سندھ میں نئے صوبوں کی بحث، سیاسی محاذ گرم

تحریر : طلحہ ہاشمی


نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کے مطالبہ پر سندھ میں سیاسی ماحول آج کل گرم ہے۔ صوبائی اسمبلی میں بحث کے دوران وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہاکہ سندھ ایک تھا اور رہے گا۔

انہوں نے اپوزیشن کو ایوان میں تحریک لانے کا چیلنج بھی دیا۔ مراد علی شاہ کا اندازِ گفتگو تندو تیز تھا، انہوں نے کہا کہ جب تک پیپلز پارٹی کا ایک بھی ممبر زندہ رہا صوبہ نہیں بنے گا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کوئی عدالت یا کوئی تقریر یا سڑک پر بات تقسیم کا فیصلہ نہیں کرسکتی۔ نثار کھوڑو بھی بولے اور خوب بولے، کہا کہ ہمارا صوبہ کمائی کرتا ہے، ہم اسے کیوں توڑیں۔ باتوں ہی باتوں میں وفاق پر تنقید بھی کرڈالی، بولے آپ سے ایک ہسپتال تو سنبھالا نہ جاسکا صوبے کیسے سنبھال پاؤ گے۔ ناصر شاہ کا کہنا تھا کہ صوبوں کی تقسیم کی بات جہاں سے بھی آئی ہو آئین میں طریقہ کار موجود ہے، اگر کسی صوبے نے قرارداد پاس کرلی ہے تو وہ صوبے بنالیں، ہم نے تو کسی کو نہیں روکا۔ پنجاب چاہے تو بنا لیں، جب وہاں من و سلویٰ اترے اور دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگ جائیں تو پھر ضرور کوئی ہمیں آکرکہے۔ پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی اعجاز سواتی بولے، جب دیکھو کراچی، کراچی، کراچی، یہ کراچی کا راگ الاپنے والے اپنے چند ساتھیوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ پورا کراچی دیکھا ہے؟ آپ نے کیا پورا ملیر بھی دیکھا ہے؟ آپ ناظم آباد اور اورنگی ٹاؤن کی گلیوں کو کراچی سمجھ بیٹھے ہیں۔

ایم کیو ایم اراکین نے بھی ایوان میں اظہارِ خیال کیا اور کہا کہ ہم تو سندھ کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ طحہ احمد کے مطابق نئے انتظامی یونٹس بنیں گے،انہوں نے پیپلزپارٹی کو نظام چلانے میں نااہلی کا طعنہ دیا اور الزام عائد کیا کہ اس قسم کی بحث کا مقصد اپنی نااہلی کو چھپانا ہے۔ معاذ محبوب کی رائے میں پیپلز پارٹی 18سال سے سندھ کی حکمراں ہے، ایوان میں بات ہوئی کہ سندھ ایک ہے، کیسے سندھ ایک ہے؟ یہاں دو نظام ہیں، تعلیم کے کوٹے میں، شہری اور دیہی، نوکری کی بات کرو تو بھی دو نظام یعنی شہری اور دیہی، کیا، پنجاب میں کوٹا ہے؟ کیا خیبرپختونخوا میں کوٹا ہے؟نظام تو آپ نے دو بنائے ہیں، ہم نے تقسیم نہیں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکمرانی ناقص اور انتظامیہ کمزور ہے، انہیں ادارہ جاتی ناکامی پر پردہ ڈالنے نہیں دیں گے۔بحث کے دوران تحریک انصاف کے رکن سجاد سومرو نے ایک بڑا ہی دلچسپ سوال کرڈالا، اس سوال کو بتانے سے پہلے ہم آپ کو بتائیں کہ آج کل سوشل میڈیا پر بلاول بھٹو زرداری کی شادی کے حوالے سے افواہیں گردش کررہی ہیں جس پر بلاول بھٹو زرداری نے خود وضاحت کردی اور کہا کہ اگر ایسا کوئی پروگرام ہوا تو قوم کو باقاعدہ طور پر آگاہ کیا جائے گا۔ ازارہ تفنن یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا نے تو ان کی بات پکی کروا دی حتیٰ کہ منگی اور شادی تک کروا ڈالی۔ اب آتے ہیں سوال کی طرف۔ سجاد سومرو نے پوچھا کہ آسٹریا سے بیاہ کر آنے والی بھابھی مہاجر کہلائیں گی یا سندھی؟

سجاد سومرو نے ایک سوال کیا، لیکن یہ اپنی ماہیت میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے خود کو مہاجر کہتے ہیں اور اسی کو اپنی شناخت مانتے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے مطابق وہ اب سندھی ہیں، ہجرت کو کئی دہائیاں بیت چکی ہیں۔سیاسی جماعتوں کا بحث ومباحثہ تو چلتا رہے گا لیکن الگ الگ دو واقعات ایسے ہیں جنہوں نے کراچی سمیت ملک بھر کے عوام کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور وہ ہیں، میر رضاقتل کیس اور دوسرا ڈیفنس میں بااثر خاتون کا دوسری فیملی پر تشدد۔ میر رضا کیس میں بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ پرتیں کھلتی جارہی ہیں، جوڈیشل کمیشن کے روبرو میر رضا کے لواحقین نے بیان ریکارڈ کرا دیا ہے۔ جس میں واقعہ کی معمولی سے معمولی جزیات تک پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ کمیشن نے میر رضا کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کو بھی طلب کیا۔ڈاکٹر اسامہ کو بڑے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔کمیشن نے باڈی پر موجود نشانات کے حوالے سے سوالات کیے اور کہا کہ آپ معاملے کو بہت ہلکا لے رہے ہیں، پوری کارروائی میں صرف گولی کا نشان نظر آیا؟ڈاکٹر اسامہ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے کبھی خودکشی والی بات نہیں کی۔ کمیشن نے پھر پوچھا کہ آپ کی دوسری رپورٹ پہلی سے مختلف ہے، ہاتھ کی لکھائی بھی الگ نظر آرہی ہے۔

دوسرا معاملہ ڈیفنس میں خاتون کا دوسری خاتون پر تشدد ہے، عام طور پر لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے ہیں لیکن خود ہی تشدد کرنا اور خود ہی متاثرین کے خلاف کیس درج کرادینے کی مثالیں اکثر سامنے آتی رہتی ہیں، یہ بھی اسی طرح کا ایک کیس ہے، گاڑی کی پارکنگ کے تنازعے سے شروع ہونے والا معاملہ اتنا بڑھا کہ کہ طاقت کے نشے میں خواتین نے اپنے ہی فلیٹ کے باسیوں پر ڈمبلز سے حملہ کیا اور متاثرہ بہن بھائیوں کو گھر سے باہر نکال کر نہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ مبینہ طور پر تھانے میں لے جاکر دوبارہ تشدد کیا گیا اور پھر ایک معمر خاتون سمیت اہلِ خانہ پر مقدمہ بھی درج کروادیا گیا۔بااثر فریق کو مبینہ طور پر ایک سینئر پولیس افسر کی پشت پناہی حاصل ہے۔حکومت نے سخت ایکشن کی یقین دہانی تو کرا دی ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ ہر چند روز بعد کہیں نہ کہیں ایسا واقعہ رونما ہوجاتا ہے۔ حکومت کو دیکھنا چاہیے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ طاقتور کو پتا ہوتا ہے کہ وہ جیسے چاہے گا قانون کی ناک مروڑ دے گا اور قانون کی بالادستی کا دعویٰ کرنے والے ایسے معاملے سے خود کو یہ کہہ کر بچانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اوپر کا پریشر تھا۔ اس پریشر کے تاثر کو ختم کیا جانا چاہئے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

کیا شہر اقتدار میں سب اچھا ہے؟

باتیں ہونے لگی ہیں کہ سب اچھا نہیں ہے۔شہرِ اقتدار میں ایک عجیب سی خاموشی ہے۔ حکومت کی بڑی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے تیور کچھ بدلے بدلے دکھائی دے رہے ہیں اور اس نے اُکھڑی اُکھڑی باتیں کرنا شروع کر دی ہیں۔

بڑی جماعتیں نئے صوبوں سے گریزاں کیوں؟

سیاسی جماعتوں کی جانب سے نئے صوبوں کی تشکیل بارے تحفظات کے باوجود اراکینِ اسمبلی اس حوالہ سے پس پردہ تیاریوں کے سگنلز کی تصدیق کرتے نظر آ رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعتوں کا مؤقف اپنی جگہ لیکن یہ نظر آ رہا ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل ان کے روکنے سے نہیں رکنے والی۔

تلخیاں آسانی سے ختم ہونے والی نہیں

27ستمبر کا جلسہ اور ایک دن کا خرچہ 45 کروڑ روپے اور اس کے بعد یومیہ خرچہ تقریبا ڈیڑھ کروڑ روپے، یہ ہے اس لانگ مارچ پر آنے والے اخراجات کا ابتدائی تخمینہ جو پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر کی جانب سے پیش کیاگیا ہے۔

بلوچستان میں پائیدار امن کی بنیاد

بلوچستان کے مسائل کا پائیدار حل ریاستی رٹ، مؤثر حکمرانی، سیاسی مکالمہ اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔

آزاد جموں و کشمیر کی نئی حکومت سے امیدیں

آزاد جموں و کشمیر میں بیرسٹر افتخار گیلانی نے 17 ویں وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا لیاہے۔ تقریبِ حلف برداری میں وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ، وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور امیر مقام کے فرزند ڈاکٹر عباد نے بھی شرکت کی۔

خواتین کا سماجی و معاشی کردار تبدیلی ناگزیر ہے

کسی بھی معاشرے کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں خواتین کو کس قدر بااختیار، محفوظ اور فعال کردار ادا کرنے کے مواقع حاصل ہیں۔