فورٹ ولیم کالج،تحریک اور تاریخ
فورٹ ولیم کالج کلکتہ کا قیام اُردو ادب کی تاریخ کا بہت اہم اور بعض حیثیتوں سے اردو نثر کی تاریخ کا سب سے اہم واقعہ ہے۔
اس کا لج کے قیام سے چند ایسے وسائل وجود میں آئے جن سے اردو زبان کی اشاعت و توسیع کی رفتار میں بھی تیزی آئی اور اس کے نثری ادب کی ترقی کے لیے بھی نئی راہیں کھلیں۔ گو انگریزوں نے یہ کالج بعض انتظامی مصلحتوں اور سہولتوں کی غرض سے قائم کیا تھا لیکن حاکمانہ مصلحت بینی نے بالواسطہ اردو زبان اور ادب کو بڑا فائدہ پہنچایا اور اس کالج کے زیر اہتمام اُردو کی جوتالیفات اور تصنیفات ہوئیں انہوں نے اُردو ادب اور خصوصاً اُردو نثر کے مستقبل پر بہت گہراثر ڈالا۔
کالج کے قیام کا پس منتظر یہ ہے کہ 1798ء میں جب لارڈ ولزلی ہندوستان کے گورنر جنرل مقرر ہو کر آئے اور انہوں نے ملک کے نظم و نسق کا بغور جائزہ لیا تو اس نتیجے پر پہنچے کہ انگلستان سے جو نوجوان کمپنی کے مختلف شعبوں میں کام کرنے کے لیے آتے ہیں وہ کسی باقاعدہ اور منظم تربیت کے بغیر اچھے کارکن نہیں بن سکتے۔اس مقصد کے حصول کے لیے لارڈ ولزلی نے کمپنی کے سامنے ایک کالج قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔ اس تجویز کے مطابق وہ اس کا لج کو اعلیٰ تعلیم کی ایک ایسی درسگا ہ بنانا چاہتے تھے جس میں بعض علمی اور ملکی زبانوں کے علاوہ یورپی زبانوں کی تعلیم کا انتظام ہوا ور مختلف علوم و فنون کی تعلیم بھی دی جائے۔ تعلیم کے اس وسیع اور منظم پروگرام میں عربی، فارسی، سنسکرت، انگریزی لاطینی، یونانی، اردو، بنگالی اور مرہٹی زبانیں اور علوم وفنون کی فہرست میں تاریخ جغرافیہ ، اصولِ قانون، شرع اسلام اور دھرم شاستر جیسی چیزیں شامل تھیں۔ چونکہ اس طرح کے کسی کالج کا قیام اور اس کا انتظام و انصرام زر ِکثیر صرف کیے بغیر نا ممکن تھا اس لیے کمپنی نے یہ تجویز اس شکل میں منظور نہیں کی جو لارڈ ولزلی کے پیش نظر تھی البتہ ار بابِ کمپنی نے ایک ایسا کالج قائم کرنے کی اجازت دے دی جس میں ملکی زبانوں کی تعلیم دی جائے۔
لارڈ ولزلی نے اسے بھی غنیمت جانا اور8 مئی1800 ء کو کلکتہ میں تعلیم ِز بان کے اس کا لج کی بنیاد رکھی اور اس کا نام فورٹ ولیم کالج رکھا۔ ڈاکٹر جان گلکرسٹ اس کالج میں ہندوستانی (اُردو) کے پروفیسرمقررہ ہوئے۔ڈاکٹر گلکرسٹ کو اُر دو زبان اور اس کے مسائل سے بڑی دلچسپی تھی اور وہ کالج کی ملازمت سے وابستہ ہونے سے پہلے سے اس زبان کی خدمت میں مصروف تھے۔ کالج سے متعلق ہونے کے بعد انہیں اپنی دلچسپی کو عملی صورت دینے اور زبان وادب کی خدمت انجام دینے کا زیادہ موقع ملا۔ کا لج قائم ہونے کے بعدیہاں اردو کی تدریس تعلیم کا معقول انتظام کیاگیا۔ ڈاکٹر گلکرسٹ خود بھی اُردو پڑھاتے تھے اور اپنی مدد کے لیے اچھے مدرسوں کا تقر ر بھی کیا تھا۔ درس و تدریس کے ساتھ ساتھ کالج کے زیر اہتمام انہوں نے تصنیف وتالیف کا ایک شعبہ بھی قائم کیا اور اس کام کے لیے مہارت رکھنے والے اہلِ قلم زباں دانوں کی خدمات حاصل کیں۔ کتابوں کے چھاپنے کے لیے اُردو ٹائپ کا ایک مطبع بھی قائم کیا گیا۔ یہ مطبع ہندوستان میں اُردو کا پہلا مطبع تھا۔
ڈاکٹر گلکرسٹ کی سرپرستی اور رہنمائی میں جن ماہرینِ زبان نے ترجمے اور تالیف کا کام کیا ان میں میر امن دہلوی، سید حیدر بخش حیدری، میر شیر علی افسوسؔ، میر بہادر علی حسینی، مرزا علی لطفؔ، خلیل علی خان اشکؔ ، کاظم علی جوانؔ، نہال چند لاہوری، للولال جی، بینی نرائن جہاںؔ ، مظہر علی ولاؔ زیادہ معروف ہیں اور ان کی تالیفات باغ و بہار، آرائشِ محفل، طوطا کہانی، باغِ اُردو، بیتال پچیسی، سنگھاسن،داستانِ امیر حمزہ، اور گلشنِ ہند و غیرہ اب بھی بڑے شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments