رئیس امروہوی قلمروئے سخن کے اہم فرمانروا

تحریر : محمد علی صدیقی


آج 38ویں برسی حسنِ فکر و تصور اور شعورِ ادب و ادراک کے ساتھ ان کا ابلاغ و اظہار بھی بہت حسین تھا رئیسؔ کی موت کسی کلاسیکی یونانی ڈرامے کا آخری سین معلوم ہوتی ہے‘ اس سین میں ڈرامے کا ہیرو علم وادب کے ساتھ اپنی بے پایاں محبت کا اظہار کرتے ہوئے جان دے دیتا ہےرئیس امروہوی سیاسی قطعہ نگاری کے با وا آدم تھے ‘ ایک بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اردو ادب کی تاریخ میں کوئی شاعر بھی اس میدان میں اُن کا حریف نہیں ہے

زندگی نامہ

رئیس امروہوی 12 ستمبر 1914 کو شمال ہند کے مردم خیز قصبہ امروہ میں پیدا ہوئے۔ان کے جد امجد سید شرف الدین شاہ ولایت سہر وردی سلسلے سے بیعت تھے اور وہ ملتان کے روحانی مرکزکی طرف سے شمالی ہند میں اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے معمور کیے گئے تھے۔ رئیس امرو ہو ی کو زندگی بھر تصوف سے دلی لگائو رہا اور ان کی حکیمانہ شاعری میں متصوفانہ خیالات کا وفور اسی سبب سے ہے۔ ان کے والد علامہ سید شفیق حسن ایلیا اپنے وقت کے جید عالم تھے اوریہ خاندان اور یہ خاندان جنگ آزادی میں انگریز حکمرانوں کی چیرہ دستیوں سے محفوظ نہ رہ سکا تھا۔ انہوں نے روایتی تعلیم حاصل نے کرنے کے بعد علوم شرقی کی اعلیٰ ترین اسناد حاصل کیں۔ انگریزی زبان سے ان کا معاملہ تاخیر سے شروع ہوالیکن وہ حیرت انگیز طور پر انگریزی کتب سے براہ راست استفادے کی قدرت حاصل کر چکے تھے۔ انہوں نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز ماہنامہ مسافر مراد آباد کی ادارت سے کیا۔ اس کے بعد وہ 1941میں مسلم لیگی روز نامہ جدت ،مراد آباد کے مدیر ہو گئے۔ اس کے بعد وہ دہلی منتقل ہو گئے اور روزنامہ انصاری سے منسلک ہوگئے۔ انہوں نے کچھ عرصہ ماہنامہ مشہور میں بھی کام کیا اور پھر تقسیم کے بعد پاکستان چلے آئے۔

رئیس امرو ہوی قلمروئے سخن کے ایک اہم فرماں روا تھے اور گزشتہ دو صدیوں کے عرصے پر محیط وہ دوسرے شاعر بن گئے جسے بجا طور پر شہیِد سخن تسلیم کیا جائے گا۔ ایک قاتل کی گولی کا نشانہ بنتے وقت وہ جس کام میں مصروف تھے اس تاریخی تحریر کا عنوان ’’میری زندگی میرافن‘‘ تھا۔ یہ تحریر ابو ظہبی کے ’’جشنِ رئیس‘‘ ، جسے جنوری 1988ء میں منعقد ہونا تھا، کے لیے لکھی جا رہی تھی لیکن افسوس کہ ان کی زندگی کے ساتھ تحریربھی نا مکمل رہی۔ رئیس کی موت کسی کلاسیکی یونانی ڈرامے کا آخری سین معلوم ہوتی ہے۔ اس سین میں ڈرامے کا ہیرو علم وادب کے ساتھ اپنی بے پایاں محبت کا اظہار کرتے ہوئے جان دے دیتا ہے۔ اس مقابلۂ نور و ظلمت میں ہر چند کہ میدان ظاہری طور پر ظلمت کے ہاتھ رہا لیکن ہوا یہ ہے کہ رئیس امروہوی ایک ایسے شہیدِ سخن کے روپ میں ابھرے ہیں جس نے زندگی کی تو قیرو تعظیم میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ رئیس امروہوی کا قتل اس گراں خواب قوم کے لیے بیداری کی نوید لے کر آیا ہے۔ رئیس نے آج سے کافی عرصہ قبل ایک شہید کی قربانی کی بابت مندرجہ ذیل رد عمل دیا تھا۔

دفن جس خاک میں کل اس کو کیا تھا ہم نے

 آج اس خاک سے ہے زندگی ٔنو کی نمود

 روح میں ابدیت کا ہے شرارہ کوئی 

ورنہ یہ سوزِ حیات ابدی ہے بے سود

ہیں زمانے میں وجود اور عدم کے معیار

 یہ نہیں ہے تو نہ معدوم نہ کوئی موجود 

رئیس امروہوی انسانی روح میں ابدیت کے جس شرارے کی کار فرمائی دیکھنا چاہتے تھے وہ ان کے یہاں شرارے کی بجائے شعلۂ جوالہ کی مانند تھی۔ ان کا جسم ایک آتش خانۂ وجود تھا جو ہمہ وقت تخلیق کی آگ سے منور رہتا تھا۔ میں نے اس تخلیقی آگ کے ارد گرد ملک کے زعما و اکابر کی اتنی بڑی تعداد کو مصروف طواف و اکتساب دیکھا ہے کہ کبھی کبھار یہ خیال گزرتا تھا کہ آخر رئیس امروہوی انسان ہیں یا جن؟ خوش اخلاقی بہت اچھی خُوہے۔ شریف اور مہذب لوگوں کا لازمی وصف ہوتی ہے لیکن آخر خوش اخلاق آدمی کو زندہ رہنے کے لیے کبھی کبھی اپنے خول میں بند ہو جانے کی خواہش بھی دامن گیر ہوتی ہے۔ رئیس صاحب کے لیے دوسروں سے مغائرت یا پہلو تہی ممکن نہ تھی۔ وہ بسا اوقات یہ چاہا کرتے تھے کہ کاش ان کے پاس پرائیویٹ لمحات کے لیے طویل فرصتیں ہوا کرتیں لیکن ایسا بوجوہ نہ ہو سکا اور وہ اور ان کے گھر کے دروازے سب کے لیے کھلے رہے۔ 22 ستمبر 1988ء کی شام بھی ان کے گھر کے دروازے کھلے تھے، قاتل کے لیے بھی اور دوستوں کے لیے بھی۔ وہ فارمولا قسم کے شاعرو ادیب نہ تھے۔ آخر یونانی کلاسیکی ڈرامہ کے روح فرسا اختتامی سین نے انہیں آلیا۔ وہ اس وقت جہاد بالقلم میں مصروف تھے۔ عالم کے قلم کی سیاہی اور شہید کے خون کی سرخی میں اگر کوئی فرق تھا تو وہ بھی معدوم ہو کر رہ گیا۔

 رئیس امروہو ی ایک کھلی کتاب تھے۔ ان کے یہاں دکھی اور مغموم لوگوں کا ایک ہجوم رہتا تھا۔ ان کے کالم اس دباؤ کی محض ایک جھلک ہیں جو ان پر ہر جانب سے پڑتا رہتا تھا اور وہ مسکرا مسکرا کر اپنے ملاقاتیوں سے ملتے رہتے۔ شاید انہیں یہ معلوم تھا کہ ہر دوست اور ملاقاتی دوست نہیں ہوا کرتا لیکن وہ بھی کیا کر سکتے تھے۔ جو شخص بھی ایک بار اُن کے قریب آجاتا وہ ان کے حلقۂ بگوش ہو جایا کرتا اور ان کے حلقہ بگوشوں کی تعداد لاکھوں میں تھی۔ میں نے ان کے یہاں بلوچستان، پنجاب اور سندھ کے ادیبوں اور رہنماؤں کو اس طرح بغل گیر ہوتے اور چہچہاتے دیکھا ہے کہ مجھے ایک لمحے کے لیے بھی یہ محسوس نہیں ہواکہ وہ کسی کیلئے غیر یا اجنبی ہو سکتے ہیں۔

 رئیس امروہوی کے گھرانے سے میرے گھرانے کا دوستانہ تعلق صدیوں پر محیط ہے اور انہوں نے مجھے بارہا اختلافِ رائے کے باوجود اس درجہ محبت و شفقت دی کہ آج یوں محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے اُن کی موت کے ساتھ اُن کے چاہنے والے بھی اس قدر زندہ رہنے کا دعویٰ نہیں کر سکتے جس طرح ان کے ہوتے ہوئے محسوس ہوا کرتا تھا۔رئیس صاحب 33سال کی عمر میں کراچی آئے اور یہاں 21 سال تک زندہ رہے۔ ان برسوں میں وہ کراچی کی پہچان بن گئے تھے۔ قطعہ نگار کی حیثیت سے وہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں اپنا مقام بنا چکے تھے۔ وہ سیاسی قطعہ نگاری کے با وا آدم تھے اور ایک بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اردو ادب کی تاریخ میں کوئی شاعر بھی اس میدان میں ان کا حریف نہیں ہے۔ رئیس امروہوی کے قطعات کی چھ جلدیں سامنے آچکی ہیں۔ پہلی دو جلدیں ’’قطعات‘‘کے نام سے کراچی سے شائع ہوئیں جن میں5جون 1947ء سے دسمبر 1958ء تک کے منتخب قطعات شامل ہیں۔ اس کے بعد 1987-88 ء میں ان کے قطعات کا چار جلدوں پر مشتمل ایک اور انتخاب شائع ہوا اور اس طرح یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ ان کے قطعات شاید یک کتابوں کی صورت میں محفوظ ہو چکے ہیں۔ قطعات کی چھ جلد یں 2624صفحات پرمشتمل ہیں۔ 1986 ء سے تا اختتام زندگی کہے گئے قطعات بھی جلد یا بدیر سامنے آجائیں گے۔ ان قطعات میں پاکستان اور دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے اہم معاملات پر فی الفور رد عمل ملتا ہے اور شاید ہی کوئی ایسا سماجی،معاشی، سیاسی، اخلاقی، مذہبی یا سائنسی مسئلہ ہو جس پر رئیس امروہوی نے قلم نہ اٹھایا ہو۔ حق تو یہ ہے کہ رئیس نے ان قطعات کے باب میں خود ہی کہہ دیا ہے۔

 جو ناسخ آثارِ کہن ہے وہ کتاب

بے خطرہ تنسیخ لکھی ہے میں نے

آئینِ امروز ہیں میرے قطعات

اس عہد کی تاریخ لکھی ہے میں نے

 رئیس امرو ہوی کے قطعات منظوم سیاسی جرنلزم کی صف میں آتے ہیں لیکن ان قطعات میں اکثر و بیشتر ایسے قطعات سے مڈھ بھیڑ ہوتی ہے جو کم سے کم اچھے یا بہت اچھے ہوتے ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ رئیس امروہوی کے یہاں واجبی نوعیت کے قطعات کی تعداد دیگر تمام قطعہ نگاروں کے جملہ اچھے قطعات کی تعداد کے برابر ہی ہوگی۔ رئیس امروہوی کے یہاں مشکل یہ ہے کہ وہ اپنی رائے کی صورت گری کے لیے بہترین سے کم پرسمجھوتہ کرتے نظر ہی نہیں آتے۔

 

منتخب غزلیں

رئیس اشکوں سے دامن کو بھگو لیتے تو اچھا تھا

حضورِ دوست کچھ گستاخ ہو لیتے تو اچھا تھا

جدائی میں یہ شرطِ ضبطِ غم تو مار ڈالے گی

ہم ان کے سامنے کچھ دیر رو لیتے تو اچھا تھا

بہاروں سے نہیں جن کو توقع لالۂ و گل کی

وہ اپنے واسطے کانٹے ہی بو لیتے تو اچھا تھا

ابھی تو نصف شب ہے انتظارِ صبحِ نو کیسا؟

دلِ بیدار! ہم کچھ دیر سو لیتے تو اچھا تھا

قلم رودادِ خون و اشک لکھنے سے جھجکتا ہے

قلم کو اشک و خوں ہی میں ڈبو لیتے تو اچھا تھا

فقط اک گریۂ شبنم کفایت کر نہیں سکتا

چمن والے کبھی جی بھر کے رو لیتے تو اچھا تھا

سراغِ کارواں تک کھو گیا اب سوچتے یہ ہیں

کہ گردِ کارواں کے ساتھ ہو لیتے تو اچھا تھا

…… 

خاموش زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہم

گہرے سمندروں میں سفر کر رہے ہیں ہم

صدیوں تک اہتمامِ شبِ ہجر میں رہے

صدیوں سے انتظارِ سحر کر رہے ہیں ہم

ذرے کے زخم دل پہ توجہ کئے بغیر

درمان درد شمس و قمر کر رہے ہیں ہم

ہر چند ناز حسن پہ غالب نہ آ سکے

کچھ اور معرکے ہیں جو سر کر رہے ہیں ہم

صبح ازل سے شام ابد تک ہے ایک دن

یہ دن تڑپ تڑپ کے بسر کر رہے ہیں ہم

کوئی پکارتا ہے ہر اک حادثے کے ساتھ

تخلیق کائنات دگر کر رہے ہیں ہم

اے عرصہ طلب کے سبک سیر قافلو

ٹھہرو کہ نظم راہ گزر کر رہے ہیں ہم

لکھ لکھ کے اشک و خوں سے حکایات زندگی

آرائش کتاب بشر کر رہے ہیں ہم

تخمینہ حوادث طوفاں کے ساتھ ساتھ

بطن صدف میں وزن گہر کر رہے ہیں ہم

ہم اپنی زندگی تو بسر کر چکے رئیس

یہ کس کی زیست ہے جو بسر کر رہے ہیں ہم

کیسی نجات مل نہ سکے گی پناہ تک

اب تیر آ رہے ہیں مری خیمہ گاہ تک

کیا تذکرہ سپاہِ شہادت نصیب کا

غلطاں بخوں ہے پرچمِ میرِ سپاہ تک

ڈرتا ہوں بر شگالِ حوادث نہ ہو کہیں

اک ابرِخوں محیط ہے حدِ نگاہ تک

حیران ہوں کہ روشنی صبح کس طرح

پہنچی ہے شام سے مرے روزِ سیاہ تک

اب کون ارتکابِ گناہِ وفا کرے

باقی نہیں ہے جرات عرضِ گناہ تک

محصور ہوں رئیس شریروں کے غول میں

پہنچے یہ اطلاع کسی خیر خواہ تک

سب ٹھیک ہے

آدمی ہے خوف سے لرزاں مگر سب ٹھیک ہے

چار سو برپا ہے اِک طوفاں مگر سب ٹھیک ہے

محفلیں ہیں امن کی ویراں مگر سب ٹھیک ہے

سرحدوں پر جنگ کا ساماں مگر سب ٹھیک ہے

دیکھنا ہے کہ

ملک الموت سے ٹکرا کے رئیس

دیکھنا ہے کہ کہاں گرتے ہیں

ہم کہ اس شہر کے بازاروں میں

سر ہتھیلی پہ لئے پھرتے ہیں 

کر ا چی ٔاعظم

اللہ  اللہ کراچی ٔ اعظم

مرکز خوب و زشت ہے یہ شہر

 کہہ رہے تھے یہ قاضی القضاۃ 

مجرموں کی بہشت ہے یہ شہر

سمٹ رہی ہے

قومی معاشرہ ہے نامنصفی پہ قائم

بے حصہ مادی تقدیر بٹ رہی ہے

اے اقتصادیاتِ قومی کے سربراہو

افلاس کیوں نہ پھیلے دولت سمٹ رہی ہے

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

فیض احمد فیض کی انفرادیت

فیض احمد فیض کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں عالمی سطح پر حریتِ فکر کو موضوع بنایا۔ فلسطین ہو یا لبنان، یا افریقہ میں جبریت اور سامراجی نظام کا پھیلا ہوازہر، وہ اس کے خلاف فکری ہی نہیں عملی طور پر بھی پیش پیش نظر آتے رہے۔

کھیلوں کاایشیائی میلہ جاپان مین سج گیا

20ویں ایشین گیمز 2026ء: گرین شرٹش مختلف کھیلوں میں مجموعی طور پر4سے 6 تمغے جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہیں: افتتاحی تقریب میں سکواش کے کھلاڑی نور زمان اور پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا نے پرچم تھامے قومی دستے کی قیادت کی: پاکستان کے 7 بہترین شوٹرز این او سی جبکہ پاکستان بیس بال ٹیم سپانسر نہ ملنے کے باعث ایشین گیمز کا حصہ بننے سے محروم رہ گئے

پاکستان کرکٹ کا نیا بحران:محمدرضوان اور امام الحق تنازع

حساس معلومات اور ویڈیوز کے مبینہ لیک ہونے کا معاملہ این سی سی آئی اے اوراعلیٰ عدلیہ تک پہنچ :حتمی فیصلہ فارنزک رپورٹ آنے کے بعد ہوگا، واقعے نے قومی کرکٹ کے اندرونی ڈسپلن اور انتظامی ڈھانچے پر سوالات کھڑے کر دئیے ہیں:ہائیکورٹ سے درخواست خارج ہونے اوررضوان کوایجنسی کے سامنے پیش ہو نے کے حکم کے بعد کھلاڑیوں پر دبائو بڑھ گیا

دانی کی نصیحت

جمعہ کا مبارک دن تھا۔ احمد اپنے بڑے بھائی دانی کے ساتھ جمعہ پڑھنے جا رہا تھا۔ احمد نہا دھو کر صاف ستھرے سفید رنگ کے کپڑے پہنے دانی بھائی کے ساتھ مسجد جارہا تھا کہ راستے میں احمد کا دوست مقیط اسے مل گیا، جو اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا شربت پی رہا تھا ۔

گنیز بک 2027ء میں شامل دنیا کے ہونہار بچے!

میکس الیگزینڈر:کم عمری میں فیشن ورلڈفتح کرنیوالا

بڑا امتحان

شام ہو چلی تھی۔ بادلوں کی ہلکی سی پردہ داری نے موسم کو دلکش بنا دیا تھا اور باہر ہوا میں پرندوں کی چہچہاہٹ گونج رہی تھی۔