رسول اللہ ﷺ کے کاتبین وحی

تحریر : عبدالمالک مجاہد


وہ نفوسِ قدسیہ جن کی خطاطی کی مہارت نے قرآنِ کریم کے متن کو تغیر و تبدل کی ہر آمیزش سے پاک رکھا کاتبین وحی وہ خوش بخت نفوس تھے جن کے قلم کی روشنائی کو کلامِ ربانی کے الفاظِ مقدسہ کو قرطاس پر بکھیرنے کا ابدی شرف حاصل ہو

کائنات کی بزمِ تاریک میں نطقِ الٰہی کا نزول، انسانیت کی تاریخ کا سب سے درخشاں اور انقلاب آفریں معجزہ ہے۔ جب غارِ حرا کے سکوت سے ’’اقرا‘‘ کی سحر انگیز صدا گونجی، تو علم و عرفان کا ایک ایسا چشمہ پھوٹا جس نے ابد تک کیلئے جہالت کے اندھیرے مٹا دیے۔ اس آسمانی کلام اور آخری پیغامِ ہدایت کی حفاظت کیلئے قدرت نے نہ صرف سینوں کو سفینہ بنایا بلکہ کاغذ کو بھی امین چنا۔ اس عظیم الشان مشن کیلئے جن قدسی صفات ہستیوں کا انتخاب کیا گیا، تاریخ اسلام انہیں کاتبینِ وحی کے جلیل القدر لقب سے یاد کرتی ہے۔

 یہ وہ خوش بخت نفوس تھے جن کے قلم کی روشنائی کو کلامِ ربانی کے الفاظِ مقدسہ کو قرطاس پر بکھیرنے کا  ابدی شرف حاصل ہوا۔ ان مبارک ہاتھوں نے رسولِ اکرم ﷺ کے دہن مبارک سے نکلے ہوئے لولوئے لالہ کو حریر جاں پر رقم کر کے قیامت تک کیلئے محفوظ کر دیا۔سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر فاروق، سیدنا عثمان غنی،سیدنا علی مرتضی، ابی بن کعب اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر صحابہ کرام ا س کہکشاں کے روشن ستارے ہیں۔ا ن نفوسِ قدسیہ کی علمی دیانت، بے مثل اتقا اور خطاطی کی مہارت نے قرآنِ کریم کے متن کو تغیر و تبدل کی ہر آمیزش سے پاک رکھا۔زیر نظر مضمون میں انھی مروارید ہدایت میں سے کچھ کا علمی و تحقیقی احاطہ کیا گیا ہے ۔و اضح رہے کہ ان کاتبین میں خلفائے اربعہ، یعنی سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر فاروق، سیدنا عثمان غنی اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنھم کے اسمائے گرامی بھی سرفہرست ہیں۔ مگرمیں یہاں ان چاروں خلفاء کے بارے میں کچھ نہیں لکھوں گا کیونکہ ان کے حالات زندگی کے بارے میں بیشمار کتابیں موجود ہیں۔ 

ابان بن سعید ؓ

ان کا سلسلہ نسب یہ ہے: ابان بن سعیدؓ بن عاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مر بن کعب بن لوی القرشی الاموی۔ان کی والدہ ہند بنت مغیرہ بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم ہیں۔ ان کا اور رسول اللہ ﷺ کا سلسلہ نسب عبد مناف پہ مل جاتا ہے۔ مورخین نے لکھا ہے کہ انھوں نے جنگ حدیبیہ کے بعد اسلام قبول کیا ۔ کیونکہ حدیبیہ کے روز جب رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عثمان غنیؓ کو اہل مکہ کے پاس بھیجا تو ابان بن سعید ؓ ہی نے انھیں پناہ دی تھی اور انھیں اپنا گھوڑا دے کر کہا تھاکہ عثمانؓ!آپؓ اس گھوڑے پر مکہ میں جہاں چاہیں، بے خوف و خطر گھو میں پھریں، آپ ؓکو میں نے اپنے حفظ و امان میں رکھا ہے۔

ابو بکر بن شیبہ نے لکھا ہے کہ سب سے پہلے جس شخص نے رسول اکرم ﷺ پر نازل ہونے والی وحی کی کتابت کی وہ سیدنا ابی بن کعب ؓ ہیں۔ ان کی عدم موجودگی میں سیدنا زید بن ثابت ؓ لکھا کرتے تھے۔ اور سیدنا عثمانؓ ، سیدنا خالد بن سعیدؓ ، اور سیدنا ابان بن سعیدؓ نے بھی مدینہ منورہ میں آپ ﷺ کیلئے وحی کو لکھا۔ مکی سورتوں کے نزول کے وقت چونکہ سیدنا ابی بن کعب ؓ مکہ میں موجود نہ تھے، اس لیے وہاں نازل ہونے والی وحی کو متعدد صحابہ کرامؓ نے لکھا۔ البتہ قریش میں جس آدمی نے سب سے پہلے وحی لکھی، وہ عبد اللہ بن سعد بن ابی سرحؓ تھے۔سیدنا ابان بن سعید ؓ کی تاریخ وفات کے بارے میں قدرے اختلاف پایا جاتا ہے۔

ابی بن کعب ؓ

ان کا سلسلہ نسب یہ ہے: ابی بن کعبؓ بن قیس بن عبید بن زید بن معاویہ بن عمرو بن مالک بن النجار الانصاری الخزرجی۔ ان کی دو کنیتیں تھیں: ابو المنذر اور ابو الطفیل۔ ابو المنذر کنیت رسولِ اکرم ﷺ نے رکھی تھی اور سیدنا عمر بن خطابؓ ان کے صاحبزادے طفیل کے نام پر ابو الطفیل کنیت سے پکارتے تھے۔ ان کی والدہ کا نام صہیلہ بنت اسود بن حرام بن عمرو بن زید منا بن عدی بن عمرو بن مالک بن النجار ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب ؓ ا نھیں سید المسلمین کہا کرتے تھے۔ عقبہ ثانیہ میں ستر انصاریوں کے ساتھ یہ بھی شریک تھے۔ جنگ بدر اور اس کے بعد کے معرکوں میں شامل رہے۔ ان کا شمار فقہائے صحابہ ؓ میں ہوتا تھا۔ 

رسولِ اکرم ﷺ نے ان کے بارے میں ایک مرتبہ فرمایا تھا: میری امت میں سب سے بڑے عالمِ قرآن ابی بن کعب ہیں۔اسلام لانے سے قبل بھی یہ لکھنے پڑھنے میں بڑے ماہر تھے۔ جبکہ عرب میں لکھنے پڑھنے کا رواج بہت ہی کم تھا۔اسلام لانے کے بعد جب رسول اکرم ﷺ نے ہجرت کی تو یہ بھی کاتبین وحی میں شامل ہوگئے۔

سیدنا ابی بن کعب ؓ کو یہ شرف حاصل ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے انھیں قرآن پڑھ کر سنایا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو سیدنا ابی بن کعب ؓکو قرآن سنانے کا حکم دیا تھا، چنانچہ احمد، ابوداؤد، ترمذی، حاکم وغیرہ نے یہ روایت بیان کی ہے کہ ایک دن رسول اکرم ﷺ نے سیدنا ابی بن کعب ؓ سے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھے قرآن پڑھ کر سنائوں ۔ سیدنا ابی بن کعب ؓ آپ ﷺکی زبان سے یہ کلمات سن کر مارے خوشی کے رونے لگے اور عرض کیا: کیا آپﷺ کے پروردگار نے میرا نام لے کر یہ بات کہی ہے؟ارشاد فرمایا: ہاں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے انھیں قرآن کریم کی چند آیات پڑھ کر سنائیں۔

معروف سیرت نگار واقدی کا بیان ہے کہ مدینہ منورہ میں جب رسولِ اکرم ﷺ کی آمد ہوئی تو سب سے پہلے جنھوں نے آپﷺ پر نازل ہونے والی وحی کی کتابت کی وہ سیدنا ابی بن کعبؓ ہی ہیں، نیز قرآن کے اختتامی اجزا کے یہ اوّلین کاتب تھے۔ انھوں نے سیدنا عثمان غنیؓ کی شہادت سے ایک ہفتہ قبل وفات پائی۔ ( اسد الغابہ، تذکرالحفاظ) 

ارقم بن ابی الارقم ؓ

ان کا نسب نامہ یہ ہے: ارقم بن ابی الارقم عبد مناف بن اسد بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم القرشی المخزومی۔ ان کی کنیت ابو عبد اللہ ہے۔یہ سابقین اوّلین میں سے ہیں۔ گیارہ آدمیوں کے بعد انھوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ مکہ سے مسلمانوں کی جس سب سے پہلی جماعت نے ہجرت کی تھی، اس میں بھی شامل تھے۔ ان کا گھر صفا پہاڑی پر تھا۔ ہجرت سے قبل رسول اللہﷺ انھی کے گھر میں چھپ چھپ کر لوگوں تک اسلام کی دعوت پہنچاتے تھے۔ مسلمانانِ مکہ کی میٹنگ وہیں ہوا کرتی تھی۔دارِ ارقم میں جو آخری مسلمان ہوئے، وہ سیدنا عمر بن خطاب ؓ ہیں۔ ان کے اسلام لاتے ہی مسلمان دار ارقم سے باہر چلے آئے اور اپنے اسلام کا اعلان کرنے لگے۔

سیدنا ارقمؓ نے جنگ بدر میں شرکت کی تھی اور رسول اللہ ﷺ نے انھیں مالِ غنیمت میں سے تلوار عطا فرمائی تھی۔ مکہ میں یہ بھی رسولِ اکرم ﷺ کی وحی لکھا کرتے تھے۔مسند احمد وغیرہ میں یہ روایت آئی ہے کہ ایک دن سیدنا ارقمؓ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں آپﷺ کو الواداع کہنے کیلئے حاضر ہوئے۔ آپﷺ نے دریافت فرمایا: کیا بات ہے، کسی حاجت کے پیشِ نظر کہیں جارہے ہو یا تجارت کی غرض سے؟ انھوں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپﷺپر قربان، اے اللہ کے رسولﷺ!میں نے بیت المقدس میں جاکر نماز پڑھنے کی نیت کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میری اس مسجد (مسجد نبوی)میں ایک نماز مسجد حرام کے علاوہ دوسری مساجد میں ہزار نمازوں سے افضل ہے۔ چنانچہ سیدنا ارقمؓنے اپنا ارادہ بدل دیا اور بیت المقدس نہیں گئے۔

عثمان بن ارقمؓ کہتے ہیں کہ میرے والد ارقم ؓ کی وفات 83 سال کی عمر میں سن35 ہجری میں ہوئی۔ ایک قول کے مطابق55 ہجری میں ہوئی۔ اور ان کی وصیت کے مطابق ان کی نماز جنازہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اور بقیع میں مدفون ہوئے۔ (اسد الغابہ، سیر ابن ہشام، الاستیعاب، البدایہ والنہایہ) 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

غرور کا انجام

شاداب نگر کے خوبصورت اور بڑے سے بنگلے میں سفینہ نامی چھوٹی لڑکی رہتی تھی۔ سفینہ دیکھنے میں تو پھول کی طرح پیاری تھی مگر اس کے مزاج میں حد سے زیادہ غرور تھا۔

قائداعظم کی نصیحت

ببلو گھر کا لاڈلا اور سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے ضدی بھی تھا اور شرارتی بھی۔اس نے اپنی شرارتوں کی وجہ سے صرف گھر والوں کے ناک میں دم نہیں کر رکھا تھا بلکہ سکول میں کلاس فیلوز اور محلے کے سب لڑکے اس سے تنگ تھے۔

تیرے خیال سے ہے دل شادماں ہمارا

تیرے خیال سے ہے دل شادماں ہمارا،تازہ ہے جاں ہماری دِل ہے جواں ہمارا

پرندے نقل مکانی کیوں کرتے ہیں؟

دنیا کے بہت سے خطوں میں موسم سرما نہایت شدید ہوتاہے اور اس موسم میں وہاں خوراک اورپانی ناپید ہو جاتے ہیں۔

گیندا:باغیچوں کی رونق

گیندا ایک ایسا خوب صورت اور رنگا رنگ پھول ہے جو اپنے شوخ رنگوں، دلکش ساخت اور خوش نما انداز کے باعث باغیچوں، گھروں اور پارکوں کی رونق بڑھاتا ہے۔

ذرا مسکرائیے

بزرگ: ذہین بیٹے یہ بتاؤ تم بڑے ہو کر اپنی امی پر جاؤ گے یا ابو پر؟ذہین: اُف اوہ،بڑا ہو کر میں نہ امی پر جاؤں گا نہ ابو پر بلکہ کار پر جاؤں گا۔٭٭٭