پی ٹی آئی کا احتجاج کامیاب ہو گا؟
تحریک انصاف اپنے بانی کو ریلیف دلوانے کیلئے احتجاج کیلئے سرگرم ہے۔ احتجاج کا مقصد حکومت پر دبائو ڈالنا ہے مگر یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ فی الحال تحریک انصاف وہ ماحول طاری نہیں کر پائی جو کسی بڑی احتجاجی تحریک کا پیش خیمہ بن سکے۔
تحریک انصاف کی احتجاجی حکمت عملی کا جائزہ لیا جائے تو اس میں ملک اور عوام کو درپیش مسائل خصوصاً مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر مسائل کا کوئی ذکر نہیں۔ اب تک کی سرگرمیوں میں پی ٹی آئی کی لیڈر شپ اپنے کارکنوں کو اکسا کر انہیں سڑکوں پرلانے کی کوشش میں ہے لیکن فی الحال انہیں اس میں خاطر خواہ کامیابی دکھائی نہیں دے رہی۔ جہاں تک پنجاب کا ذکر ہے تو 9مئی کے واقعات کے بعد پنجاب کے سیاسی محاذ پر پی ٹی آئی کی تنظیمی اور سیاسی طاقت کو دھچکا لگا۔ اس کی ایک وجہ 9مئی کے گھیرائو جلائو کے واقعات میں اس پارٹی کے تنظیمی اور سیاسی عہدیداروں کو عدالتوں سے ملنے والی سزائیں بھی ہیں جن کے اثرات سے تحریک انصاف نکل نہیں پائی۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ احتجاج کا وہ انداز جو ماضی میں تحریک انصاف کی طاقت سمجھا جاتا تھا اور جس سے وہ سیاسی محاذ کو گرم رکھتی تھی اب وہی اس کی کمزوری بن گیا ہے۔ پنجاب میں پی ٹی آئی کو قیادت کے بحران کا بھی سامنا ہے اور تاثر یہ ہے کہ جب تک پنجاب کسی تحریک یا احتجاج میں کردار ادا کرتا نظر نہ آئے تو اس کی کامیابی کے امکانات نہیں ہوتے، یہی وجہ ہے کہ پنجاب کو متحرک کرنے کیلئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو یہاں آنا پڑا اور پنجاب کو سرگرم کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن اس میں بھی انہیں خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی۔
بظاہر اس کی وجہ پنجاب میں حکومت کی انتظامی گرفت ہے اور دوسری پی ٹی آئی کی صفوں میں پایا جانے والا خوف۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا لاہور آنے کا مقصد تو ان کے ایک کارکن اشتیاق کی وفات پر ان کے اہلِ خانہ سے تعزیت کرنا تھا لیکن پی ٹی آئی سمجھتی تھی کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کی آمد پنجاب میں پارٹی کی سطح پر تحرک کا سبب بنے گی۔ ماضی میں کسی صوبہ کا وزیراعلیٰ دوسرے صوبہ میں جاتا تھا تو اس کا شایان شان استقبال کیا جاتا تھا اور اس کی سکیورٹی حکومت پر لازم ہوتی تھی لیکن اس مرتبہ یہ نظر آ یا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سیاسی مقصد سے لاہور آئے ہیں۔ اگرچہ احتجاج جمہوریت کا حصہ ہے اور آئین اور قانون کے تحت احتجاج کی اجازت ہونی چاہئے اور حکومت کو چاہیے کہ اپوزیشن کو سیاسی کردار کی ادائیگی کیلئے ماحول فراہم کرے۔
لاہور میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی آمد پر بعض ایسے واقعات بھی ہوئے جنہیں سراہا نہیں جا سکتا لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ سیاست میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بداعتمادی کا رجحان ملک میں سیاست اور جمہوریت کیلئے اچھا نہیں۔ ہروقت اور ہر ایشو پر احتجاج کا بخار سر پر سوار رہنے اور انتشار کی کیفیت طاری رکھنے کو ملک اور معیشت کے حوالہ سے اچھا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر سیاسی معاملات کو آپس میں بیٹھ کر حل کرنے کی بجائے جلسے جلوسوں اور دھرنوں پر انحصار کیا جائے گا تو یہ نہ ملک کے لیے اچھا ہو گااور نہ ہی سیاست اور جمہوریت مضبوط ہو سکیں گی۔ اس ضمن میں سیاسی قوتوں کو اپنے طرزِ عمل پر نظر ثانی ضرور کرنی چاہئے اور کوئی ایسا راستہ نکالنا چاہیے جس میں تنازعات کا حل مذاکرات کے ذریعہ نکل سکے اور احتجاج کو آئین اور قانون کا پابند رہنا چاہئے۔پی ٹی آئی کو یہ سمجھنا ہو گا کہ عوامی یا سیاسی قوت سیاسی جماعتوں کی مضبوطی کا باعث ہوتی ہے، اس کا درست سمت میں استعمال کرکے اپنے مقاصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن آج کے ملکی حالات کا تجزیہ کیا جائے تو حکومت اور ریاست پی ٹی آئی کے احتجاج کے بارے اس لئے الرٹ نظر آتی ہے کہ 9مئی کے گھیرائو جلائو کے واقعات کے اثرات ریاست پر اچھے نہیں پڑے۔
ماضی میں سیاسی قوتیں ڈکٹیٹر شپ کو چیلنج کرتی رہی ہیں لیکن قومی اور عسکری املاک کو ٹارگٹ کرنے کی کوئی نظیر موجود نہیں۔ 9مئی کے واقعات نے جہاں پی ٹی آئی کیلئے مشکلات پیدا کی ہیں وہاں اس کے اثرات ملکی جمہوری عمل پر بھی اچھے نہیں پڑے اور ساری سیاسی قوتیں دفاعی محاذ پر کھڑی نظر آتی ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ آنے والے چند روز میں بھی سیاسی محاذ پر تنائو اور ٹکرائو دیکھنے میں آئے گا۔ اچھا یہی ہو گا کہ حکومت اور اپوزیشن اس ٹکرائو کے ماحول سے نجات حاصل کریں اور ملک میں سیاسی قوتوں کے کردار کی بلا امتیاز بحالی کا بندوبست یقینی بنائیں۔
وزیراعظم شہبازشریف اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے درمیان چیف الیکشن کمشنر اور دیگر آئینی تقرریوں کیلئے مکتوبات کا سلسلہ اور مل بیٹھ کر ان مسائل کے حل کا عزم اچھی پیش رفت ہے لیکن اس ضمن میں ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی وزیراعظم آفس جانے سے بوجوہ گریزاں ہیں اور انہیں یہ تجویز دی جا رہی ہے کہ وہ اگر وزیراعظم آفس نہیں آنا چاہتے تو پارلیمنٹ ہائوس میں وزیراعظم آفس میں بیٹھ کر ان آئینی تقرریوں پر مشاورت کی جا سکتی ہے۔ یہ مشاورت آئینی ضرورت بھی ہے اور اس کے اچھے اثرات سیاست اور پارلیمنٹ پر بھی ہو سکتے ہیں، لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن آئینی اور سیاسی امور پر ڈائیلاگ کا عمل آگے بڑھائیں اور تنائو اور ٹکرائو سے اجتناب برتیں، اس لئے کہ یہ عمل فریقین کیلئے اور ملک کیلئے بھی نقصان دہ ہے۔
احتجاج کا عمل ایک خاص وقت اور حد تک تو فائدہ مند ہوتا ہے لیکن ہروقت کی احتجاجی سیاست سیاسی قوتوں کو مضبوط بنانے کی بجائے کمزور کرتی ہیں اور ان کا سیاسی کردار محدود ہو جاتا ہے یا کر دیا جاتا ہے۔ آج کے پاکستان کو دنیا بھر میں اگر اس کے سفارتی کردار اور خاص طور پر بھارتی جارحیت کے خلاف بڑی جیت پر پذیرائی مل رہی ہے تو ان مواقع کو ملک کے بہتر اور روشن مستقبل کیلئے بروئے کار لانا چاہئے۔ کیا سیاسی قوتوں کیلئے یہ لمحۂ فکریہ نہیں کہ بیرونی محاذ پر پاکستان کی پذیرائی مگر اندرونی محاذ پر انتشار اور خلفشار، یہ سلسلہ بڑے تضاد کا حامل ہے اسے دور کرنا چاہئے اور آپس میں مل بیٹھ کر کوئی ایسا حل ضرور نکالنا چاہئے جس سے ملک میں سیاست بحال ہو اور احسن انداز میں اپنا کردار ادا کرے۔یہ ملک و قوم اور خود سیاسی جماعتوں کیلئے ضروری ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments