ننھی پری کا بڑا خواب!

تحریر : اختر سردار چودھری


پاکستان کے ایک گاؤں میں 12 سالہ بچی آمنہ رہتی تھی۔ آمنہ ایک عام بچی تھی، مگر اس کا دل غیرمعمولی جذبوں سے لبریز تھا، وطن سے محبت، شہیدوں کی عزت اور ایک ایسا خواب جو اس کی عمر سے کہیں بڑا تھا۔

ہر سال جب 6 ستمبر، یومِ دفاع پاکستان کا دن قریب آتا، آمنہ کی آنکھوں میں روشنی اور دل میں جوش بھر جاتا۔ گاؤں کے بچے سبز ہلالی پرچم تھامے گلیوں میں ملی نغمے گاتے گھومتے مگر آمنہ کیلئے یہ دن صرف تقریبات کا نام نہیں تھا، یہ دن ایک عہد تھا، ایک احساس تھا کہ وطن کیلئے کچھ کرنا ہے۔

آمنہ کے والد ایک ریٹائرڈ فوجی تھے۔ وہ ہر شام اپنی بیٹی کو جنگوں کے قصے سناتے، 1965 ء کی جنگ، میجر عزیز بھٹی شہید کی بہادری، اورہزاروں ان گمنام سپاہیوں کی قربانیاں جنہوں نے اپنی قیمتی جانیں دے کر وطن کی سانسیں باقی رکھیں۔ آمنہ کی آنکھیں ان قصے کہانیوں میں نم ہو جاتیں اور دل میں ایک آرزو جنم لیتی ’’کاش میں بھی اپنے وطن کیلئے کچھ کر سکوں‘‘۔

اس سال اسکول میں یومِ دفاع کے موقع پر تقریری و کہانی نویسی کا مقابلہ رکھا گیا۔ آمنہ نے طے کر لیا کہ وہ صرف مقابلہ جیتنے کیلئے نہیں، بلکہ وطن کے بچوں کے دلوں میں محبت کا چراغ جلانے کیلئے ایک کہانی سنائے گی، ایک ایسی کہانی جو جذبوں کو جگا دے۔حب الوطنی کے جذبہ کو اُجاگر کر دے۔

آمنہ نے بڑی محنت کے ساتھ وطن سے محبت کا اظہار قلم سے کہانی لکھ کر کیا۔ اس نے ان بہادرسپاہیوں کو سلام پیش کیا جو برف کے پہاڑوں، تپتے ریگستان اور اندھیری راتوں میں وطن عزیز کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ وہ مائیں جو اپنے بیٹے وطن پر نچھاور کر دیتی ہیں، وہ بہنیں جو بھائیوں کی یاد میں راتیں جاگتی ہیں، اور وہ بچے جو باپ کے بغیر پلتے ہیں، لیکن سینہ فخر سے چوڑا رکھتے ہیں، آمنہ کی کہانی میں ہر کردار جیتا جاگتا محسوس ہوتا تھا۔

کہانی میں اس نے ایک ننھی لڑکی کا کردار تخلیق کیا، جو روز اپنے فوجی بھائی کیلئے دعائیں کرتی اور جب وہ چھٹی پر آتا، اسے وردی میں دیکھ کر چمکتے چہرے سے پوچھتی: 'بھائی، آپ سرحد پر کیسے پہرہ دیتے ہیں؟ آمنہ نے اس لڑکی کی خواہش کا ذکر بھی کیا کہ وہ بڑی ہو کر یا تو فوج میں جائے گی، یا کم از کم ایک ایسی ڈاکٹر یا استاد بنے گی جو وطن کیلئے کچھ کرے گی۔

پھر مقابلے کا دن آگیا۔ اسکول کا ہال سجا ہوا تھا۔ جب آمنہ کا نام پکارا گیا تو وہ دھیرے دھیرے سٹیج پر گئی۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، مگر دل جذبے سے مضبوط تھا۔ اس نے سامعین کو سلام کیا اور کہانی سنانا شروع کی، الفاظ نہیں، جذبے بول رہے تھے۔

اس کی آواز میں ایک سچائی تھی جو سامعین کے دلوں تک اتر گئی۔ وہ بولی کہ فوجی صرف جنگ نہیں لڑتے، وہ امن کے محافظ ہوتے ہیں۔ وہ سیلاب میں لوگوں کو بچاتے ہیں، زلزلوں میں امداد پہنچاتے ہیں اور جب پوری قوم سوتی ہے، وہ جاگتے ہیں۔ آمنہ نے ہر شعبے کے ان سپوتوں کا ذکر کیا، فضائیہ کے شاہین، بحریہ کے محافظ اور بری فوج کے بہادر جوان، اس نے افواج پاکستان کی لازوال داستانوں کو بیان کیا۔

جب اس نے  تقریرختم کی تو ہال میں سناٹا چھا گیا۔ پھر یکایک تالیوں کا شور بلند ہوا، جو تھمنے کا نام نہ لیتا تھا۔ پرنسپل نے آمنہ کو سینے سے لگا کر کہا:

بیٹی، تم نے آج ہمیں یاد دلایا کہ وطن سے محبت کا سبق کتابوں میں نہیں، دلوں میں لکھا جاتا ہے۔

آمنہ نے وہ مقابلہ جیت لیا۔ لیکن اس کیلئے اصل جیت وہ جذبہ تھا جو اس نے اپنے ہم جماعتوں، اساتذہ اور گاؤں کے بڑوں میں جگا دیا۔ وہ دن تھا اور پھر ہر سال 6ستمبر کو آمنہ کی کہانی اسکول میں سنائی جانے لگی۔ اب وہ گاؤں میں ’’ننھی محبِ وطن‘‘ کے نام سے جانی جاتی تھی ، ایک بچی جس نے دکھا دیا کہ وطن سے محبت کا کوئی قد، کوئی عمر نہیں ہوتی۔

آمنہ اور اس کے دوست روز وطن کیلئے دعائیں کرتے، سپاہیوں کیلئے کارڈز بناتے اور ہر چھوٹا کام بھی جذبے سے کرتے ، چاہے وہ اسکول میں صفائی ہو یا کسی کو ادب سے سلام کرنا، کیونکہ آمنہ نے سیکھ لیا تھا کہ وطن کی خدمت ہر شعبے میں ممکن ہے۔

یہ کہانی ایک ننھی بچی کے خواب کی نہیں، بلکہ ایک عظیم سچائی کی ہے کہ حب الوطنی کوئی جامہ نہیں ، یہ ایک جذبہ ہے جو بچوں، بوڑھوں، ماؤں اور ہر پاکستانی کے دل میں ہونا چاہیے۔ افواجِ پاکستان سے محبت صرف وردی کے رنگ تک محدود نہیں، بلکہ ان کی قربانیوں، عزم اور خدمت کے شعور کو تسلیم کرنے اور ان سے سبق لینے کا نام ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

اتنے کم نمبر ؟

داؤد تمہارا رزلٹ آگیا؟ کالج میں داؤد کے دوست نعمان عرف نومی نے پوچھا۔ہاں پاس ہو گیا ہوں ، نمبر اچھے نہیں آئے، صرف 425 نمبر آئے ہیں۔

یہ وطن تمہارا ہے

یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے

حرف حرف موتی

٭…اگر بھاگنا ہے تو علم کیلئے بھاگو۔

دوائی

ایک دفعہ مُلّانصیرالدین گدھے پر سوار کہیں جارہے تھے کہ گدھا راستے میں َاڑ گیا۔مُلّا صاحب نے بڑی خوشامد کی، چمکارا پچکارا، مارا پیٹا مگر گدھا ٹَس سے مَس نہ ہوا۔

ذرا مسکرائیے

باپ نے بیٹے سے کہا:دیکھوعمران آج جو مہمان ہمارے ہاں آنے والا ہے اس کی ناک کے متعلق کوئی سوال نہ کر نا۔

پہیلیاں

آج ہے اس کا گھر گھر نام،کل ہے اس کا کام تمام