نئے صوبوں پر سیاست

تحریر : طلحہ ہاشمی


سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی نے نئے صوبے بنانے کے خلاف ایک بار پھر قرارداد منظور کرالی ہے۔ اپوزیشن نے تقاریر کے بعد ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

 قرارداد کی منظوری سے قبل وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بڑے جذباتی انداز میں تقریر کی اور مکا لہراتے ہوئے نہ صرف قومی اسمبلی کو للکارا بلکہ یہ بھی واضح کردیا کہ سندھ تقسیم نہیں ہوگا، سندھ کا فیصلہ پنجاب یا خیبرپختونخوا نہیں کرسکتے۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ قومی اسمبلی کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ سندھ کی تقسیم کی بات نہیں کرسکتی۔وزیر اعلیٰ سندھ نے اپوزیشن کے رویے کو دوغلا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن ایک طرف کہتی ہے کہ سندھ کی تقسیم منظور نہیں اور دوسری طرف ایوان چھوڑ کر چلی گئی،یہ لوگ سندھ کے جذبات سے کھیل رہے ہیں، ان کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم دل سے تقسیم کے خلاف ہے۔ سعید غنی نے بھی کہہ دیا کہ سندھ میں صوبہ نہیں بنے گا۔

 وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سے قبل اپوزیشن لیڈرعلی خورشیدی نے خطاب کیا اور طنزاً کہا کہ سندھ اسمبلی میں اداکاری چل رہی ہے جس کی ضرورت نہیں ہے، ہم سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے، پیپلزپارٹی اس طرح کی قرارداد بار بار کیوں لاتی ہے؟انہوں نے پیپلز پارٹی کے اندازِ حکمرانی کو ناکام اور بدترین قرار دیا اور کہا کہ پیپلزپارٹی کی کارکردگی صفر ہے، ان کے پاس کارکردگی کے نام پر پیش کرنے کو کچھ نہیں ہے اس لیے جذباتی چیزوں کو لاتے ہیں۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ پیپلز پارٹی یہ بات سمجھنے کو تیار نہیں کہ وہ اچھی کارکردگی دکھانے میں ناکام ہے، یہ سب ٹرک کی بتی کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ علی خورشیدی نے سوال کیا کہ شرجیل میمن کو ان کے دل کی بات کیسے پتا چل گئی، وہ کوئی بابا ہوگئے ہیں۔دوسرے روز بھی ایوان میں خوب ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی اور اپوزیشن نے سندھو دیش نامنظور کے نعرے لگائے۔ ایم کیو ایم نے سندھو دیش تحریک کے خلاف قرار داد پیش کرنے کی کوشش بھی کی جس کی حکومت نے اجازت نہیں دی۔ ایم کیو ایم نے حکومت پر رعونت اور تعصب کا الزام لگایا۔

سندھ کی سیاست میں تھوڑی بہت ہلچل تحریک انصاف کی وجہ سے بھی پیدا ہوئی۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے حالیہ دنوں سندھ کا دورہ کیا اور اس دوران انہوں نے صوبے کے متعدد شہروں کے دورے میں کارکنوں سے خطاب کیا اور پیپلز پارٹی کو کھل کر تنقید کا نشانہ بنایااور کہا کہ ملک پر دہائیوں سے زرداری اور شریف خاندان مسلط ہیں، اپنے عزیز و اقارب کو ہی اہم عہدے دیتے ہیں اور حکمرانی کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی تک جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ سہیل آفریدی کراچی میں جلسہ کرنا چاہتے تھے لیکن انتظامیہ نے امن و امان کا جواز پیش کیا اور جلسے کی اجازت نہیں دی۔ سہیل آفریدی کے قافلے کی کراچی آمد کے پیش نظر اور انہیں جلسہ گاہ تک پہنچنے سے روکنے کے لیے مزار قائد کے اطراف سڑکوں کو کنٹینرز لگا کر بند کردیا گیا تھا۔ جلسہ نہ ہوسکا اور اگلے روز سہیل آفریدی واپس چلے گئے البتہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے سہیل آفریدی کو خوش آمدید کیا اور نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔ پیپلزپارٹی پر لاکھ تنقید کریں لیکن یہ بات ہے کہ وہ جمہوری انداز کا ہمیشہ احترام کرتی ہے اور دوسروں کو اس کے لیے جگہ دینے کو بھی تیار رہتی ہے۔

ایک طرف سلام کراچی پروگرام کا میڈیا میں چرچا ہے تو دوسری طرف یہ خبریں بھی گردش کررہی ہیں کہ حالات کچھ تبدیل ہوسکتے ہیں اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا خدشہ ہے۔ بلدیہ عظمیٰ میں کل 367نشستیں ہیں، جماعت اسلامی 130اور تحریک انصاف 62 سیٹیں رکھتی ہیں، تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے سادہ اکثریت 184اراکین کی ضرورت ہوگی، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے اراکین کو ملالیں تو یہ تعداد 192 بنتی ہے۔ میئر کے انتخاب کے وقت پی ٹی آئی کے 31ممبر غیرحاضر تھے لیکن اگر یہ ممبر ممکنہ تحریک عدم اعتماد میں ووٹ ڈالتے ہیں تو مرتضیٰ وہاب کو گھر جانا پڑ سکتا ہے۔ ایوان میں مسلم لیگ (ن)14، جے یو آئی 4 جبکہ کالعدم ٹی ایل پی کا ایک رکن ہے اور اگر یہ اراکین بھی تحریک کی حمایت کردیں تو؟ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی سے کسی بات چیت کے بعد (ن) لیگ اور جے یو آئی ووٹ نہ کریں تب بھی تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حیدرآباد اور میرپورخاص کے میئرز کا نمبر بھی آسکتا ہے۔ دیکھتے ہیں پیپلز پارٹی کب تک نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس پر اپنا مؤقف برقرار رکھتی ہے۔

ادھرکراچی میں چند روز قبل اندوہناک واقعہ پیش آیا، منگھوپیر کے علاقے میں مبینہ ڈاکوؤں نے گھر میں گھس کر پندرہ سالہ لڑکے کو قتل کردیا، مقتول روشن آٹھ بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ ڈکیتی مزاحمت پر شہر میں جنوری سے اب تک 52 افراد کو قتل کیا جاچکا ہے۔ کسی ڈکیتی یا حادثے میں ہونے والی موت ایک انسان کی موت نہیں ہوتی، اس کے ساتھ پورا خاندان مرجاتا ہے۔ یقینی طور پر کراچی بہت بڑا شہر ہے، پولیس کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے، سکیورٹی کے مسائل ہیں، حکومت کو بھی اب نوٹس سے بڑھ کر اقدامات کرنے چاہئیں۔ عوام خوف کے بعد اب مایوسی کا شکار ہیں، وہ خاموش ہوچکے ہیں، یہ خاموشی کسی طوفان کی آہٹ بھی ہوسکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

غرور کا انجام

شاداب نگر کے خوبصورت اور بڑے سے بنگلے میں سفینہ نامی چھوٹی لڑکی رہتی تھی۔ سفینہ دیکھنے میں تو پھول کی طرح پیاری تھی مگر اس کے مزاج میں حد سے زیادہ غرور تھا۔

قائداعظم کی نصیحت

ببلو گھر کا لاڈلا اور سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے ضدی بھی تھا اور شرارتی بھی۔اس نے اپنی شرارتوں کی وجہ سے صرف گھر والوں کے ناک میں دم نہیں کر رکھا تھا بلکہ سکول میں کلاس فیلوز اور محلے کے سب لڑکے اس سے تنگ تھے۔

تیرے خیال سے ہے دل شادماں ہمارا

تیرے خیال سے ہے دل شادماں ہمارا،تازہ ہے جاں ہماری دِل ہے جواں ہمارا

پرندے نقل مکانی کیوں کرتے ہیں؟

دنیا کے بہت سے خطوں میں موسم سرما نہایت شدید ہوتاہے اور اس موسم میں وہاں خوراک اورپانی ناپید ہو جاتے ہیں۔

گیندا:باغیچوں کی رونق

گیندا ایک ایسا خوب صورت اور رنگا رنگ پھول ہے جو اپنے شوخ رنگوں، دلکش ساخت اور خوش نما انداز کے باعث باغیچوں، گھروں اور پارکوں کی رونق بڑھاتا ہے۔

ذرا مسکرائیے

بزرگ: ذہین بیٹے یہ بتاؤ تم بڑے ہو کر اپنی امی پر جاؤ گے یا ابو پر؟ذہین: اُف اوہ،بڑا ہو کر میں نہ امی پر جاؤں گا نہ ابو پر بلکہ کار پر جاؤں گا۔٭٭٭