بھیک نہیں، محنت انسان کا وقار
’’اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے‘‘(صحیح بخاری ) ’’جو شخص اپنی پیٹھ پر لکڑی کا گٹھا لاد کر لائے اور اسے بیچ کر اپنی آبرو بچائے تویہ اس سے بہترہے کہ وہ لوگوں سے سوال کرے‘‘ (صحیح بخاری)
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے یہ اپنے ماننے والوں کو تن آسان نہیں بناتا کیونکہ اس میں عمل کی بڑی اہمیت ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے خود عمل بھی کیا، کام بھی کیا اور عمل اور محنت کر کے کسب حلال کا حکم بھی فرمایا۔ حضور پاک ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص لکڑی کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے اور اپنی آبرو بچائے تو یہ اس شخص سے بہتر ہے جو کسی کے سامنے دست سوال دراز کرے۔
ایک دفعہ ایک انصاری صحابی حضور پاکﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے کچھ مانگا، آپﷺ نے فرمایا تمہارے پا س کچھ ہے انھوں نے کہا صرف ایک بچھونا ہے جسے آدھا نیچے بچھاتا ہوں اور آدھا اوپر اوڑھ لیتا ہوں اور ایک پانی کا پیالہ ہے۔ آپﷺ نے فرمایا دونوں چیزیں لے آؤ وہ جب دونوں چیزیں لے کر آیا تو آپ ﷺ نے صحابہ کرامؓ سے پوچھا کہ یہ چیزیں کون خریدتا ہے؟ ایک صحابیؓ نے دو درہم قیمت پیش کی۔ آپ ﷺ نے یہ چیزیں اس کو دے دیں اور دو درھم انصاری کو دے کر کہا کہ ایک درھم کا سودا خرید کر گھر دے دو اور ایک درہم کا رسہ اور کلہاڑی خرید کر جنگل سے لکڑیاں لاؤ اور شہر میں فروخت کرو۔ پندرہ دن کے بعد وہ انصاری پھر حاضر ہوئے تو ان کے پاس دس درھم تھے اور وہ بہت خوش تھے۔ حضور پاک ﷺ نے فرمایا کہ یہ حالت اچھی ہے یا قیامت کے دن چہرے پر گدائی کا داغ لے کر آتے تو اچھا ہوتا۔
اس کے علاوہ حضور پاک ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے‘‘ یعنی دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔
اسلام، حکم الہٰی کے مطابق کار زار حیات میں بھرپور حصہ لینے کا نام ہے۔ کسی بھی صحت مند شخص کو اجازت نہیں کہ وہ در بدر دست سوال دراز کرے، یا بیٹھا کسی کی کمائی کھاتا رہے۔
حضور اکرم ﷺ کی کرم فرمائی اگرچہ ہر مسائل پر ہمہ وقت رہتی تھی مگر آپﷺ کو یہ بات ہرگز پسند نہ تھی کہ کوئی گداگر بنے۔ آپﷺ گدائی کو سخت ناپسند فرماتے تھے۔ آپﷺ فرماتے تھے کہ ’’جو شخص اپنی پیٹھ پر لکڑی کا گٹھا لاد کر لائے اور اسے بیچ کر اپنی آبرو بچائے تویہ اس سے بہترہے کہ وہ لوگوں سے سوال کرے‘‘ (صحیح بخاری)۔
حضرت عمر فاروقؓ کا معمول تھا کہ آپؓ کسی کو خوشحال دیکھتے تو اس کے پیشے کے بارے میں استفسار کرتے تھے۔ جب لوگ کہتے کہ کوئی کام نہیں کرتا، تو آپؓ سخت برا مناتے اور کہتے کہ آج یہ شخص میری نظروں سے گر گیا ہے۔ آپ ؓ فرماتے تھے کہ ’’کوئی (پیشہ کم تر نہیں لیکن )کمزور سے کمزور پیشہ بھی لوگوں سے سوال کرنے سے بہتر ہے‘‘(صحیح بخاری)
ایک مرتبہ اللہ کے رسولﷺ ایک محفل میں جلوہ فرما تھے کہ صحابہ کرامؓ آپﷺ کے گرد ہالہ کئے ہوئے تھے۔ ایک صحابی نے عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ! میرے پیشے کے متعلق کیا ارشاد ہے اچھا ہے یا برا؟آپ ﷺ نے پوچھا تم کیا کرتے ہو اس نے عرض کیا درزی ہوں؟ فرمایا اگر تم دیانت امانت سے کام کرو تو یہ پیشہ ازحد بزرگ ہے، قیامت کے دن ادریس علیہ السلام کی معیت میں جنت میں جاؤ گے۔ دوسرے صحابی نے پوچھا! اے اللہ کے رسول کریم ﷺ! میں معمار ہوں، میرا پیشہ کیسا ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ پیشہ بڑا مبارک اور نفع بخش ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام یہی کام کرتے تھے، قیامت کے دن تم ان کے ساتھ جنت میں جاؤ گے۔ ایک اور صحابیؓ نے عرض کی حضورﷺ میں معلم ہوں، میرے پیشے کے متعلق آپ ﷺکا کیا ارشاد گرامی ہے، آپﷺ نے فرمایا کہ تمہارا پیشہ اللہ کو بہت پسند ہے، بشرط کہ خلوص نیت کے ساتھ لوگوں کو پندو نصیحت کرتے رہو۔ ایک اور صحابیؓ نے عر ض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ سوداگری کے متعلق بھی فرمائیے، آپ ﷺنے فرمایا اگر صدق و راستی سے کاروبار کرو تو قیامت کے دن میری معیت نصیب ہوگی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments