خواتین کا سماجی و معاشی کردار تبدیلی ناگزیر ہے

تحریر : عمارہ شاہد


کسی بھی معاشرے کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں خواتین کو کس قدر بااختیار، محفوظ اور فعال کردار ادا کرنے کے مواقع حاصل ہیں۔

 تاریخ کے مختلف ادوار میں خواتین نے خاندان کی پرورش، تعلیم، معیشت، سیاست، طب، ادب اور سماجی خدمت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم وقت کے ساتھ معاشرتی ضروریات، ٹیکنالوجی، تعلیم اور معاشی حالات میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں جس کے باعث خواتین کے کردار میں بھی تبدیلی ناگزیر ہو گئی ہے۔ آج کی دنیا میں عورت کا کردار صرف گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ تعلیم، ملازمت، کاروبار، تحقیق، سیاست اور دیگر شعبوں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر رہی ہے۔

تعلیم اور بدلتا ہوا سماجی کردار

خواتین کے سماجی کردار میں تبدیلی کی سب سے اہم وجہ تعلیم کا فروغ ہے۔ ماضی میں بہت سے معاشروں میں لڑکیوں کی  تعلیم کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی تھی لیکن آج یہ تصور تبدیل ہو چکا ہے اورتعلیم نے خواتین میں خود اعتمادی، شعور اور فیصلہ سازی کی صلاحیت پیدا کی ہے۔ آج خواتین ڈاکٹر، انجینئر، استاد، وکیل، سائنسدان، صحافی اور انتظامی افسر بن رہی ہیں۔ وہ سماجی مسائل پر آواز اٹھاتی ہیں اور صحت، تعلیم، ماحول اور انسانی حقوق جیسے شعبوں میں کام کرتی ہیں۔تاہم خواتین کی تعلیم کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے خصوصاً دیہی علاقوں میں لڑکیوں کے لیے معیاری تعلیمی اداروں، محفوظ سفری سہولیات اور جدید تعلیمی مواقع کی فراہمی ضروری ہے۔ اگر خواتین کو مناسب تعلیم اور تربیت دی جائے تو وہ معاشرے کی مجموعی ترقی میں کہیں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔

معاشی میدان میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت

خواتین کے کردار میں سب سے نمایاں تبدیلی معاشی میدان میں نظر آتی ہے۔ آج عورت صرف ملازمت ہی نہیں کر رہی بلکہ کاروبار، فری لانسنگ، آن لائن تجارت اور مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں بھی حصہ لے رہی ہے۔ ٹیکنالوجی نے خواتین کیلئے ایسے مواقع پیدا کیے ہیں جن کا تصور چند دہائیاں پہلے مشکل تھا۔گھر بیٹھ کر آن لائن کام کرنا، تدریس، گرافک ڈیزائننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور دیگر شعبوں نے خواتین کو معاشی طور پر خودمختار ہونے کے نئے راستے فراہم کیے ہیں۔ اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ اپنی گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ معاشی سرگرمیوں میں بھی حصہ لے سکتی ہیں۔خواتین کی معاشی خودمختاری صرف ان کی ذاتی زندگی کو بہتر نہیں بناتی بلکہ پورے خاندان کی مالی حالت پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔ جب عورت آمدنی میں حصہ ڈالتی ہے تو بچوں کی تعلیم، صحت اور خاندان کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں تاہم خواتین کو معاشی میدان میں اب بھی کئی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ ملازمت کے مساوی مواقع، مناسب اجرت، محفوظ کام کا ماحول، ہراسانی سے تحفظ اور کاروباری سرمایہ تک رسائی جیسے مسائل کو حل کرنا ضروری ہے۔ خواتین کو آگے بڑھنے کیلئے صرف قانونی حقوق نہیں بلکہ عملی مواقع بھی فراہم کیے جانے چاہئیں۔

خاندان، معاشرہ اور کام میں توازن

خواتین کے کردار میں تبدیلی کا مطلب یہ نہیں کہ خاندان کی اہمیت ختم ہو گئی ہے۔ عورت آج بھی خاندان کے نظام میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے لیکن جدید دور میں یہ ذمہ داری صرف عورت کی نہیں ہونی چاہیے۔ گھر، بچوں کی تربیت اور خاندان کی دیکھ بھال ایک مشترکہ ذمہ داری ہے جس میں مرد اور عورت دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ معاشرے کو ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں خواتین کو کام اور خاندان کے درمیان توازن قائم کرنے میں مدد ملے۔لچکدار اوقاتِ کار، گھر سے کام کرنے کے مواقع، معیاری ڈے کیئر مراکز اور کام کی جگہ پر محفوظ ماحول اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح مردوں کو بھی گھریلو ذمہ داریوں میں شریک ہونا چاہیے۔ ایک کامیاب معاشرہ وہ ہے جہاں خاندان اور پیشہ ورانہ زندگی ایک دوسرے کے مخالف نہ ہوں بلکہ ایک دوسرے کو مضبوط کریں۔

تبدیلی کا مستقبل اور ہماری ذمہ داری

خواتین کے سماجی و معاشی کردار میں تبدیلی ایک فطری اور ناگزیر عمل ہے لیکن یہ تبدیلی ایسی ہونی چاہیے جو معاشرے کی اقدار، خاندانی نظام اور انسانی وقار کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھے۔ خواتین کو ترقی کے مواقع دینا مردوں کے مواقع کم کرنا نہیں بلکہ معاشرے کی مجموعی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار، کاروبار اور فیصلہ سازی کے میدان میں مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں تشدد، ہراسانی اور امتیازی سلوک سے تحفظ بھی حاصل ہونا چاہیے۔ حکومت، تعلیمی اداروں، کاروباری تنظیموں، میڈیا اور خاندان سب کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ نئے دور میں خواتین کا کردار بدل رہا ہے اور یہ تبدیلی مستقبل میں مزید تیز ہوگی۔ دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ اس تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ بننے کے بجائے اسے تعلیم، مساوی مواقع، محفوظ ماحول اور باہمی ذمہ داری کے ذریعے مثبت سمت دی جائے۔ یہی ایک متوازن، ترقی یافتہ اور مضبوط معاشرے کی بنیاد بن سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

رئیس امروہوی قلمروئے سخن کے اہم فرمانروا

آج 38ویں برسی حسنِ فکر و تصور اور شعورِ ادب و ادراک کے ساتھ ان کا ابلاغ و اظہار بھی بہت حسین تھا رئیسؔ کی موت کسی کلاسیکی یونانی ڈرامے کا آخری سین معلوم ہوتی ہے‘ اس سین میں ڈرامے کا ہیرو علم وادب کے ساتھ اپنی بے پایاں محبت کا اظہار کرتے ہوئے جان دے دیتا ہےرئیس امروہوی سیاسی قطعہ نگاری کے با وا آدم تھے ‘ ایک بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اردو ادب کی تاریخ میں کوئی شاعر بھی اس میدان میں اُن کا حریف نہیں ہے

فیض احمد فیض کی انفرادیت

فیض احمد فیض کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں عالمی سطح پر حریتِ فکر کو موضوع بنایا۔ فلسطین ہو یا لبنان، یا افریقہ میں جبریت اور سامراجی نظام کا پھیلا ہوازہر، وہ اس کے خلاف فکری ہی نہیں عملی طور پر بھی پیش پیش نظر آتے رہے۔

کھیلوں کاایشیائی میلہ جاپان مین سج گیا

20ویں ایشین گیمز 2026ء: گرین شرٹش مختلف کھیلوں میں مجموعی طور پر4سے 6 تمغے جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہیں: افتتاحی تقریب میں سکواش کے کھلاڑی نور زمان اور پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا نے پرچم تھامے قومی دستے کی قیادت کی: پاکستان کے 7 بہترین شوٹرز این او سی جبکہ پاکستان بیس بال ٹیم سپانسر نہ ملنے کے باعث ایشین گیمز کا حصہ بننے سے محروم رہ گئے

پاکستان کرکٹ کا نیا بحران:محمدرضوان اور امام الحق تنازع

حساس معلومات اور ویڈیوز کے مبینہ لیک ہونے کا معاملہ این سی سی آئی اے اوراعلیٰ عدلیہ تک پہنچ :حتمی فیصلہ فارنزک رپورٹ آنے کے بعد ہوگا، واقعے نے قومی کرکٹ کے اندرونی ڈسپلن اور انتظامی ڈھانچے پر سوالات کھڑے کر دئیے ہیں:ہائیکورٹ سے درخواست خارج ہونے اوررضوان کوایجنسی کے سامنے پیش ہو نے کے حکم کے بعد کھلاڑیوں پر دبائو بڑھ گیا

دانی کی نصیحت

جمعہ کا مبارک دن تھا۔ احمد اپنے بڑے بھائی دانی کے ساتھ جمعہ پڑھنے جا رہا تھا۔ احمد نہا دھو کر صاف ستھرے سفید رنگ کے کپڑے پہنے دانی بھائی کے ساتھ مسجد جارہا تھا کہ راستے میں احمد کا دوست مقیط اسے مل گیا، جو اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا شربت پی رہا تھا ۔

گنیز بک 2027ء میں شامل دنیا کے ہونہار بچے!

میکس الیگزینڈر:کم عمری میں فیشن ورلڈفتح کرنیوالا