ہر موسم میں نکھری جلد

تحریر : سائرہ خان


خواتین کے لیے چند ضروری باتیں

موسم کی تبدیلی انسانی صحت کے ساتھ ساتھ جلد پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔  خواتین کی جلد بدلتے موسم میں زیادہ حساس ہو سکتی ہے کیونکہ ہارمونز، روزمرہ معمولات، میک اپ، جلد کی نوعیت اور ماحولیاتی اثرات جلد کو  متاثر کرتے ہیں۔ گرمی سے سردی، سردی سے بہار یا خشک موسم سے مرطوب موسم کی طرف منتقلی کے دوران جلد کو نئے ماحول کے مطابق ڈھلنے میں کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس عرصے میں خشکی، دانوں، خارش، سرخی، حساسیت اور جلد کی بے رونقی جیسی شکایات عام ہوجاتی ہیں۔

موسمی تبدیلی کیسے متاثر کرتی ہے؟

جلد ہمارے جسم کا سب سے اہم حفاظتی حصار ہے۔ یہ جسم کو بیرونی ماحول، دھول، جراثیم اور درجہ حرارت میں تبدیلی سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب موسم تبدیل ہوتا ہے تو ہوا میں نمی، درجہ حرارت، دھوپ کی شدت اور آلودگی کی مقدار میں بھی فرق آتا ہے۔ ان تبدیلیوں کا براہِ راست اثر جلد کی قدرتی نمی اور حفاظتی تہہ پر پڑتا ہے۔گرم موسم میں زیادہ پسینہ آنے سے جلد چکنی ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں مسام بند ہونے اور دانوں کی شکایت بڑھ جاتی ہے جبکہ سرد اور خشک موسم جلد کی قدرتی نمی کم کردیتا ہے جس سے جلد کھنچی ہوئی، خشک اور بے رونق محسوس ہوسکتی ہے۔

گرمی سے سردی 

گرمی کے موسم کے بعد جب درجہ حرارت کم ہونا شروع ہوتا ہے تو جلد میں خشکی پیدا ہونے لگتی ہے۔ سرد ہوا جلد کی سطح سے نمی کم کرتی ہے جبکہ  گرم پانی سے بار بار منہ دھونا بھی جلد کو مزید خشک کردیتا ہے۔ اس دوران بعض خواتین کو ہونٹوں کے پھٹنے، ہاتھوں کی خشکی اور چہرے پر کھردرا پن محسوس ہوسکتا ہے۔اس صورتحال سے بچنے کے لیے موسم تبدیل ہوتے ہی جلد کی نگہداشت کا معمول بھی تبدیل کرنا چاہیے۔ ہلکے صابن یا کلینزر کا استعمال، مناسب موئسچرائزر اور نیم گرم پانی سے چہرہ دھونا مفید عادات ہیں۔جب  سردی ختم ہوکر موسم گرم ہونا شروع ہوتا ہے تو جلد کے مسائل کی نوعیت بھی بدل سکتی ہے۔ درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ پسینہ اور جلد کا تیل زیادہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں چہرے پر چکنائی، بلیک ہیڈز، وائٹ ہیڈز اور کیل مہاسے بڑھ جاتے ہیں۔اس موسم میں چہرے کو بار بار دھونے کے بجائے مناسب کلینزر استعمال کرنا بہتر ہے۔ بہت زیادہ سخت مصنوعات استعمال کرنے سے جلد وقتی طور پر صاف محسوس ہوتی ہے لیکن  اس سے جلد کی قدرتی حفاظتی تہہ متاثر ہوسکتی ہے۔ ایسی خواتین جن کی جلد پہلے ہی حساس ہو انہیں  خوشبو دار اور بہت زیادہ کیمیکل والی مصنوعات کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے۔

دھوپ سے  جلد کی حفاظت

موسم کوئی بھی ہو سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعیں جلد کو متاثر کرسکتی ہیں۔ بہت سی خواتین صرف گرمیوں میں سن سکرین استعمال کرتی ہیں حالانکہ جلد کی حفاظت کے لیے اسے روزمرہ معمول کا حصہ بناناچاہیے۔ دھوپ سے جلد پر جھائیاں، رنگت میں بے ترتیبی اور قبل از وقت  عمر رسیدگی کی علامات نمایاں ہوتی ہیں۔باہر نکلتے وقت مناسب سن سکرین کے ساتھ چھتری، چشمہ یا دیگر حفاظتی تدابیر اختیار کریں، خاص طور پر دوپہر کے وقت دھوپ میں زیادہ دیر رہنے سے گریز کرنا چاہیے۔

پانی اور متوازن غذا کی اہمیت

جلد کی صحت صرف بیرونی مصنوعات پر منحصر نہیں، مناسب مقدار میں پانی پینا، متوازن غذا لینا اور مناسب نیند بھی جلد کی صحت کے لیے اہم ہیں۔ موسمی پھل، سبزیاں، دالیں، انڈے، مچھلی، ڈرائی فروٹ اور دیگر غذائیت سے بھرپور غذائیں جسم کو ضروری وٹامنز، معدنیات اور صحت مند چکنائیاں فراہم کرتی ہیں۔پانی کی مناسب مقدار جسم کے عمومی توازن کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ تاہم صرف زیادہ پانی پینا جلد کے ہر مسئلے کا علاج نہیں؛ مناسب غذا، نیند، صفائی اور جلد کی درست نگہداشت بھی ضروری ہے۔

میک اَپ اور جلد کی صفائی

موسم کی تبدیلی کے دوران خواتین کو میک اَپ کے استعمال میں بھی احتیاط کرنی چاہیے۔ طویل وقت تک میک اَپ لگا رہنے، ایسی مصنوعات استعمال کرنے سے جو جلد کو موافق نہ ہوں، دانوں اور جلن کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔  سونے سے پہلے چہرے کو اچھی طرح صاف کرنا اور جلد کی نوعیت کے مطابق موئسچرائزر استعمال کرنا بہتر ہے۔ میک اَپ برش اور اسپنج بھی باقاعدگی سے صاف کرنے چاہئیں تاکہ ان پر جمع ہونے والی گرد، تیل اور جراثیم جلد کے مسائل میں اضافہ نہ کریں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

ٹیکنالوجی کے دور میں خواتین کے لیے سنہری مواقع

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور آن لائن معیشت نے روزگار اور کاروبار کے روایتی تصورات کو تبدیل کر دیا ہے۔

آج کا پکوان: کرسپی چکن ٹینڈرز

اجزا:چکن فِلٹس (سٹرپس میں کٹی ہوئی) : 500 گرام،لیمن جوس: دو چمچ، دہی: آدھا کپ، ادرک لہسن کا پیسٹ: ایک چمچ، نمک: حسبِ ذائقہ، لال مرچ پاؤڈر:آدھا چمچ، کالی مرچ پاؤڈر:ایک چائے کا چمچ، گارلک پاؤڈر:آدھاچائے کا چمچ۔تیل : حسبِ ضرورت۔

اختر شیرانی کی رومانویت

کل78ویں برسی: شاعری کا رنگ، ڈھنگ اور آہنگ سب سے الگ،لہجے میں پردہ داری نہ جھجک:اخترشیرانی کے تخیل کا رہنما عشق ہے‘ اور اس کی رہبری میں وہ محبت کی اس دنیا میں پہنچ جانا چاہتے ہیں جہاں مادی زندگی کی کثافتیں، ناآسودگیاں اور ناتمامیاں دامن کو نہ چھو سکیں

فیض کی سیاسی شاعر

فیض بنیادی طوررپر رومان پسند ہیں لیکن ان کی رومانیت صرف عشقیہ موضوعات تک محدود نہیں ہے، اس کے جوہر مختلف سمتوں میں آشکار ہوئے ہیں۔

یوم تحفظ ختم نبوت ﷺ

’’میں خاتم النبیین ہوں‘‘(صحیح بخاری)ختم نبوتﷺ، عقیدہ توحید و رسالت کے بعد ایمان کی اہم بنیاد:محمدؐتمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن اللہ کے رسول اور سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا ہے(سورۃ الاحزاب)

7ستمبر:یوم تحفظِ ختم نبوتﷺ

پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا متفقہ فیصلہ