دوائی
ایک دفعہ مُلّانصیرالدین گدھے پر سوار کہیں جارہے تھے کہ گدھا راستے میں َاڑ گیا۔مُلّا صاحب نے بڑی خوشامد کی، چمکارا پچکارا، مارا پیٹا مگر گدھا ٹَس سے مَس نہ ہوا۔
سامنے ایک حکیم کی دکان تھی۔ مُلّا صاحب دوڑ کر حکیم کو بلالائے۔ اُس نے گدھے کو کوئی ایسی دوا دی کہ وہ رسی تڑا کر بھاگ کھڑا ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔
مُلّا صاحب نے حکیم سے کہا۔ ’’ اب مجھے بھی کوئی ایسی دوا دیجیے کہ میں دوڑ کر گدھے کو پکڑ سکوں۔‘‘
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments