کون بنے گا صدر آزاد جموں و کشمیر؟

تحریر : محمد اسلم میر


آزاد جموں و کشمیر میں صدرِ ریاست کا منصب تقریباً نو ماہ سے خالی ہے اور اب بالآخر اس اہم آئینی عہدے کیلئے انتخاب کی تاریخ مقرر کر دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کے مطابق نئے صدر کا انتخاب 24 ستمبر کو ہوگا۔

 چیف الیکشن کمشنر آزاد  جموں و کشمیر جسٹس (ر) غلام مصطفی مغل نے صدارتی انتخاب کا شیڈول جاری کرتے ہوئے بتایا کہ امیدوار 19 ستمبر کو صبح 10 بجے سے دوپہر 12 بجے تک اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا سکیں گے۔ چیف الیکشن کمشنر خود ریٹرننگ افسر کی حیثیت سے فرائض انجام دیں گے۔ کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال بھی اسی روز ہوگی جبکہ امیدوار 23 ستمبر کو صبح ساڑھے 11 بجے  تک اپنے کاغذاتِ نامزدگی واپس لے سکیں گے۔صدارتی انتخاب کیلئے پولنگ 24 ستمبر کو صبح 10 بجے سے دوپہر ایک بجے تک آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ میں ہوگی۔ پولنگ مکمل ہونے کے فوراً بعد ووٹوں کی گنتی شروع کی جائے  گی اور نتیجہ بھی اسی روز جاری کر دیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق صدر کا انتخاب اسمبلی کے اراکین کے ووٹوں کی اکثریت سے ہو گا اور صدر کی مدت پانچ سال ہوگی۔ 

صدارتی انتخاب کا اصل سیاسی پہلو انتخابی شیڈول سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ قانون ساز اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کی واضح عددی برتری کے باعث پارٹی کے نامزد امیدوار کی کامیابی کے امکانات واضح ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کو آزادجموں و کشمیر کے صدر کے منصب کے لیے نامزد کیا ہے۔پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے ٹوئٹ میں کہا کہ میاں نواز شریف نے ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کو صدر آزاد جموں و کشمیر کے عہدے کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جماعت اور اس کی قیادت کی جانب سے ڈاکٹر محمد نجیب نقی کو اس نامزدگی پر مبارک پیش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر نجیب نقی کا تعلق ضلع سدھنوتی سے ہے اور انہوں نے اپنے والد کرنل محمد نقی خان کے انتقال کے بعد 1990ء کی دہائی میں عملی سیاست کا آغاز کیا۔1991ء کے انتخابات میں وہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس دور میں انہوں نے صحت، منصوبہ بندی اور ترقی کے شعبوں میں پارلیمانی سیکرٹری کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں ادا کیں۔

1996ء میں دوبارہ مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔2001ء سے 2006ء تک وہ آزاد جموں و کشمیر کونسل کے رکن رہے۔ 2006ء کے انتخابات مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر جیت کر وہ ایک مرتبہ پھر اسمبلی کے رکن بنے اور حکومت میں صحت، بہبودِ آبادی، کالجز اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے محکموں کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ 2011 ء میں وہ مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پررکن قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے۔ 2016ء میں ڈاکٹر نجیب نقی (ن) لیگ کے ٹکٹ پر دوبارہ منتخب ہوئے اور وزارتِ صحت، خزانہ، منصوبہ بندی و ترقیات جیسے اہم محکموں کے وزیر رہے۔اس وقت پونچھ ڈویژن کے دو اضلاع راولاکوٹ اور سدھنوتی میں سیاسی کشیدگی کے دوران ڈاکٹر نجیب نقی کے صدر آزاد کشمیر بننے سے حالات میں بہتری کی امید کی جاتی ہے۔ پیپلزپارٹی نے تاحال صدارتی امیدوار کے نام کا اعلان نہیں کیا۔ پیپلزپارٹی کے صدارتی امیدوار کا اعلان چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری آئندہ چند روز میں کریں گے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے پاس قانون ساز اسمبلی میں کل 14ووٹ ہیں۔

 صدارتی انتخاب نے آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک اور اہم بحث کو بھی جنم دیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شاہ غلام قادر اس منصب کے امیدوار کیوں نہیں بننا چاہتے؟شاہ غلام قادر کا مؤقف ہے کہ وہ پارلیمانی سیاست میں رہ کر عوامی مینڈیٹ کے ساتھ اپنا سیاسی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تاکہ براہِ راست عوام سے رابطے میں رہیں۔ ان کے بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ اپنی سیاست کو ایک ایسے پارلیمانی کردار کے ساتھ آگے بڑھانا چاہتے ہیں جس میں پارٹی تنظیم، کارکنوں، منتخب نمائندوں اور عوام کے ساتھ ان کا براہِ راست رابطہ برقرار رہے۔ یہاں ایک بنیادی آئینی نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ صدرِ آزاد جموں و کشمیر محض ایک رسمی عہدہ نہیں صدر کو بعض اہم اختیارات حاصل ہیں جن میں سزا میں تخفیف، معافی، معطلی یا تبدیلی جیسے اختیارات بھی شامل ہیں، اگرچہ ان اختیارات کا استعمال آئینی و قانونی حدود کے تابع ہے۔ صدر آزاد کشمیر کے نظام میں قانون سازی اور حکومت کے بعض آئینی اقدامات کے حوالے سے بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے صدر کے منصب پر فائز شخصیت کا آئینی فہم، سیاسی تجربہ اور حکومتی معاملات پر گرفت اہمیت رکھتی ہے۔

اس سے بھی بڑھ کر آزاد جموں و کشمیر کی مخصوص آئینی اور سیاسی حیثیت صدر کے منصب کو ایک منفرد جہت دیتی ہے۔ تحریکِ آزادیِ جموں و کشمیر کے تناظر میں صدرِ آزاد کشمیر بیرونِ ملک اور اندرونِ ملک مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کو اجاگر کرنے میں ایک نمائندہ کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صدرِ آزاد کشمیر کے منصب کو صرف ایک آئینی رسمی منصب سمجھنا اس کی پوری اہمیت کو بیان نہیں کرتا۔تاہم اسی مقام پر صدر اور وزیراعظم کے سیاسی کردار میں فرق بھی واضح رہنا چاہیے۔ حکومت چلانے کی بنیادی ذمہ داری وزیراعظم اور کابینہ پر عائد ہوتی ہے جبکہ صدر کا منصب آئینی سربراہ کی حیثیت سے الگ نوعیت کا ہے۔ اس لیے صدر کے عہدے پر کسی ایسے شخص کا انتخاب جو اپنے سیاسی کردار کو براہِ راست حکومت سازی اور جماعتی سیاست سے وابستہ رکھنا چاہتا ہو ایک مختلف سیاسی ترجیح پیدا کر سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

پٹرول کی قیمتیں،عوام اور حکومت کا امتحان

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور توانائی کے عالمی بحران نے پاکستان کی معیشت کیلئے ایک نئی آزمائش پیدا کر دی ہے۔

پی ٹی آئی کا احتجاج کامیاب ہو گا؟

تحریک انصاف اپنے بانی کو ریلیف دلوانے کیلئے احتجاج کیلئے سرگرم ہے۔ احتجاج کا مقصد حکومت پر دبائو ڈالنا ہے مگر یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ فی الحال تحریک انصاف وہ ماحول طاری نہیں کر پائی جو کسی بڑی احتجاجی تحریک کا پیش خیمہ بن سکے۔

بلدیاتی ترمیمی بل پر سندھ اسمبلی میں ہنگامہ

سندھ بلدیاتی حکومت ترمیمی بل 2026 منظور کرلیا گیا ہے۔ بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا، بل کی کاپیاں پھاڑ دیں اور نعرے بازی کی۔

وزیراعلیٰ پر نااہلی کی لٹکتی تلوار

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سندھ کے دورے کے بعد پنجاب پہنچے، مقصد سٹریٹ موومنٹ تھا۔سندھ میں بھی وزیر اعلیٰ کے دورے کے دوران کچھ تنازعات سامنے آئے اور پنجاب میں بھی کچھ ایسا ہی دیکھا گیا

بلوچستان، امن کے چیلنجز اور اعتماد کا بحران

بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال اس وقت کئی متضاد تصویروں کو ایک ساتھ سامنے لا رہی ہے۔ ایک تصویر میں ریاستی ادارے دہشت گردی کے خلاف مسلسل کارروائیاں کرتے دکھائی دیتے ہیں،

اچھی صحت کے لیے کیا کھائیں، کتنا کھائیں ؟

خواتین اور نوجوان لڑکیوں کی صحت کا براہِ راست تعلق ان کی روزمرہ خوراک سے ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر خوراک کا انتخاب ذائقے، سہولت یا خاندانی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے جبکہ جسم کی اصل ضرورت یعنی متوازن غذائیت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔