اختر شیرانی کی رومانویت

تحریر : احتشام حسین


کل78ویں برسی: شاعری کا رنگ، ڈھنگ اور آہنگ سب سے الگ،لہجے میں پردہ داری نہ جھجک:اخترشیرانی کے تخیل کا رہنما عشق ہے‘ اور اس کی رہبری میں وہ محبت کی اس دنیا میں پہنچ جانا چاہتے ہیں جہاں مادی زندگی کی کثافتیں، ناآسودگیاں اور ناتمامیاں دامن کو نہ چھو سکیں

 اختر شیرانی۔۔مختصر سوانح

اختر شیرانی کا اصل نام محمد داؤد خاں تھا۔ جیّد عالم اور محقق حافظ محمود شیرانی کے اکلوتے صاحبزادے تھے۔ 4 مئی 1905 ء کو ہندوستان کی ریاست ٹونک میں پیدا ہوئے۔مزاج لڑکپن ہی سے عاشقانہ تھا۔کم عمری میں شاعری شروع کر دی اور چوری چھپے صابر علی شاکر سے مشورۂ سخن کیا کرتے تھے۔ اخترؔ کی عمر تقریباً 16 برس تھی کہ نواب ٹونک کے خلاف اک شورش برپا ہوئی جس کے نتیجہ میں نواب نے بہت سے لوگوں کو ریاست بدر کیا انہی میں حافظ محمود شیرانی بھی تھے۔یوں اردو اور فارسی کا یہ محقق اور نامور عالم لاہور کو نصیب ہوا۔ جناب محمود شیرانی اسلامیہ کالج اور پنجاب یونیورسٹی کے اورینٹل کالج میں فارسی کے استاد مقرر رہے اور ’’پنجاب میں اردو‘‘ کے عنوان سے معرکہ آرا کتاب لکھی۔اُردو تحقیق کو جدید سائنسی اصولوں پر وضع کرنے میں حافظ محمود شیرانی کا کردار بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ اختر شیرانی نے لاہور میں تعلیم جاری رکھتے ہوئے اورینٹل کالج سے منشی فاضل اور ادیب فاضل کے امتحانات دئیے اور ساتھ ہی شاعری میں علامہ تاجور نجیب آبادی کی شاگردی اختیار کر لی۔

رسالہ ’ہمایوں‘ اور ’سہیلی‘ کی ادارت کی اور اپنے رسالے ’ انقلاب‘،’خیالستان‘ اور ’رومان ‘ جاری کئے۔ ’شاہکار‘ کی ادارت بھی کی۔ 9 ستمبر 1948ء کو اختر شیرانی اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں تدفین ہوئی۔اختر شیرانی کا پہلا مجموعہ کلام ’’پھولوں کے گیت‘‘ ادبِ اطفال میں اک سنگِ میل ہے۔ دوسرے مجموعہ کلام ’’نغمۂ حرم‘‘ میں عورتوں اور بچوں کیلئے نظمیں ہیں۔ اختر شیرانی نے ہیئت میں بھی قابلِ قدر تجربے کئے۔ انہوں نے پنجابی سے ماہیا، ہندی سے گیت اور انگریزی سے سانیٹ کو اپنی شاعری میں کثرت سے برتا۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اردو میں باقاعدہ سانیٹ نگاری کی ابتدا اختر شیرانی ہی نے کی۔ نثر میں بھی اختر شیرانی کے کارنامے کم نہیں۔ علامہ تاجور نجیب آبادی کے کہنے پر پنڈت رتن ناتھ سرشار کے فسانۂ آزاد کی تلخیص اور تسہیل بچوں کے لیے کی۔ اسی طرح ڈاکٹر عبدالحق کے کہنے پر سدید الدین محمد عوفی کی ’’جوامع الحکایات و لوامع الروایات‘‘ کو بڑی محنت اور تحقیقی لگن کے ساتھ اُردو کا جامہ پہنایا۔

انہوں نے ترکی کے مشہور ڈرامہ نگار سامی بے کے ڈرامہ ’’کاوے‘‘ کو ضحاک کے نام سے اردو جامہ پہنایا اور ’’دھڑکتے دل‘‘کے نام سے افسانوں کا اک مجموعہ بھی شائع کیا جس میں 12 افسانے دوسری زبانوں کے افسانوں کا ترجمہ اور باقی طبع زاد ہیں۔ ’’اختر اور سلمیٰ کے خطوط‘‘ جس کے کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں خوبصورت نثر کا لاجواب نمونہ ہے۔اس کے علاوہ ’’آئینہ خانے میں‘‘ کے نام سے ان کے پانچ افسانوں کا مجموعہ ہے جو مبینہ طور پر ایک ہی رات میں لکھے گئے تھے۔ یہ افسانے فلمی اداکاراؤں کی آپ بیتی کی شکل میں ہیں جن میں عورت کے استحصال کی سرگزشت ہے۔ اختر شیرانی بہت سے اخبارات و رسائل کیلئے ابن بطوطہ ایں جہانی، بالم، راجکماری بکاولی، زبور، ضحاک، عکاس، لارڈ بائرن آف راجستھان، مسعود خسرو شیرانی، ملا فرقان وغیرہ فرضی ناموں سے کالم لکھتے تھے۔

اختر شیرانی کی شاعری کے متعلق رائے دیتے ہوئے غالباً خام کار اور پختہ کار دونوں قسم کے نقاد سب سے پہلے اسی حقیقت پر زور دیں گے کہ وہ ایک رومانی شاعر تھے۔ رومانیت ایک ایسا مبہم تصور ہے کہ اس کے صحیح عناصرِ ترکیبی کا پتہ لگانے میں دشواریاں ہیں کیونکہ شخصی میلانات تمام رومان پسندوں کو ایک ہی دائرے میں رکھتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے مختلف بنا دیتے ہیں۔ ہر رومانی نئی راہوں پر چل کر اپنی دنیا بناتا ہے اور سماج سے ناآسودگی کے وہ اجزا لے لیتا ہے جن کی رگوں میں وہ آزاد خیالی اور پرواز فکر کے سارے نشتر توڑ سکے۔ یہی چیز کسی کو ورڈ سورتھ بناتی ہے، کسی کو شیلی، کسی کو ہائرن بناتی ہے، کسی کو کیٹس۔ اور یہی نہیں رومانی انداز نظر ہی سے روسو کے نقطہ نظر کی تخلیق ہوتی ہے اور اسی سے شلیگل کا فلسفہ وجود میں آتا ہے۔یہ سب رومانی ہیں اور سب ایک دوسرے سے مختلف۔ رومانیت کے سیاسی اور سماجی پس منظر میں فرد کی قوت انتخاب اور رجحان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ورنہ ورڈز ورتھ کی مذہبیت اور شیلی کی لا مذہبیت کو ایک ساتھ رکھنا ممکن نہ ہو سکے گا۔ تاہم دونوں میں جو اجزا مشترک ملیں گے ان پر غور کرتے ہی یہ بات واضح ہو جائے گی کہ مختلف رومان پرست ایک دوسرے سے دور رہ کر بھی کچھ ایسے دور نہیں ہیں۔ شاید یہی سبب ہے کہ ہر زمانے کے رومانیوں میں کئی باتیں ملتی جلتی ہیں اور اگر سماجی خصوصیات پر نظر نہ جائے تو ان کی انفرادیت ایک ہی قسم کی قدروں کو عزیز رکھتی دکھائی دیتی ہے۔

جمود کو توڑ دینا، ناآسودگی سے چھٹکارا پانے کی کوشش کرنا، شدتِ احساس اور شدتِ تخیل کی مدد سے ایک حسین دنیا کی تعمیر کرنا، مادے کی لطافتوں کو اس طرح دیکھنا کہ وہ محض خیالی رہ جائیں، کرب اور بے قراری نت نئے روپ میں ہر رومانی کے یہاں ملے گی۔ اخترشیرانی یکسر ایک رومانی شاعر ہیں، اس لئے رومانیت کے یہ اجزا ان کے یہاں بھی پائے جاتے ہیں۔ اس مختصر مضمون میں انہیں کا تجزیہ مقصود ہے۔

شعرستان، نغمۂ حرم، صبحِ بہار، اخترستان اور لالہ طور کے سرسری مطالعہ سے بھی یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اخترکی تخیل جذبات کو محور بناکر اسی کے گرد گھومتی ہے۔ دوسرے مضامین یا موضوعات محض ضمناًآتے ہیں جوان دو بنیای تصورات کو سہارا دیتے ہیں۔ ایک رومانی کا نعرۂ عشق نعرۂ آزادی ہے اور اس آزادی میں انفرادی آزادی اور انسان دوستی کے عام جذبے کا میل ہے۔ ان تصورات کی حدوں کو چھو لینا ہمیں اخترکے خیالات کی اس رنگین وادی میں پہنچائے گا جہاں ’سلمیٰ ‘اور ’ریحانہ‘ کی محبت ہی سب کچھ ہے۔اخترشیرانی کی تخیل کا رہنما عشق ہے۔ وہ عشق جو کپوپڈ کی خوبصورت کمان کے رنگین اور دلدوز تیر کا زخم کھا کر پیدا ہوتا ہے۔ اس طفل ِحسین کی رہبری میں وہ محبت کی اس دنیا میں پہنچ جانا چاہتے ہیں جہاں مادی زندگی کی کثافتیں، تکلیفیں، ناآسودگیاں اور ناتمامیاں ان کے دامن کو نہ چھو سکیں۔ ایک ایسی دنیا میں جس میں انسان نہ بستے ہوں جو نور اور طور کی وادی ہو جس میں صرف تنہائی کا راج ہو، جو خوابوں کے جال سے بنی ہوئی ہو۔ کیوپڈ اندھا ہے۔ خبر نہیں وہ اس دنیا تک لے بھی جا سکتا ہے یا نہیں لیکن تخیل انسانی میں بڑی طاقت ہے۔ وہ حقیقتاً اورعملاً نہ سہی تصور میں ایسی دنیا کی تخلیق کر سکتا ہے اور اس سے آسودگی بھی حاصل کر لینا کچھ ایسا مشکل نہیں ہوتا۔

مختصر یہ کہ اخترکا عشق مادی محبت سے شروع ہوکر تخیلی ہو جاتا ہے اور جب دنیا یا سماج کی طرف سے اس میں کسی قسم کی رکاوٹ پڑنے کا اندیشہ ہوتا ہے تو اختراپنی محبت کو لئے ہوئے ایک اور دنیا میں چلے جانا چاہتے ہیں جہاں انہیں محبت کی آزادی ہو۔ اکثر رومان پسندوں کی طرح ان میں بھی سماج کے بدلنے کی خواہش نہیں، اس سے ہٹ کر جانے کی خواہش پائی جاتی ہے۔یہیں سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اخترشیرانی کی شاعری کا کوئی سماجی پس منظر بھی ہے؟ اور اس سوال کا جواب بھی مشکل ہے کیونکہ بعض نظموں میں اخترنے سماج کی بعض پابندیوں اور روایتوں سے اختلاف کیا ہے لیکن زیادہ تر ان کی دنیامیں سماجی احساس مفقود ہے۔ صرف وہ سماجی قیود جن سے محبت کی روح گھٹتی معلوم ہوتی ہے، ان کے غصے کا نشانہ بنتے ہیں۔ اخترشیرانی نے نہ جانے کتنی جگہ اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کی دنیا محبت کے سوا اور کچھ نہیں۔ ایک ’شوخ‘نے پوچھا ہے کہ آج کل آپ کیا کر رہے ہیں؟ اخترنے اپنا مشغلہ بتاتے ہوئے ایک طویل نظم لکھی: ’’میرا موجودہ مشغلہ۔‘‘ اس کے یہ اشعار قابل غور ہیں:

ادب سے جاکے کہنا اے صبا اس شوخ پر فن سے

کہ رومان اور محبت مشغلہ ہے میرا بچپن سے

محبت کیلئے آیا ہوں میں دنیا کی محفل میں

محبت خون بن کر لہلہاتی ہے مرے دل میں

ہر اک شاعر مقدر اپنا اپنے ساتھ لایا ہے

محبت کا جنوں تنہا مرے حصے میں آیا ہے

محبت ابتدا میری، محبت انتہا میری

محبت سے عبارت ہے، بقا میری فنا میری

محبت آرزو میری، محبت جستجو میری

محبت خامشی میری، محبت گفتگو میری

ہر چیز کو محبت ہی کہنے کے بعد خاتمہ کے قریب یہ معنی خیز شعر آتا ہے:

میں اس دھن میں مکان و لامکاں کو بھول جاتا ہوں

خیالِ گلستاں میں گلستاں کو بھول جاتا ہوں

اختر شیرانی کی غزلیں

میں آرزوئے جاں لکھوں یا جانِ آرزو

تو ہی بتا دے ناز سے ایمانِ آرزو

آنسو نکل رہے ہیں تصور میں بن کے پھول

شاداب ہو رہا ہے گلستانِ آرزو

ایمان و جاں نثار تری اک نگاہ پر

تو جان آرزو ہے تو ایمان ِآرزو

ہونے کو ہے طلوع صباح شب وصال

بجھنے کو ہے چراغ شبستان ِآرزو

اک وہ کہ آرزؤں پہ جیتے ہیں عمر بھر

اک ہم کہ ہیں ابھی سے پشیمان ِآرزو

آنکھوں سے جوئے خوں رواں دل ہے داغ داغ

دیکھے کوئی بہارِ گلستانِ آرزو

دل میں نشاط رفتہ کی دھندلی سی یاد ہے

یا شمع وصل ہے تہ دامانِ آرزو

اختر کو زندگی کا بھروسہ نہیں رہا

جب سے لٹا چکے سر و سامانِ آرزو

آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا

کیا بتاؤں کہ مرے دل میں ہیں ارماں کیا کیا

غم عزیزوں کا حسینوں کی جدائی دیکھی

دیکھیں دکھلائے ابھی گردشِ دوراں کیا کیا

ان کی خوشبو ہے فضاؤں میں پریشاں ہر سُو

ناز کرتی ہے ہوائے چمنستاں کیا کیا

دشتِ غربت میں رلاتے ہیں ہمیں یاد آ کر

اے وطن تیرے گل و سنبل و ریحاں کیا کیا

اب وہ باتیں نہ وہ راتیں نہ ملاقاتیں ہیں

محفلیں خواب کی صورت ہوئیں ویراں کیا کیا

ہے بہار گل و لالہ مرے اشکوں کی نمود

میری آنکھوں نے کھلائے ہیں گلستاں کیا کیا

ہے کرم ان کے ستم کا کہ کرم بھی ہے ستم

شکوے سن سن کے وہ ہوتے ہیں پشیماں کیا کیا

گیسو بکھرے ہیں مرے دوش پہ کیسے کیسے

میری آنکھوں میں ہیں آباد شبستاں کیا کیا

سیر گل بھی ہے ہمیں باعثِ وحشت اختر

ان کی الفت میں ہوئے چاک گریباں کیا کیا

عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ہو گئیں

ہائے وہ راتیں کہ جو خواب پریشاں ہو گئیں

میں فدا اس چاند سے چہرے پہ جس کے نور سے

میرے خوابوں کی فضائیں یوسفستاں ہو گئیں

عمر بھر کم بخت کو پھر نیند آ سکتی نہیں

جس کی آنکھوں پر تری زلفیں پریشاں ہو گئیں

دل کے پردوں میں تھیں جو جو حسرتیں پردہ نشیں

آج وہ آنکھوں میں آنسو بن کے عریاں ہو گئیں

گلشن دل میں کہاں اختر وہ رنگ نو بہار

آرزوئیں چند کلیاں تھیں پریشاں ہو گئیں

اختر شیرانی کی کتابیں

شعری مجموعے

صبحِ بنارس 

طیورِ آوارہ

شہرستان 

پھولوں کے گیت

نغمہ ٔحرم

اخترستان (1946ء) 

نثری اور مترجمہ کتب

دھڑکتے دل (افسانوں کا مجموعہ)

اختر اور سلمیٰ کے خطوط

آئینہ خانے میں (افسانہ نما سرگزشتیں)

ضحاک (ترکی ڈرامے کا اردو ترجمہ)

جوامع الحکایات و لوامع الروایات (فارسی سے ترجمہ) 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

فیض کی سیاسی شاعر

فیض بنیادی طوررپر رومان پسند ہیں لیکن ان کی رومانیت صرف عشقیہ موضوعات تک محدود نہیں ہے، اس کے جوہر مختلف سمتوں میں آشکار ہوئے ہیں۔

یوم تحفظ ختم نبوت ﷺ

’’میں خاتم النبیین ہوں‘‘(صحیح بخاری)ختم نبوتﷺ، عقیدہ توحید و رسالت کے بعد ایمان کی اہم بنیاد:محمدؐتمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن اللہ کے رسول اور سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا ہے(سورۃ الاحزاب)

7ستمبر:یوم تحفظِ ختم نبوتﷺ

پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا متفقہ فیصلہ

7 ستمبر:محمد عربیﷺکے دیوانوں کیلئے شادمانی کا دن

7ستمبر1974ء کا دن یادگار اور تاریخی، قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکا گیا

6ستمبر 1965 لہو سے لکھی گئی داستانِ دفاعِ وطن

اے راہ حق کے شہیدو، وفا کی تصویرو، تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں

آپریشن دوارکا

پاک بحریہ کی جرات کی یادگار داستان