دوائی

تحریر : روزنامہ دنیا


ایک دفعہ مُلّانصیرالدین گدھے پر سوار کہیں جارہے تھے کہ گدھا راستے میں َاڑ گیا۔مُلّا صاحب نے بڑی خوشامد کی، چمکارا پچکارا، مارا پیٹا مگر گدھا ٹَس سے مَس نہ ہوا۔

 سامنے ایک حکیم کی دکان تھی۔ مُلّا صاحب دوڑ کر حکیم کو بلالائے۔ اُس نے گدھے کو کوئی ایسی دوا دی کہ وہ رسی تڑا کر بھاگ کھڑا ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔ 

مُلّا صاحب نے حکیم سے کہا۔ ’’ اب مجھے بھی کوئی ایسی دوا دیجیے کہ میں دوڑ کر گدھے کو پکڑ سکوں۔‘‘

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

اتنے کم نمبر ؟

داؤد تمہارا رزلٹ آگیا؟ کالج میں داؤد کے دوست نعمان عرف نومی نے پوچھا۔ہاں پاس ہو گیا ہوں ، نمبر اچھے نہیں آئے، صرف 425 نمبر آئے ہیں۔

ننھی پری کا بڑا خواب!

پاکستان کے ایک گاؤں میں 12 سالہ بچی آمنہ رہتی تھی۔ آمنہ ایک عام بچی تھی، مگر اس کا دل غیرمعمولی جذبوں سے لبریز تھا، وطن سے محبت، شہیدوں کی عزت اور ایک ایسا خواب جو اس کی عمر سے کہیں بڑا تھا۔

یہ وطن تمہارا ہے

یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے

حرف حرف موتی

٭…اگر بھاگنا ہے تو علم کیلئے بھاگو۔

ذرا مسکرائیے

باپ نے بیٹے سے کہا:دیکھوعمران آج جو مہمان ہمارے ہاں آنے والا ہے اس کی ناک کے متعلق کوئی سوال نہ کر نا۔

پہیلیاں

آج ہے اس کا گھر گھر نام،کل ہے اس کا کام تمام