اتنے کم نمبر ؟
داؤد تمہارا رزلٹ آگیا؟ کالج میں داؤد کے دوست نعمان عرف نومی نے پوچھا۔ہاں پاس ہو گیا ہوں ، نمبر اچھے نہیں آئے، صرف 425 نمبر آئے ہیں۔
داؤد نے اداسی سے جواب دیا۔425 نمبر کم ہیں کیا ؟ نومی نے کہا: میرے تو 315 نمبر آئے ہیں اور میں بہت خوش ہوں۔ جلدی اٹھو اور آئس کریم کھلاؤ۔نومی نے ہنستے ہوئے داؤد کو ہنسانے کی کوشش کی ، مگر داؤد کا منہ بنارہا۔ وہ اتنا سنجیدہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ نومی نے خاموشی اختیار کر لی اور دونوں گھر کی طرف چل پڑے۔
میں نے اتنی محنت کی تھی، پھر اتنے کم نمبر کیوں آئے ؟ پورے راستے داؤد یہی سوچتا رہا: کتنے طلبہ بغیر پڑھے اتنے اچھے نمبر لے لیتے ہیں، مگر میں نے تو محنت کی تھی، پھر ایسا کیوں ہوا؟ گھر پہنچتے ہی داؤد نے بے دلی سے امی جان کو سلام کیا اور سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا۔ مٹھو سے باتیں کیں نہ بلی کو پیار کیا ، نہ امی سے کوئی مذاق کیا اور نہ چھوٹی بہن مریم سے کوئی شرارت کی۔ ان سب نے اس کی سنجیدگی کو محسوس کیا۔
امی داؤد کو کیا ہوا ہے ؟ مریم نے پریشانی کے عالم میں امی سے پوچھا۔تھک گیا ہو گا، آرام کرنے دو۔ پھر پوچھتی ہوں کیا ہوا ہے، امی نے جواب دیا۔آج کچھ اور بات ہے ، جائیے پتا کریں۔ مریم اپنے بھائی کیلئے فکر مند تھی۔ اس کے کہنے پر امی داؤد کے کمرے میں گئیں تو وہ بستر پر لیٹا رو رہا تھا۔
بیٹا تم ٹھیک تو ہو ؟ کیا ہوا ہے ؟ امی نے اس کے پاس بیٹھ کر فکرمند لہجے میں پوچھا۔جی امی، ٹھیک ہوں۔ داؤد سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور جلدی سے آنسو صاف کئے۔
بیٹا کیا ہوا ہے ؟ امی نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔ امی جان میرا رزلٹ آیا ہے۔ یہ کہہ کر وہ رونے لگا۔اچھا تو رزلٹ خراب آیا ہے اس میں رونے والی کون سی بات ہے ؟ اٹھو منہ دھو، پھر بات کرتے ہیں۔ امی نے مسکراتے ہوئے کہا: مگر یہ تو بتاؤ کہ نمبر کتنے آئے ہیں ؟
560 میں سے 425 نمبر: داؤد نے جواب دیا۔یہ کم ہیں کیا ؟ اللہ کا شکر ادا کرو بیٹا ، انھوں نے داؤد کو پیار کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالیٰ کسی کی محنت رائیگاں نہیں جانے دیتا۔ چلو ہاتھ منہ دھو کر کھانے کیلئے آ جاؤ۔
جب وہ کھانے کیلئے پہنچا تو مریم نے شوخ لہجے میں کہا: بھیا مبارک ہو ، اتنا اچھا رزلٹ آیا اور کمرے میں چھپ گئے کہ بہن کو کچھ دینا نہ پڑے۔ امی ہنسنے لگیں، داؤد نے بھی مسکرانے کی ناکام کوشش کی۔ اس نے دو لقمے لیے اور کھانا چھوڑ دیا۔بھیا! کھانا کھائیں ناں ! مریم نے کہا۔
مجھے بھوک نہیں ہے۔ وہ اٹھنے لگا تو امی نے کہا: بیٹھ جاؤ، مجھے تم سے بات کرنی ہے۔ وہ چپ چاپ بیٹھ گیا۔
امی نے کہا : بیٹا تمہارا رزلٹ کس حوالے سے برا ہے ؟ نمبر بھی اچھے بھلے ہیں ، پھر یہ اداسی کیوں ؟ ۔مجھے اتنے کم نمبروں کی امید نہیں تھی۔ داؤد نے جواب دیا۔
بیٹا ہم محنت کر کے بہت زیادہ کی امید لگا لیتے ہیں، لیکن بہت سے بچے زیادہ محنت کر کے بھی کم نمبر پاتے ہیں، ہم بیج ڈال کر سمجھتے ہیں کہ ہر بیج سے پودا نکلے گا۔ کچھ بیچ خراب بھی تو ہوتے ہیں۔ شکر کرو کہ تمہاری محنت کے بیجوں کارزلٹ وقت پر اور اچھا نکلا ہے۔امی کی باتوں نے اس کی ڈھارس بندھائی۔ وہ ہمیشہ ماں کی باتوں سے پر سکون ہو جاتا تھا۔
مریم تمہارے رزلٹ کا کیا بنا؟ اچانک سے یاد آیا تو اس نے بہن سے پوچھا۔ فرسٹ پوزیشن لی ہے، 300 میں سے 250 نمبر لیے ہیں: مریم نے فخر سے کہا۔بھئی واہ! تم نے تو میدان مار لیا۔ اس نے مریم کو پیار سے دیکھتے ہوئے کہا۔
رات کو امی داؤد کے کمرے میں گئیں تو داؤد آنکھیں بند کیے لیٹا تھا۔ انہوں نے داؤد سے کہا میں جانتی ہوں۔ تم نے دن رات ایک کیا، کم نمبر آنے پر تم اداس ہو۔ تم نے جتنی محنت کی اس کا مجھے بھی اندازہ ہے۔ ہم دنیا میں ترقی کیلئے محنت تو کر دیتے ہیں لیکن اپنی مصروفیت میں اس ذات کو بھول جاتے ہیں جو ہمیں کامیاب یا ناکام کرتی ہے۔
میں دیکھ رہی ہوں کہ تم آج کل کتابوں میں گم ہو گئے ہو، نماز پڑھتے ہو نہ دعا مانگتے ہو ، نماز پڑھی بھی تو جلدی میں۔ ہمیں سب سے پہلے خدا کو یاد رکھنا ہے۔ جب ہم آسان وقت میں اسے یاد رکھیں گے تو وہ مشکل وقت میں ہماری توقع سے بڑھ کر عطا کرے گا۔
جی امی ! داؤد نے سمجھ لیا تھا کہ اسے اب کیا کرنا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments