نئے صوبے ، (ن) لیگ کا فیصلہ کیا ہوگا؟
ملکی سیاسی محاذ پرنئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بحث عروج پر ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں اس حوالہ سے اپنی آرا اور تجاویز دیتی نظر آ رہی ہیں ۔ان تجاویزو آرا کا بغور جائزہ لیا جائے تو ایک بات واضح نظر آتی ہے کہ ملک کو جس طرح چلایا جا رہا ہے اس میں کم از کم قومی و عوامی مسائل کے حل بارے سنجیدگی نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ حکومتی ذمہ داران اور بعض وفاقی وزرا بھی کہتے نظر آ رہے ہیں کہ سسٹم چل نہیں رہا، ملک میں گورننس کو یقینی بنانے کیلئے سسٹم کو کارکردگی کے ساتھ مشروط کرنا ہوگا۔ عام آدمی کو اس بات سے تو غرض نہیں کہ صوبے کب اور کتنے بنیں گے لیکن وہ اپنے مسائل کا حل چاہتا ہے ۔ لہٰذا اس حوالہ سے کوئی بھی فیصلہ عوام کی زندگیوں میں آسانیوں کیلئے ہونا چاہئے۔ صوبائی دارالحکومت لاہور میں اس حوالہ سے دو ایونٹس قابلِ ذکر ہیں۔ مقامی یونیورسٹی میں قومی پالیسی مکالمے میں وزیر داخلہ محسن نقوی کا خطاب اہم تھا جس میں انہوں نے واضح کیا کہ ری سیٹ کا مطلب نظام توڑنا نہیں نیا انتظامی بندوبست قائم کرنا ہے جس میں بنیادی کردار عوام کا ہے۔ ان کے خیالات سے ظاہر ہو تاہے کہ اعلیٰ سطح پر موجودہ سسٹم کو ری سیٹ کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے، اور ان کے اس بیان سے یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ نئے صوبے یا نئے انتظامی یونٹس کے معاملے میں کچھ نہ کچھ ہو کر رہے گا۔ محسن نقوی کے خطاب سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ مقتدرہ آئینی اور جمہوری طریقہ سے تبدیلی چاہتی ہے اور اس ضمن میں گیند سیاسی جماعتوں بلکہ حکمران جماعتوں کی کورٹ میں ہے۔ مگر پیپلزپارٹی تو اس حوالہ سے واضح لائن لے چکی ہے اور سندھ اسمبلی کی قرارداد اس کا واضح ثبوت ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور صدر مملکت کی ہمشیرہ فریال تالپور کے بیانات سے بہت کچھ اخذ کیا جا سکتا ہے۔پیپلزپارٹی کی جانب سے اختیار کئے جانے والے مؤقف کے بعد اب بڑا امتحان مسلم لیگ (ن) کیلئے ہے۔ بلاشبہ دس سال قبل (ن) لیگ نے پنجاب اسمبلی سے ایسی ہی صورتحال میں بہاولپور اور جنوبی پنجاب صوبہ کی قراردادیں منظور کرائی تھیں لیکن پارلیمانی سسٹم میں قراردادوں کی حیثیت سفارش کی ہوتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) میں ایک واضح تقسیم نظر آ رہی ہے، کچھ وزرا صوبوں کی حمایت میں ہیں اور کچھ اس عمل کو تاخیر کے حربوں سے دو چار کر نے کیلئے سرگرم ہیں۔ وزیراعظم شہبازشریف اس ضمن میں کوئی بڑا اور واضح موقف اختیار کرنے کی پوزیشن میں نہیں، یہاں فیصلہ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نوازشریف کو کرنا ہے۔ نوازشریف کیسے چاہئیں گے کہ ان کی سیاست کا مرکز و محور تقسیم کے عمل سے دوچار ہو جیسے پیپلزپارٹی اور خود صدر مملکت اور بلاول بھٹو نہیں چاہئیں گے کہ سندھ کی تقسیم سے ان کی سیاست کمزور ہو۔
صدر آصف علی زرداری اور میاں نوازشریف وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔ صوبوں جیسے بڑے ایشو میں بڑا کردار بھی انہی کا ہوگا۔ مسلم لیگ( ن) کیلئے فیصلہ اس لئے مشکل ہوگا کہ اس وقت وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے اور نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس بنانے میں بنیادی کردار بھی انہیں ادا کرنا ہوگا اور جماعت کے اندر دو آراء ہونے کے باوجود فیصلہ کن کردار مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نوازشریف کا ہوگا اور انہیں اگلے دو چار روز کے اندر اپنی پارٹی پالیسی واضح کرنی ہوگی۔
پاکستان کے انتظامی ڈھانچہ کا جائزہ لینے میں وقت درکار ہوگا ۔ بعض لوگ صوبوں کے حوالہ سے پیش رفت کے ضمن میں یہ کہتے دکھائی دے رہے ہیں کہ ایک ترمیم کے ذریعہ یہ اختیارپارلیمنٹ کو مل جائے گا لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ اگر ملک میں مؤثر اور با اختیار بلدیاتی سسٹم موجود ہوتا تو شاید نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ سولہ سال قبل جب 18ویں ترمیم منظور ہوئی تھی تو تمام سیاسی جماعتوں نے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا عزم ظاہر کیا تھا،اس لئے کہ خود آئین پاکستان آرٹیکل 140اے کے تحت مقامی حکومتوں کے مؤثر کردار کے ساتھ ان کی مالی، سیاسی و انتظامی خود مختاری کی بات کرتا ہے، تاہم صوبوں نے مرکز سے تو اختیارات لے لیے اور وسائل بھی ،لیکن انہیں آگے اضلاع کو منتقل کرنے کا عمل معطل کئے رکھا ۔ صوبوں نے بڑی حد تک اختیارات کو وزرائے اعلیٰ اور صوبائی حکومتوں تک محدود رکھا اور انہیں فعال اور خود مختار بلدیاتی اداروں تک منتقل نہ کیا۔
یہ کسی ایک جماعت کی نہیں سب کی ناکامی ثابت ہوئی اور اب حالات اس نہج پر آ چکے ہیں کہ اب بات رکتے رکتی نظر نہیں آ رہی۔ موجودہ صورتحال میں نئے صوبے پر سنجیدہ اور شواہد پر مبنی بحث ہونی چاہئے۔ یہ مسئلہ پارلیمنٹ میں پیش ہونا چاہئے اور سیاسی اتفاق رائے سے آگے بڑھنا چاہئے۔ اگر مقتدرہ سنجیدہ ہے کہ اختیارات کی تقسیم اور اس کی نچلی سطح تک منتقلی ناگریز ہے تو سب سے پہلے بلدیاتی حکومتیں قائم کرنے پر زور دینا چاہئے۔بہرکیف نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کے تقاضے سے چھٹکارا اب مشکل نظر آ رہا ہے۔ فیصلہ سیاستدانوں نے ہی کرنا ہے کہ آگے کیسے بڑھنا ہے مگر یہ معاملہ اب روکے رکتا نظر نہیں آ رہا۔ لگتا ہے کہ ہونی ہو کر رہے گی۔
جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن لاہور آئے تو انہوں نے سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی کی رہائش گاہ پر لاہور کے اہم اینکرزا ور سینئر صحافیوں سے ملاقات کی اور ملک میں نئے صوبوں کے عمل، پارلیمنٹ کے کردار، سسٹم کی ناکامی کے اسباب ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے حالات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ۔ مولانا فضل الرحمن نے پنجاب میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوامیں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں۔ کالعدم ٹی ٹی پی نے وہاں مختلف اضلاع میں اپنی حکومتیں بنا رکھی ہیں اور ٹیکس وصول کرتے ہیں۔ وہ اپنے روایتی انداز میں پارلیمنٹ اور آئینی کردار پر زور دیتے رہے البتہ اپنے شدید تحفظات کے حوالہ سے انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں نوازشریف کے دل میں بھی وہی کچھ ہے مگر وہ خاموش ہیں اور میں بول رہا ہوں، جسے خود مسلم لیگ( ن) اور ان کی لیڈر شپ کے حوالہ سے اہم قرار دیا جا سکتا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے حوالہ سے وہ مثبت نظر آئے، اُن کا کہنا تھا کہ وہ سپیکر ہیں سب کے سپیکر ہیں ،وہ بلائیں گے تو اُن سے ضرور بات ہوگی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments