بلوچستان، امن کے چیلنجز اور اعتماد کا بحران

تحریر : عرفان سعید


بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال اس وقت کئی متضاد تصویروں کو ایک ساتھ سامنے لا رہی ہے۔ ایک تصویر میں ریاستی ادارے دہشت گردی کے خلاف مسلسل کارروائیاں کرتے دکھائی دیتے ہیں،

 دوسری تصویر میں عام شہری اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھائے انصاف کیلئے سڑکوں پر ہیں، جبکہ تیسری تصویر سیاسی حلقوں کی ہے جو بدامنی کے ساتھ سیاسی، آئینی اور معاشی مسائل کو بھی بحران کی بنیادی وجہ قرار دے رہے ہیں۔ اس لیے بلوچستان کے موجودہ حالات کو کسی ایک زاویے سے دیکھنا شاید مسئلے کو سمجھنے کے بجائے مزید محدود کردے۔حکومت اور سکیورٹی اداروں کا مؤقف اپنی جگہ واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کسی قسم کی نرمی کی گنجائش نہیں۔ مستونگ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی ہلاکت، پشین اور قلعہ عبداللہ میں کارروائی کے دوران دہشت گردوں کی ہلاکت اور گرفتاری اور قلات میں کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے مارے جانے کو دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف فورسز کی مسلسل جدوجہد کا حصہ قرار دیا جارہاہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مشکل حالات میں اپنی ذمہ داریاں ادا کررہے ہیں اور دہشت گردی کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بھی اسی ریاستی پالیسی کو دوٹوک انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔گزشتہ دنوں قومی میڈیا کے سینئر صحافیوں اور اینکرز سے سعودی عرب سے میڈیا لنک کے ذریعے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں سے کسی صورت بات نہیں ہوگی۔

حکومت کی نظر میں امن و امان کے بغیر ترقیاتی عمل آگے نہیں بڑھ سکتا اسی لیے پولیس اصلاحات، لیویز فورس کے پولیس میں انضمام، سیف سٹی منصوبے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان ہم آہنگی جیسے اقدامات کو بھی حکومتی حکمت عملی کا حصہ بنایا جارہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ترقیاتی منصوبوں، گورننس، سروس ڈیلیوری اور معدنی وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کرکے عوام کیلئے معاشی فوائد پیدا کرنے کی حکومتی کوششوں کا بھی ذکر کیا انہوں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے کہا کہ کوئٹہ سے بیٹھ کر پورے صوبے کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ نئے صوبوں کے حامی ہیں، قومی اسمبلی میں اس پر اتفاق رائے ہوتا ہے تو بلوچستان اسمبلی اس کیلئے تیار ہے۔انہوں نےکہا کہ دہشت گردی کسی ایک صوبے کا نہیں پورے پاکستان کا مسئلہ ہے اور اس کے خاتمے کیلئے قومی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے ہمسایہ صوبوں سے دہشت گردی کے خطرات کے بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نہ کرے کہ پنجاب یا دیگر صوبے بلوچستان جیسی دہشت گردی کا سامنا کریں، ہم پورے ملک کے لئے نہ صرف دہشت گردی سے لڑرہے ہیں بلکہ ایک بفر زون کا کردار ادا کررہے ہیں۔

دوسری جانب دالبندین میں سرگیشہ ناکے سے دو پولیس اہلکاروں کا اغوا ہو یا قلعہ عبداللہ کی گلستان تحصیل سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد کا اغوا، ایسے واقعات عام شہریوں کیلئے اس بنیادی سوال کو جنم دیتے ہیں کہ آخر وہ کس مقام پر خود کو محفوظ سمجھیں؟ نصیرآباد میں ایک مزدور کے اغوا اور دوسرے کے زخمی ہونے کا واقعہ بھی اسی تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔ جیوانی میں گاڑی پر فائرنگ سے چار افراد کا قتل بھی امن و امان کی صورتحال پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع کے مطابق صوبہ بدامنی، بے یقینی، معاشی مشکلات اور سیاسی عدم استحکام کے سنگین دور سے گزر رہا ہے۔ سیاسی قیادت کو الزام تراشی اور پوائنٹ سکورنگ کے بجائے سنجیدہ، حقیقت پسندانہ اور قابلِ عمل حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ ان کے نزدیک سیاسی اختلاف جمہوریت کا حصہ ہے لیکن اسے قومی تقسیم میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔دوسری جانب سینئر سیاسی رہنما نوابزادہ لشکری رئیسانی نے سیاسی و حکومتی نظام پر شدید اعتراضات کئے ہیں۔ ان کے مطابق ہائبرڈ نظام ناکام ہوچکا ہے اور بلوچستان کے حالات شفاف انتخابات، ووٹ کے احترام اور احتساب کے بغیر بہتر نہیں ہوسکتے۔ ان کا موقف حکومتی پالیسیوں اور سیاسی بندوبست پر تنقید پر مبنی ہے تاہم اس میں بلوچستان کے سیاسی اعتماد اور وسائل سے متعلق وہ سوالات موجود ہیں جنہیں طویل عرصے سے مختلف حلقے اٹھاتے رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق حکومت کا یہ مؤقف قابلِ فہم ہے کہ دہشت گردی کے سامنے ریاست خاموش نہیں رہ سکتی اور جو عناصر شہریوں اور ریاستی اداروں کو نشانہ بناتے ہیں ان کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔ اگر دہشت گردی کو محض سیاسی یا انتظامی مسئلہ سمجھ کر چھوڑ دیا جائے تو اس کا نقصان سب سے پہلے عام شہری کو ہی ہوگا۔ اسی طرح سکیورٹی اہلکاروں کی جانوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جو خطرناک حالات میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔عوام کا سوال بھی اپنی جگہ اتنا ہی جائز ہے کہ کارروائیوں کا آخری مقصد کیا ہے؟ اگر مقصد شہریوں کو تحفظ دینا ہے تو اس تحفظ کا احساس ان کی روزمرہ زندگی میں بھی نظر آنا چاہیے۔ کسی خاندان کیلئے امن کا مطلب اپنے بیٹے، بھائی یا شوہر کا بحفاظت گھر واپس آنا ہے۔ کسی مزدور کیلئے ترقی کا مطلب صرف منصوبے کا اعلان نہیں بلکہ ایسا ماحول ہے جہاں وہ خوف کے بغیر کام کرسکے۔ کسی تاجر کیلئے امن وہ ہے جہاں سڑکیں محفوظ ہوں اور کاروبار بلاخوف جاری رہے۔اسی طرح سیاسی جماعتوں کے سوالات کو بھی نظرانداز کرنا دانشمندی نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف ریاستی کارروائی اور سیاسی مکالمہ ایک دوسرے کے مد مقابل نہیں۔

جہاں بندوق اٹھانے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آنا چاہیے وہیں سیاسی اختلاف رکھنے والوں کیلئے آئینی اور جمہوری راستے بھی کھلے رہنے چاہئیں۔ شفاف انتخابات، احتساب، وسائل میں جائز حصہ، بہتر گورننس اور عوامی نمائندگی جیسے معاملات پر سیاسی بحث کو قومی سلامتی کے خلاف قرار دینا مسئلے کا حل نہیں۔بلوچستان کا بحران ایسے ماحول کا تقاضا کرتا ہے جس میں حکومت کو امن قائم کرنے کیلئے ضروری اختیار اور اداروں کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی مکمل صلاحیت حاصل ہو، اوراس کے ساتھ عام شہری کو انصاف، تحفظ اور عزتِ نفس کی ضمانت بھی ملے۔حکومت کو امن کی جنگ جیتنی ہے، عوام کو خوف کے خلاف اپنی روزمرہ زندگی واپس لینی ہے اور سیاسی قوتوں کو اعتماد کی وہ فضا پیدا کرنی ہے جس میں اختلاف دشمنی نہ بنے۔ اگر ریاستی طاقت امن قائم کرے، حکومت اس امن کو بہتر گورننس اور انصاف میں تبدیل کرے، عوام کو اس کا حقیقی فائدہ ملے اور سیاسی جماعتیں آئینی و جمہوری راستے کو مضبوط کریں تو بلوچستان کے بحران سے نکلنے کا راستہ پیدا ہوسکتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کون درست ہے، اصل امتحان یہ ہے کہ درست باتوں کو ایک مشترکہ لائحہ عمل میں کیسے تبدیل کیا جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

پٹرول کی قیمتیں،عوام اور حکومت کا امتحان

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور توانائی کے عالمی بحران نے پاکستان کی معیشت کیلئے ایک نئی آزمائش پیدا کر دی ہے۔

پی ٹی آئی کا احتجاج کامیاب ہو گا؟

تحریک انصاف اپنے بانی کو ریلیف دلوانے کیلئے احتجاج کیلئے سرگرم ہے۔ احتجاج کا مقصد حکومت پر دبائو ڈالنا ہے مگر یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ فی الحال تحریک انصاف وہ ماحول طاری نہیں کر پائی جو کسی بڑی احتجاجی تحریک کا پیش خیمہ بن سکے۔

بلدیاتی ترمیمی بل پر سندھ اسمبلی میں ہنگامہ

سندھ بلدیاتی حکومت ترمیمی بل 2026 منظور کرلیا گیا ہے۔ بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا، بل کی کاپیاں پھاڑ دیں اور نعرے بازی کی۔

وزیراعلیٰ پر نااہلی کی لٹکتی تلوار

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سندھ کے دورے کے بعد پنجاب پہنچے، مقصد سٹریٹ موومنٹ تھا۔سندھ میں بھی وزیر اعلیٰ کے دورے کے دوران کچھ تنازعات سامنے آئے اور پنجاب میں بھی کچھ ایسا ہی دیکھا گیا

کون بنے گا صدر آزاد جموں و کشمیر؟

آزاد جموں و کشمیر میں صدرِ ریاست کا منصب تقریباً نو ماہ سے خالی ہے اور اب بالآخر اس اہم آئینی عہدے کیلئے انتخاب کی تاریخ مقرر کر دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کے مطابق نئے صدر کا انتخاب 24 ستمبر کو ہوگا۔

اچھی صحت کے لیے کیا کھائیں، کتنا کھائیں ؟

خواتین اور نوجوان لڑکیوں کی صحت کا براہِ راست تعلق ان کی روزمرہ خوراک سے ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر خوراک کا انتخاب ذائقے، سہولت یا خاندانی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے جبکہ جسم کی اصل ضرورت یعنی متوازن غذائیت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔