پاکستان کرکٹ تاریخ کی بدترین شکست

تحریر : محمد ارشد لئیق


قومی کرکٹ ٹیم کا دورہ انگلینڈ:ماضی کی بہترین ٹیموں میں شمارگرین شرٹس کی تنزلی، انتظامی زوال اور بوکھلاہٹ طشت ازبام

پاکستانی کرکٹ ٹیم کیلئے انگلینڈ کا دورہ ایک بار پھر مایوس کن انجام سے دوچار ہوا، جہاں میزبان ٹیم نے پہلی مرتبہ اپنی سرزمین پر پاکستان کو ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش کر دیا۔ تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو 8 وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز 3-0 سے اپنے نام کرلی۔ پوری سیریز میں پاکستانی بلے باز انگلش باؤلنگ کے سامنے مستقل مزاجی دکھانے میں ناکام رہے، جبکہ میزبان ٹیم نے مشکل مواقع پر بہتر کھیل پیش کرتے ہوئے ہر شعبے میں اپنی گرفت مضبوط رکھی۔ تیسرے ٹیسٹ میں بھی پاکستان نے مزاحمت کی کوشش کی، تاہم انگلینڈ کے بلے بازوں نے ہدف کا تعاقب کامیابی سے مکمل کرکے سیریز پر فیصلہ کن مہر ثبت کردی۔ یہ شکست پاکستان کیلئے محض ایک میچ کا نتیجہ نہیں بلکہ ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی کارکردگی اور حکمت عملی پر سنجیدگی سے غور کرنے کا موقع بھی ہے۔

پاکستان کرکٹ کا شمار ایک زمانے میں دنیا کی بہترین ٹیموں میں ہوتا تھا، لیکن انگلینڈ کے خلاف حالیہ تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز نے قومی کرکٹ کی تنزلی، انتظامی زوال اور بوکھلاہٹ کو طشت ازبام کر دیا ہے۔ پہلے دو ٹیسٹ میچز میں اننگز اور 103 رنز اور پھر 194 رنز کی بدترین شکستوں کے بعد تیسرے ٹیسٹ میں 8وکٹوں سے شکست نے پاکستان کی کرکٹ تاریخ میں ایک تاریک باب کا اضافہ کیا ہے۔ سیریز کے دوران جس بے دردی اور جلد بازی میں فیصلے کیے گئے، انہوں نے رہی سہی کسر بھی نکال دی۔ دوسرے ٹیسٹ کے فوراً بعد سات کھلاڑیوں کو ہٹانا اور ہیڈ کوچ سرفراز احمد سمیت اسسٹنٹ کوچ عمر گل کو اچانک عہدوں سے برطرف کر دینا بورڈ کی نااہلی اور دبائو میں آ کر کیے گئے عجلت پسندانہ فیصلوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ یہ اقدامات نہ صرف کھیل کی روح کے خلاف تھے بلکہ اس سے کھلاڑیوں کا مورال بھی بری طرح مجروح ہوا۔

تیسرے ٹیسٹ کا پہلا مرحلہ ایک بار پھر قومی ٹیم کی پرانی ڈگر پر چلا جہاں پہلی اننگز میں پوری ٹیم محض 133 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور انگلینڈ نے 453 رنز بنا کر 320 رنز کی بھاری بھرکم برتری حاصل کر لی۔ دوسری اننگز کی شروعات میں بغیر کوئی رن بنائے دو وکٹیں گنوانے کے بعد ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ پاکستان ایک بار پھر ذلت آمیز اننگز کی شکست سے دوچار ہونے والا ہے۔ اگرچہ شان مسعود کی 95، بابر اعظم کی 76 اور نوزائیدہ اوپنر اذان اویس کی 59 رنز کی مزاحمتی اننگز نے ٹیم کو سہارا دیا، لیکن مڈل آرڈر کی اچانک ناکامی اور 318 کے مجموعے پر 8 وکٹیں گرنے کے بعد میچ کا فیصلہ چوتھے دن سے پہلے ہی طے نظر آ رہا تھا۔ تاہم، اس بدترین شکست کے بادلوں کے درمیان ڈیبیو کرنے والے فاسٹ بائولر رضا اللہ کی جارحانہ کارکردگی امید کی ایک شمع بن کر ابھری۔ ٹیسٹ سیریز میں اس تاریخی شکست کے باوجودتاریخی آل رائونڈ کارکردگی دکھانے والے رضا اللہ نے شائقین کے دل جیت لیے ہیں۔

کرکٹ بورڈ ’’شارٹ کٹ‘‘پر مبنی نظام شارٹ فارمیٹ کی عارضی چمک دمک کو طویل فارمیٹ کی بنیاد بنا کر قومی ٹیم کی کارکردگی کو نقصان پہنچا رہا ہے، جس کی وجہ سے نہ تو ایک مستحکم بینچ سٹرینتھ تیار ہو پا رہی ہے اور نہ ہی ٹیم میں مستقل مزاجی کا عنصر دکھائی دیتا ہے۔ بالآخر، حکمت عملی کی یہی بے راہ روی، کھلاڑیوں میں عدم تحفظ کا احساس اور فارمیٹس کی تفریق کو نظر انداز کرنے کی پالیسی ہی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کرکٹ ٹیم کی مسلسل ناقص اور غیر متوقع کارکردگی کی بنیادی وجہ بن چکی ہے۔ پاکستان کرکٹ کو اگر اس گہرے بحران سے نکلنا ہے تو ڈنگ ٹپائو پالیسیوں اور انتقامی برطرفیوں کے بجائے رضا اللہ جیسے بے خوف اور باصلاحیت نوجوانوں کی بنیاد پر ٹیم کی ازسرنو تعمیر کرنا ہوگی۔

رضا اللہ کی ریکارڈ ساز بیٹنگ

پاکستانی کرکٹ سے وابستہ حالیہ عرصے کی بہت سی باتیں خوشی کا باعث نہیں رہیں، لیکن ایجبسٹن میں بیٹنگ کرتے ہوئے رضا اللہ نے اس جذبے کو بھرپور انداز میں محسوس کیا۔ انہوں نے ایک شاندار اننگز کھیلتے ہوئے 63 گیندوں پر 81 رنز بنائے، جس میں 9 چھکے شامل تھے۔ یہ کسی ڈیبیو کرنے والے بلے باز کی جانب سے ایک اننگز میں سب سے زیادہ چھکوں کا مشترکہ ریکارڈ ہے۔ رضا اللہ کی ریکارڈ ساز بیٹنگ محض ایک جارحانہ اننگز نہیں بلکہ مشکل ترین حالات میں عزم، خود اعتمادی اور بے خوفی کی شاندار مثال تھی۔

 ایجبسٹن کے میدان میں جب پاکستانی بیٹنگ لائن اپ انگلش باؤلنگ کے سامنے مشکلات سے دوچار تھی اور اننگز کی شکست کے سائے گہرے ہو رہے تھے، ایسے وقت میں رضا اللہ نے کریز پر قدم رکھا اور صورتحال کا رخ ہی بدل دیا۔ جوفرا آرچر، گس اٹکنسن اور جوش ٹنگ جیسے تیز رفتار باؤلرز کی شارٹ گیندوں کا بے خوفی سے سامنا کرتے ہوئے انہوں نے برق رفتار اننگز کھیلی۔ انہوں نے اپنی اس یادگار بیٹنگ سے ڈیبیو پر سب سے زیادہ چھکے لگانے والوں کی فہرست میں اپنا نام درج کرا دیا۔ رضا اللہ کی بیٹنگ نے یہ ثابت کیا کہ مشکل حالات میں ایک بااعتماد بلے باز کی جرات پوری ٹیم کیلئے امید کی نئی کرن بن سکتی ہے۔

بیٹنگ کے دوران رضا اللہ کے چہرے پر مسکراہٹ ان کے اندر موجود خوشی اور لطف کو واضح طور پر ظاہر کر رہی تھی۔ بعد ازاں پریس کانفرنس میں انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا، ’’مجھے تماشائیوں کی جانب سے ملنے والی کھڑے ہو کر داد بہت اچھی لگی۔ میں زندگی سے لطف اندوز ہونا پسند کرتا ہوں اور اس لمحے کو بھرپور انداز میں محسوس کر رہا تھا‘‘۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

نئے صوبوں کی بحث عالمی سطح پر پہنچ گئی

تیزی سے بڑھتی آبادی کیلئے انتظامی اصلاحات :، ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ میں 16 سے 30 انتظامی یونٹس بنانے کی تجویز کئی :ممالک اپنی آبادی اور معیشت میں تبدیلیوں کے ساتھ اپنے انتظامی ڈھانچوں کو بارہا تبدیل کر چکے ہیں:ہر صوبے کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، اس طرح پہلی سطح کی انتظامی حکومتوں کی تعداد بڑھ کر 16 ہو جائے گی :ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ موجودہ ڈویژنوں کی بنیاد پر انتظامی ڈھانچے کو آگے بڑھایا جائے اور 30 سے زیادہ انتظامی اکائیاں قائم کی جائیں

تقویٰ انسان کی اصل پہچان

’’ اور تم مان لو بیشک اللہ متقین کے ساتھ ہے‘‘(البقرہ) ’’تم میں سے اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ شخص ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگا ر ہو‘‘(سورۃ الحجرات) ’’ اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تمہیں حق اور باطل میں فرق کرنے کی قوت عطا فرما دے گا‘‘(سورۃ الانفال)

تحفظ حرمین شریفین: مقدس امانت، اجتماعی ذمہ داری

’’بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کیلئے مقرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ میں ہے، برکت والا ہے اور تمام جہانوں کیلئے ہدایت کا مرکز ہے‘‘(آل عمران:96)

اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت!

’’تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو‘‘ ( سورۃ الحجرات) اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اور آپس میں اختلاف مت کرو کہ تم کمزور ہو جاؤ، اور تمہاری ہوا نکل جائے، اور صبر کرو بیشک! اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے(سورۃ الانفال:46)

مسائل اور ان کا حل

فجر کی اذان کے بعد نوافل پڑھنا سوال: کیا نماز فجرکی جماعت سے پہلے 2سنت کے علاوہ تحیۃ المسجدکے نفل پڑھ سکتے ہیں ؟مسجدمیں ایک شخص نے فجرکی سنت سے پہلے 2رکعت تحیۃ المسجدوتحیۃ الوضوپڑھی تو ساتھ بیٹھے ایک بزرگ نے کہاکہ فجرکی اذان کے بعدنفل نہیں پڑھنے چاہئیں، آپ وضاحت فرما دیں۔ (چودھری محمد اسلم، اوکاڑہ)

لانگ مارچ کیا رنگ لائے گا؟

خیبر پختونخوا میں ایک جانب مسلسل دہشت گردی‘ امن و امان کے مسائل اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے تو دوسری جانب صوبے کی حکمران جماعت کی جانب سے لانگ مارچ نے وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے۔