ہاجرہ مسر ور اُردو ادب میں نسائی شعور کی اہم نمائندہ

تحریر : ڈاکٹر عرفان احسن پاشا


آ ج14ویں برسی:اسلوب میں درد مندی کا جذبہ ان کی تحریر کو اثر پذیری بخشتا ہے : انہوں نے عورت کو محض جذباتی یا ثانوی کردار کے طور پر پیش نہیں بلکہ اپنے افسانوں میں عورت کے مسائل اور اس کی جدوجہد کو نہایت حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا گیا :ہاجرہ مسرور کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنی عبارت میں نادر تشبیہات واستعارات کا استعمال کرکے منظر قاری کے ذہن پر نقش کر دیتی ہیں

ہاجرہ مسرور…مختصر سوانح

٭ہاجرہ مسرور 17 جنوری 1930 ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئیں۔ والد، سید ظہور علی خان برطانوی فوج کے ڈاکٹر تھے۔آٹھ برس کی عمر میں والد کا انتقال ہوا توبچوں کی ذمہ داری ان کی باہمت والدہ نے اٹھائی۔ ماں کی اچھی تربیت کا یہ نتیجہ نکلا کہ بچوں نے اپنے اپنے شعبوں میں خوب ترقی کی۔ قیام پاکستان کے بعد یہ خاندان پہلے بمبئی سے کراچی آیا اور پھر لاہور منتقل ہو گیا۔پاکستان میں ہاجرہ مسرور نے کئی ادبی جرائد کیلئے لکھا اور یہاں ان کے چار افسانوی مجموعے منظر عام پر آئے۔ لاہورمیں ان کا افسانوی مجموعہ ’’سب افسانے میرے‘‘ شائع ہوا۔ 1962ء میں مجلس ترقی ادب نے انہیں ’’رائٹر آف دی ائیر‘‘ ایوارڈ دیا۔ یہ ایوارڈ انہیں ان کے ایک ایکٹ کے ڈراموں کے مجموعے ’’وہ لوگ‘‘ پر دیا گیا تھا۔ ہاجرہ مسرور نے کبھی فلمی کہانیوں پر توجہ نہیں دی تھی لیکن 60ء کی دہائی میں انہوں نے ایک فلم کی کہانی اور مکالمے تحریر کیے۔ انہیں اس فلم سکرپٹ لکھنے پر نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔

اس فلم کے بارے کہا جاتا ہے کہ مشرقی پاکستان میں بننے والی یہ سب سے بہترین اردو فلم تھی جس کا نام تھا ’’آخری سٹیشن‘‘۔ یہ فلم معروف شاعر اور فلمی گیت نگار سرور بارہ بنکوی نے بنائی تھی ،اور یہ اداکارہ شبنم کی پہلی فلم تھی جنہوں نے یہ تسلیم کیا کہ اس فلم کا سکرپٹ جاندار تھا جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے کیرئیر کی بہترین کارکردگی اس فلم میں دکھائی۔1995ء میں ہاجرہ مسرور کو تمغہ حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں نگار ایوارڈ اور عالمی فروغ اردوادب ایوارڈ بھی دیا گیا۔ ان کے افسانوی مجموعوں میں ’’چاندکی دوسری طرف‘‘، ’’تیسری منزل‘‘ ’’اندھیرے اجالے‘‘ ’’چوری چھپے‘‘، ’’ہائے اللہ‘‘، ’’چرکے‘‘، ’’وہ لوگ‘‘ اور ’’ملمع‘‘ شامل ہیں۔یہ باکمال افسانہ نویس 15 ستمبر 2012ء کو کراچی میں انتقال کر گئیں۔ گِزری قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

 اردو ادب میں جہاں مرد افسانہ نگاروں نے اپنی فنی عظمت کے نقوش ثبت کئے ہیں وہاں خواتین بھی اس میدان میں پیچھے نہیں رہیں۔ ان میں قرۃ العین حیدر اور عصمت چغتائی کے نام سرفہرست ہیں۔ اس صف میں ہاجرہ مسرور کا نام  شامل نہ کیا جائے تو یہ ناانصافی ہو گی۔ہاجرہ مسرور سے کچھ ہی پہلے اردو ادب میں عصمت چغتائی ، قر ۃلعین حیدر اور خدیجہ مستور کا ظہور ہوا اور ان سے کچھ ہی عرصہ بعد بانو قدسیہ، جیلانی بانو، خالدہ حسین اور واجدہ تبسم وغیرہ نے لکھنا شروع کیا ،لیکن ہاجرہ مسرور کی تحریریں ایسی انفرادیت ، گہرائی، معنویت اور دلچسپی کی حامل ہیں کہ وہ اس کہکشاں میں سب سے الگ اور منور دکھائی دیتی ہیں۔ہاجرہ مسرور کی تخلیقات میں درد کی ایک لہر محسوس ہوتی ہے۔ وہ اپنے ماحول سے مواد اور موضوع منتخب کرتی ہیں اور اپنے کرداروں کے میلانات و رجحانات کی خوبیوں اور خامیوں کی عکاسی بڑی ہنرمندی سے کرتی ہیں۔ گھریلو عورتوں اور گھریلو  مسائل کے بارے میں ان کا مشاہدہ وسیع اور گہرا ہے؛ چنانچہ وہ خواتین کے نفسیاتی اور جذباتی مسائل کا تجزیہ بڑی مشاقی سے کرتی ہیں۔ان کے افسانوں کے موضوع اگرچہ عام زندگی سے حاصل کردہ ہیں لیکن فن میں کہیں بھی عمومیت نہیں ہے۔ حیاتِ انسانی کے تاریک گوشوں اور معمولی اور چھوٹے چھوٹے حقائق کو فنی سلیقے سے اہم اور جاذب نظر بنا دیتی ہیں۔ اسلوب میں درد مندی کا جذبہ ان کی تحریر کو اثر پذیری بخشتا ہے؛یوں غیر اہم اور معمولی موضوعات بھی اہم اور مؤثر بن جاتے ہیں۔ وہ ادب میں افادیت کی قائل تھیں اور ان کے بعض افسانوں میں مقصدیت واضح نظر آتی ہے۔ 

ہاجرہ مسرور کے افسانوں میں عورت کی مظلومیت کا اس طور ذکر ہوتا ہے کہ بے اختیار افسانہ نگار کی صنف کا احساس نمایاں ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر انوار احمد کے الفاظ میں ،اس میں کچھ شک نہیں کہ مردانہ سماج میں عورت کے بارے میں ابھی تک بہت سی زنجیریں زنگ آلود نہیں ہوئیں لیکن آج سماجی اور جذباتی تعلقات پیچ در پیچ اور تہہ در تہہ ادراک پر منکشف ہوتے جاتے ہیں۔ ان کے پیشِ نظر عورت کی مظلومیت کا ہی تھیسس پیش کیے جانا تعصب سے خالی نہیں۔بہرکیف ہاجرہ مسرور کی ادبی خدمات کا ایک اہم پہلو عورت کے مسائل کی عکاسی ہے۔ انہوں نے عورت کو محض جذباتی یا ثانوی کردار کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ ایک باشعور اور حساس انسان کے طور پر دکھایاہے۔ ان کے افسانوں میں عورت کی نفسیاتی کیفیت، سماجی مشکلات، خاندانی مسائل اور اس کی جدوجہد کو نہایت حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے وہ اردو ادب میں نسائی شعور کی اہم نمائندہ سمجھی جاتی ہیں۔ احساس کی بات کی جائے تو ان کا افسانہ انسان کو جکڑلیتا ہے۔افسانہ ’’ محبت اور‘‘ میں ہاجرہ مسرور نے ایک عورت کے اندرونی جذبات کا نقشہ کھینچا ہے، جب انسان اندر سے کھوکھلے پن کا شکار ہو جائے، احساسِ تنہائی یا احساسِ محرومی دل میں سما جائے یا شکستہ دل پاروں میں ہٹ جائے تو انسان کس کیفیت سے دوچار ہوتا ہے، عبارت میں ملاحظہ ہو: ’’ آندھی بدستور غرارہی تھی، بند کھڑکیوں پر ننھے ننھے کنکر بج رہے تھے اور کھلا ہوا دروازہ کبھی دھڑ سے بند ہو جاتا اور کبھی اچانک کھل کر خاک دھول اور سوکھے پتوں کا ایک ریلا اندر بلا لیتا۔

لڑکی میں ہلنے تک کی سکت نہیں تھی لیکن اسے اپنا رواں رواں احساس اور بیدار معلوم ہو رہا تھا۔ اسے اپنے تمتماتے ہوئے چہرے پر خاک کے ذرات تک کالمس محسوس ہو رہا تھا۔ ٹھنڈے سوندھے، چمکتے ہوئے ذرات، اس کے جوان چہرے کو وحشیانہ انداز میں چھوتے اور پھر بے جان ہو کر جلد پر گر جاتے۔ پتہ نہیں کیسے تصورات کی گھڑیاں جھنجھنا کر چلتی ہی چلی گئیں۔ تمتمایا ہوا چہرہ نازک سی موم بتی بن گیا اور خاک کے لیے بے وقعت ذرے جیتے جاگتے پتنگے ۔لڑکی نے افیونیوں کی طرح بے دلی سے سوچا اور پھر خود کو آندھی کے طلسم میں کھو دیا۔ اسے آندھیوں میں چلتی ہوئی تیز ہوائوں سے عشق بھی تو تھا۔ وہ ہمیشہ ایسے گونجتے، گرجتے، لوٹتے، گاتے موسم میں بہک کر سوچا کرتی۔بس ایسے ہی سہانے سمے میری زندگی میں کوئی بڑی خوبصورت کوئی بڑی غیر معمولی بات ہو گی۔

ہاجرہ مسرور کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنی عبارت میں نادر تشبیہات واستعارات کا استعمال کرکے قاری کے ذہن میں وہ منظر نقش کر دیتی ہیں۔مندرجہ بالا عبارت میں بھی حسین، نرم و نازک چہرے کو شمع کی مانند قرار دیا گیا ہے جبکہ مٹھی کے ذرات بالکل ایسے ہی ہیں جیسے پروانہ۔ ایک اور نفسیاتی پہلوتہی بھی کی گئی ہے کہ جب انسان اندر سے ٹوٹا ہوا ہو تب آندھیاں یا طوفان اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔ ہاجرہ نے اندر کے موسم کو باہر کے موسم کے ساتھ جوڑ کر حسرت آرزو، تمنا، چاہت، ارمانوں کی دنیا کو ٹٹولنے کی کوشش کی ہے۔

ہاجرہ مسرور نے افسانہ ’’ اندھیرے اجالے‘‘ میں ایک نئی نویلی دلہن کے جذبات کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے رات کی تاریکی کا سہارا لیا ہے اور بے شمار مثالوں کے ذریعے وہ منظر تراشنے کی کوشش کی ہے کہ جس سے ایک دلہن گزرتی ہے اور بیک وقت اس کے ذہن میں آتے جاتے پیدا اور ختم ہوتے ہزاروں خیالات، امنگوں کی افزائش اور دم توڑتے ہوئے خوابوں کی جھلکیاں دکھائی ہیں۔ہاجرہ نے افسانہ ’’اندھیرے اجالے‘‘ میں کمال منظر کشی کے ذریعے ٹوٹ کر بکھری ہوئی لڑکی کے جذبات بیان کئے ہیں۔مصنفہ کو نفسیات پر جیسے کہ مکمل عبور حاصل ہے اور نفسیات میں خاص طور سے احساس کو، انسان کے ذہن میں چلنے والے خیالات اور مختلف اوقات میں مختلف تصورات کو نہایت خوبصو رت الفاظ کے ساتھ پیش کیا ہے۔حاجرہ مسرور نے چونکہ کم عمری میں ہی لکھنا شروع کر دیا تھا اس لئے عمیق مشاہدہ لیے دنیا کو تسخیر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ہم عصروں کی آنکھوں میں بھی جھانکتی رہیں۔ بعض اوقات کم عمری میں ہی وقت کے تھپیڑے کھا کھا کر انسان خاصا سمجھ دار لگنے لگ جاتا ہے، اس کی گہری آنکھیں سب بتلا رہی ہوتی ہے، بعض اوقات تو چیخ چیخ کر پکار رہی ہوتی ہیں۔ حاجرہ نے حسین جذبات کے ذریعے وہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ حالات و مصائب ، ناگفتہ بہ حالات، غربت و تنگ دستی، بے بسی میں جب انسان گھر جاتا ہے تو جتنی بار وہ گرتا ہے اتنی ہی زندگی اسے قدم قدم پر سبق سکھاتی ہے۔

جس طرح چہرہ دل کی غمازی کرتا ہے اسی طرح آنکھیں بھی جذبات کی ترجمانی کرکے نہ چاہتے ہوئے بھی سب کچھ بتا دیتی ہیں۔بقول ڈاکٹر انوار احمد:  قیامِ پاکستان کے بعد ہاجرہ مسرور نے جو افسانے لکھے ان میں ’’راجہ ہل‘‘ ایک شاہکار افسانے کا درجہ رکھتا ہے پاکستان کی افسر شاہی عوامی فلاح کے کیسے منصوبے تیار کرتی ہے ، دیہی معاشرت کے اجارہ داروں سے مل کر زیادہ غلہ اگاؤ کے جو اقدامات کیے جاتے ہیں ذرائع ابلاغ مسلسل ان کے بارے میں یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ یہ انقلابی اقدامات ہیں اور اگر کسی کسان کی خوشحالی کا بدحالی میں بدلنا انقلاب ہے تو بلا شبہ اس افسانے میں بھی اس سرکاری پالیسی کے نتیجے میں گاؤں میں انقلاب برپا ہو جاتا ہے۔ جسے تشکیل دینے والوں کا اپنی مٹی ، اپنی ہوا اور اپنے پانی سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا، جن کے مشیر غیر ملکی ہوتے ہیں جن کی تعلیم بھی انہی کے ہاتھوں مکمل ہوتی ہے اور جن کی آنکھوں میں خواب بھی غیر ملکی قرضوں سے بندھے ہوتے ہیں۔ شہری رہن سہن میں پروان چڑھنے والی کسی اہل خاتون کی جانب سے پنجاب کی دیہی معاشرت کو اپنی تخلیقی روح میں جذب کرنا بہت بڑی فنی ریاضت بھی ہے اور کمٹمنٹ کا فیض بھی۔

پروفیسر سید وقار عظیم ہاجرہ مسرور کی فنی خوبیوں کے بارے لکھتے ہیں کہ فنی اعتبار سے ان کہانیوں کی حیثیت کچی اور نارس کلیوں کی سی ہے جو جاذب نظر ہونے کے باوجود  اپنی شگفتگی ،شادابی اور عطر بیزی کو کسی راز کی طرح سینے میں چھپائے صحیح وقت کی منتظر رہتی ہیں۔ہاجرہ مسرور کے افسانوں میں شعور کی پختگی ، تجربے کی وسعت قلم کی بے باکی و بے ساختگی، بے رحم صداقت، عمیق نظری اور مشاہدے کی گہرائی کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ ان کے افسانوں کے پلاٹ پیچیدہ، دلچسپ اور منتظم ہیں۔ ان کے افسانوں کا ابتدائیہ خوبصورت جزئیات نگاری کے سبب خاموشی سے رفتہ رفتہ سارے منظر نامے تک پھیل جاتا ہے اور اختتامیہ یک لخت سکڑ کر ایک نئی ہیئت اختیار کر کے چونکا دیتا ہے۔ ہاجرہ مسرور اپنی کہانی کا مخصوص ماحول اتنی مہارت سے بنتی ہیں کہ وقوعہ اس ماحول میں عین فطری طور پر آپ ہی آپ جنم لیتا ہے اور پھلنے پھولنے لگتا ہے۔ اس سے ان کے فکری اور فنی اظہار میں بالیدگی ، رچاؤ اور کثیر الجہتی کا اظہار ہوتا ہے۔ ان کی کہانیوں کے واقعات اور کردار مانوس فضا کی پیداوار محسوس ہوتے ہیں اس حوالے سے سید مظہر جمیل لکھتے ہیں : ہاجرہ شروع ہی سے ایک مانوس دنیا کی کہانی کار رہی ہیں جہاں کی فضائیں، کردار مسائل، ماحول، موسم سبھی جانے پہچانے معلوم ہوتے ہیں۔اُن کی کہانیوں میں واقعاتی تناؤ اور کہانی پن روز مرہ کے بہاؤ ہی سے پیدا ہوتا ہے؛ چنانچہ معروضیت سے ان کی وابستگی نہ تو اوپر سے اوڑھی ہوئی معلوم ہوتی ہے اور نہ نام نہا د سیاسی وسماجی مصلحت کوشی کا ثمر۔ وہ تو بس انسانی رشتوں کی کہانی بیان کرتی ہیں۔ جس میں آس ہیں آس پاس رہنے بسنے والوں کے دکھ درد اور افتاد کی سرگزشت ہے۔

ہاجرہ مسرورکی کتابیں

٭سب افسانے میرے

٭چاند کی دوسری طرف

٭اندھیرے اجالے

٭چوری چھپے

٭تیسری منزل

٭ہائے اللہ

٭چرکے

٭وہ لوگ

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

فورٹ ولیم کالج،تحریک اور تاریخ

فورٹ ولیم کالج کلکتہ کا قیام اُردو ادب کی تاریخ کا بہت اہم اور بعض حیثیتوں سے اردو نثر کی تاریخ کا سب سے اہم واقعہ ہے۔

پاکستان کرکٹ تاریخ کی بدترین شکست

قومی کرکٹ ٹیم کا دورہ انگلینڈ:ماضی کی بہترین ٹیموں میں شمارگرین شرٹس کی تنزلی، انتظامی زوال اور بوکھلاہٹ طشت ازبام

234رکنی پرعزم قومی دستہ تیار

20ویں ایشین گیمز 2026ء:ایشین گیمز 19 ستمبر سے 4 اکتوبر تک جاپان کے شہر ایچی ناگویا میں منعقد ہوں گی

غرور کا انجام

شاداب نگر کے خوبصورت اور بڑے سے بنگلے میں سفینہ نامی چھوٹی لڑکی رہتی تھی۔ سفینہ دیکھنے میں تو پھول کی طرح پیاری تھی مگر اس کے مزاج میں حد سے زیادہ غرور تھا۔

قائداعظم کی نصیحت

ببلو گھر کا لاڈلا اور سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے ضدی بھی تھا اور شرارتی بھی۔اس نے اپنی شرارتوں کی وجہ سے صرف گھر والوں کے ناک میں دم نہیں کر رکھا تھا بلکہ سکول میں کلاس فیلوز اور محلے کے سب لڑکے اس سے تنگ تھے۔

تیرے خیال سے ہے دل شادماں ہمارا

تیرے خیال سے ہے دل شادماں ہمارا،تازہ ہے جاں ہماری دِل ہے جواں ہمارا