مسائل
خشک موسم میں سب سے عام مسئلہ جلد کا خشک اور کھردرا ہونا ہے۔ ہاتھ، بازو، ایڑیاں اور چہرہ اس سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ ہونٹ بھی خشک ہو کر پھٹنے لگتے ہیں۔ بعض افراد میں جلد سرخ ہو جاتی ہے یا خارش کی وجہ سے بار بار کھجانے سے مزید حساس ہو جاتی ہے۔جن افراد کو پہلے سے ایکزیما یا جلد کی حساسیت کا مسئلہ ہو، ان میں خشک موسم علامات کو زیادہ نمایاں کر سکتا ہے۔ مسلسل خارش اور جلد کا پھٹنا روزمرہ کاموں میں بھی پریشانی پیدا کر سکتا ہے۔ اگر جلد پر زخم بن جائیں، شدید سوجن ہو، پیپ آئے یا مسئلہ مسلسل بڑھتا رہے تو خود سے علاج کرنے کے بجائے ماہرِ جلد سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔
جلد کو خشک ہونے سے کیسے بچائیں؟
خشک موسم میں جلد کی حفاظت کے لیے سب سے اہم قدم مناسب موئسچرائزنگ ہے۔ نہانے یا ہاتھ دھونے کے فوراً بعد موئسچرائزر لگانے سے جلد میں نمی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ بہت خشک جلد کے لیے ہلکی لوشن کے بجائے نسبتاً گاڑھی کریم یا پٹرولیم جیلی زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے۔نہانے کے لیے بہت گرم پانی استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ گرم پانی جلد کی قدرتی چکنائی کو کم کر سکتا ہے۔ نیم گرم پانی بہتر انتخاب ہے۔ اسی طرح خوشبو دار یا سخت صابن کا استعمال کم کرنا چاہیے خصوصاً اگر جلد پہلے ہی خشک یا حساس ہو۔ہونٹوں کی حفاظت کے لیے باقاعدگی سے لپ بام یا پٹرولیم جیلی استعمال کی جا سکتی ہے۔ ہاتھوں کو بار بار دھونا ضروری ہو تو ہر مرتبہ دھونے کے بعد موئسچرائزر لگانے کی عادت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
روزمرہ احتیاطیں
خشک موسم میں مناسب پانی پینا، متوازن غذا اور جلد کو غیر ضروری طور پر رگڑنے سے گریز کرنا بھی اہم ہے۔ گھر یا دفتر میں اگر ہوا بہت خشک ہو تو humidifier استعمال کرنے سے ماحول میں نمی بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ سردی میں دھوپ اور ہوا سے جلد کی حفاظت کے لیے مناسب لباس اور دیگر حفاظتی اقدامات بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں۔یہ بات بھی اہم ہے کہ ہر قسم کی خارش یا خشکی صرف موسم کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ بعض اوقات الرجی، ایکزیما، فنگل انفیکشن یا دیگر جلدی مسائل بھی ایسی علامات پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر خشکی اور خارش کئی ہفتوں تک برقرار رہے، جلد پر شدید سرخی یا سوجن ہو، زخم بننے لگیں یا معمول کے موئسچرائزر سے افاقہ نہ ہو تو ماہرِ جلد سے معائنہ کروانا چاہیے۔خشک موسم میں جلد کی صحت برقرار رکھنے کے لیے مہنگی مصنوعات سے زیادہ اہم مستقل اور مناسب دیکھ بھال ہے۔ نیم گرم پانی، نرم صفائی، باقاعدہ موئسچرائزنگ اور جلد کو خشک ماحول سے بچانے کی کوششیں جلد کو نرم، صحت مند اور آرام دہ رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments