وزیراعلیٰ پر نااہلی کی لٹکتی تلوار

تحریر : عابدحمید


وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سندھ کے دورے کے بعد پنجاب پہنچے، مقصد سٹریٹ موومنٹ تھا۔سندھ میں بھی وزیر اعلیٰ کے دورے کے دوران کچھ تنازعات سامنے آئے اور پنجاب میں بھی کچھ ایسا ہی دیکھا گیا

 جب انہوں نے اپنے روٹ کیلئے بند سڑک کھلوانے کا کہا اور وہیں بیٹھ گئے کہ جب تک عام لوگوں کا راستہ نہیں کھولا جاتا وہ یہاں سے نہیں جائیں گے۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل ہوگئی اس کے بعد ایک دوسری ویڈیو میں وہ پولیس وین میں بیٹھے دکھائی دیئے۔ یہ کہاگیا کہ انہیں پنجاب پولیس نے زبردستی گاڑی میں بٹھایا جس کے بعد یہ بیان سامنے آیا کہ پولیس نے انہیں اغوا کرنے کی کوشش کی اور بعد ازاں عوام کے احتجاج پر انہیں چھوڑ دیاگیا۔یہاں تک تو صحیح ہے انہوں نے اپنے دورے کے پہلے دن ہی اپنا مقصد حاصل کرلیا اور سوشل میڈیا پر چھائے رہے لیکن جس سٹریٹ موومنٹ کیلئے پنجاب گئے تھے وہ پورا ہوگیا؟یہ وہ سوال ہے جس کا جواب 27ستمبر کو ہی ملے گا۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ وہ پنجاب میں ایک اچھا سیاسی شو کرنے میں کامیاب رہے۔ سوشل میڈیا پر یہ بھی پوچھا جاتارہا کہ کیا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی آمدورفت کے دوران پشاور میں بھی سڑکیں بند کی جاتی ہیں تو اس کاجواب نفی میں ہے، یہ ایک خوش کن امر ہے کہ پی ٹی آئی کے وزرا اور وزیراعلیٰ خود بھی روٹ نہیں لگواتے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اپنے آبائی علاقے سمیت دیگراضلاع میں بھی عوام سے گھلتے ملتے دیکھا گیا، تاہم پنجاب میں معاملہ مختلف تھا۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ پنجاب میں انہیں کوئی خطرہ تھا اور خیبرپختونخوا میں نہیں البتہ یہ وہاں کی صوبائی حکومت کی ذمہ داری تھی کہ دوسرے صوبے کے چیف ایگزیکٹو کو مکمل پروٹوکول دیا جاتا اوران کی حفاظت کے انتظامات کریں، تاہم سہیل آفریدی اس صورتحال کو کیش کرنے میں بہت حد تک کامیاب رہے۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی لاہور میں پولیس موبائل میں بیٹھنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل ہونے کے بعدسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے رات گئے اپنی جماعت کے پارلیمنٹیرینز کو بلایا اور اس واقعے کی مذمت کی۔ پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے پہلے دن کے دورے اور اس دوران پیش آنے والے واقعات کو بھرپور طریقے سے کیش کیا۔پنجاب حکومت کو بھی اس بات کاادراک ہے کہ اگر ماضی کی طرح ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تو اس سے پی ٹی آئی کو سیاسی فائدہ ملے گا۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے دورۂ لاہورمیں اپنی تقریر کے دوران کہاکہ پنجاب میرا ہے اور میں پنجابیوں کاہوں اور یہاں مجھے کوئی خطرہ نہیں، یہ ایک مثبت بیان قرار دیاجارہا ہے کیونکہ اس وقت ملک میں جس طرح کی لسانی تقسیم کی کوششیں کی جارہی ہے ایسے میں کسی سیاسی لیڈر کی جانب سے ایسا بیان یقینا خوش آئند ہے۔سیاسی جماعتوں کو لسانی یا مذہبی منافرت سے بچ کر چلنے کی ضرورت ہے اور ابھی تک پاکستان تحریک انصاف اس میں کامیاب نظر آتی ہے۔ تاہم وزیراعلیٰ پنجاب کے چھوٹے صوبوں کے حوالے سے بیان کی حدت ابھی کم نہیں ہوئی۔وزیر اعلیٰ مریم نوازاوروزیر اعظم کے مشیر راناثنا اللہ کے بیانات کے خلاف خیبرپختونخوا اسمبلی میں قرارداد منظور کی گئی ہے جس میں دونوں رہنماؤں کی جانب سے خیبرپختونخوا کو دہشتگردی سے جوڑنے کی مذمت کی گئی ہے۔ سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے گزشتہ روز ریمارکس دئیے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے بیان سے خیبرپختونخوا کے عوام کی دل آزاری ہوئی اوروہ سپیکر قومی اسمبلی کے ذریعے اس بابت وزیراعلیٰ پنجاب سے گلہ کرسکتے ہیں۔ 

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ایک طرف پنجاب کے دورے پر ہیں تو دوسری طرف ان کے سرپر نااہلی کی تلوار لٹک رہی ہے۔ نومئی کیس کے سلسلے میں خیبرپختونخوا پولیس کی جانب سے فارنزک اور نادرا کی رپورٹ عدالت میں جمع کرادی ہے۔ ایک طرف یہ کیس اپنے منطقی انجام کو پہنچتا ہوا دکھائی دے رہا ہے تو دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت نے محکمہ پولیس پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کیلئے قانونی سازی شروع کردی ہے۔ صوبائی حکومت ایک بارپھر پولیس ایکٹ میں ترامیم کرنے جارہی ہے جس کے بعد آئی جی خیبرپختونخوا سے اختیارات واپس لئے جاسکتے ہیں۔ اس سے قبل اکتوبر2024ء میں صوبائی حکومت نے آئی جی پولیس کے اختیارات کم کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کو پولیس کے متعدد اہم اختیارات دے دیئے تھے، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے ان ترامیم کو کالعدم قراردیااورپولیس کے اختیارات اور کمانڈ سے متعلق سابق پوزیشن بحال کردی۔ اب ایک بارپھر اسی نوعیت کی ترامیم کی جارہی ہیں جس کے بعد اختیارات وزیراعلیٰ کو منتقل کئے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق نئی ترامیم میں آئی جی کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہونے کی صورت میں قبل ازوقت تبادلے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ اعلیٰ پولیس افسروں کی ٹرانسفر پوسٹنگ کے طریقہ کارمیں تبدیلی کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ موجودہ قانون میں یہ اختیارآئی جی خیبرپختونخوا کے پاس ہے لیکن صوبائی حکومت یہ اختیار وزیراعلیٰ کو دینا چاہتی ہے۔ اس سے قبل محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت کے خاتمے کیلئے یہ قانون بنایاگیاتھا لیکن اب متعدد ترامیم کے ذریعے پولیس کے انتظامی معاملات میں صوبائی حکومت کا کردار بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے جو پی ٹی آئی کے اپنے منشور کے خلاف ہے جس میں اداروں میں سیاسی مداخلت ختم کرنے کا کہاگیا ہے۔ ایک اور تجویز جس پر پولیس کے اندرونی حلقوں کو اعتراض ہے وہ پولیس کی کارکردگی اور عوامی شکایات کی نگرانی کمشنر کے ذریعے کروانے کے بارے میں ہے۔سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے دورمیں بھی جب پولیس ایکٹ میں ترامیم کی گئیں تو اس محکمے کے اندرسے خاموش مزاحمت کی گئی تھی، بعض حلقے اسے نومئی کے کیسز سے بھی جوڑ رہے ہیں جن کا کہناہے کہ اس طریقے سے صوبائی حکومت اپنے ایم پی ایز اور اہم رہنماؤں کے خلاف کی جانے والی تحقیقات پر اثرانداز ہونا چاہتی ہے۔

پی ٹی آئی کے بیشتر ایم پی ایز کے خلاف نومئی کے حوالے سے کیسز عدالتوں میں چل رہے ہیں جن میں کچھ وزرا بھی شامل ہیں۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کی جانب سے پشاور پولیس کی جرائم کے خلاف بہتر کارکردگی کے باوجود اس پر تنقید کی جاتی ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کو اچھے کاموں پراپنی پولیس کی پشت پر کھڑے ہونا چاہیے۔ پشاورجہاں سب سے زیادہ قتل اراضی کے تنازعات کی وجہ سے ہوتے تھے اب یہ خاصے کم ہوگئے ہیں۔ یہی وہ اعدادوشمار ہیں جن کا ذکرماضی میں بانی پی ٹی آئی کی ہرتقریر میں ملتاتھا اورخیبرپختونخوا پولیس کو مثالی قرار دیا جاتا تھا مگر اب معاملہ مختلف ہے اور صوبائی حکومت پولیس پر اعتبارکرنے کو تیار نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

پٹرول کی قیمتیں،عوام اور حکومت کا امتحان

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور توانائی کے عالمی بحران نے پاکستان کی معیشت کیلئے ایک نئی آزمائش پیدا کر دی ہے۔

پی ٹی آئی کا احتجاج کامیاب ہو گا؟

تحریک انصاف اپنے بانی کو ریلیف دلوانے کیلئے احتجاج کیلئے سرگرم ہے۔ احتجاج کا مقصد حکومت پر دبائو ڈالنا ہے مگر یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ فی الحال تحریک انصاف وہ ماحول طاری نہیں کر پائی جو کسی بڑی احتجاجی تحریک کا پیش خیمہ بن سکے۔

بلدیاتی ترمیمی بل پر سندھ اسمبلی میں ہنگامہ

سندھ بلدیاتی حکومت ترمیمی بل 2026 منظور کرلیا گیا ہے۔ بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا، بل کی کاپیاں پھاڑ دیں اور نعرے بازی کی۔

بلوچستان، امن کے چیلنجز اور اعتماد کا بحران

بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال اس وقت کئی متضاد تصویروں کو ایک ساتھ سامنے لا رہی ہے۔ ایک تصویر میں ریاستی ادارے دہشت گردی کے خلاف مسلسل کارروائیاں کرتے دکھائی دیتے ہیں،

کون بنے گا صدر آزاد جموں و کشمیر؟

آزاد جموں و کشمیر میں صدرِ ریاست کا منصب تقریباً نو ماہ سے خالی ہے اور اب بالآخر اس اہم آئینی عہدے کیلئے انتخاب کی تاریخ مقرر کر دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کے مطابق نئے صدر کا انتخاب 24 ستمبر کو ہوگا۔

اچھی صحت کے لیے کیا کھائیں، کتنا کھائیں ؟

خواتین اور نوجوان لڑکیوں کی صحت کا براہِ راست تعلق ان کی روزمرہ خوراک سے ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر خوراک کا انتخاب ذائقے، سہولت یا خاندانی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے جبکہ جسم کی اصل ضرورت یعنی متوازن غذائیت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔