آج کا پکوان:انڈا شامی برگر

تحریر : منیرا کرن


اجزا:شامی کباب:چار عدد،انڈے :دو عدد،برگر بن :چار عدد،پیاز (باریک کٹی ہوئی) : ایک عدد،ٹماٹر (کٹے ہوئے) :ایک عدد،سلاد کے پتے : حسبِ ضرورت،کھیرا (کٹا ہوا) : حسبِ ضرورت۔

ساس کے لیے:مایونیز :چار چمچ،چلی ساس : ایک چمچ،ٹماٹو کیچپ:دو چمچ،سرخ مرچ پاؤڈر : آدھاچائے کا چمچ،کالی مرچ پاؤڈر :آدھا چائے کا چمچ

ترکیب: شامی کباب کو ہلکے تیل میں دونوں طرف سے سنہرا اور کرسپی ہونے تک فرائی کریں۔ انڈوں کو نمک اور کالی مرچ ڈال کر آملیٹ کی طرح بنا لیں یا ہلکا فرائی کر لیں۔. ایک پیالے میں مایونیز، چلی ساس اور ٹماٹو کیچپ ڈال کر اچھی طرح مکس کر لیں۔ ساس تیار ہے۔ برگر بن کو درمیان سے کاٹ کر ہلکا سا آئل یا مکھن لگا کر توے پر ہلکا سا سینک لیں۔ بن کے نچلے حصے پر تیار ساس لگائیں۔ اس کے اوپر سلاد کے پتے، شامی کباب، انڈا، پیاز، ٹماٹر اور کھیرا رکھیں۔ اوپر سے دوبارہ ساس لگائیں اور بن کا اوپر والا حصہ رکھ دیں۔ مزیدار انڈا شامی برگر تیار ہے۔ گرم گرم سرو کریں۔ اگر چاہیں تو اس میں چیز سلائس یا جلاپینو بھی شامل کر سکتے ہیں۔ یہ برگر بچوں کے لنچ باکس کے لیے بہترین ہے۔

گلاب جامن

اجزا:گلاب جامن کے لیے: کھویا: ایک کپ، میدہ :  دو چمچ،بیکنگ پاؤڈر : چوتھائی چائے کا چمچ،ملک پاؤڈر : ایک چمچ، دودھ : حسبِ ضرورت، گھی یا آئل : فرائی کرنے کے لیے

چاشنی کے لیے:چینی :ایک کپ،پانی : دو کپ،الائچی :3 سے 4 عدد،عرق گلاب :ایک  چائے کا چمچ

ترکیب:  چاشنی بنانے کے لیے ایک پین میں چینی اور پانی ڈالیں، اس میں الائچی اور عرق گلاب ڈالیں اور 10 منٹ تک ہلکی آنچ پر پکا کر چولہا بند کر دیں۔ ایک پیالے میں کھویا ڈالیں اور اسے اچھی طرح میش کریں تاکہ اس میں کوئی گٹھلی نہ رہے۔ اب اس میں میدہ، بیکنگ پاؤڈر اور دودھ پاؤڈر ڈالیں اور اچھی طرح مکس کریں۔ تھوڑا تھوڑا دودھ ڈالتے ہوئے نرم ڈو تیار کریں۔  ڈو نہ زیادہ سخت ہو اور نہ زیادہ نرم۔ ڈو سے چھوٹے چھوٹے برابر کے گول پیڑے بنائیں۔ پیڑوں میں دراڑ یا کریک نہ ہو۔ کڑاہی میں آئل کو درمیانی آنچ پر گرم کریں۔ آنچ بہت تیز نہ ہو۔ گولوں کو آہستہ آہستہ تیل میں ڈالیں اور سنہری بھورے ہونے تک بھونیں۔ فرائی ہونے کے بعد انہیں گرم چاشنی میں ڈالیں اور 1،2 گھنٹے کے لیے چھوڑ دیں تاکہ چاشنی جذب ہو جائے۔ چاشنی درمیانی گرم رکھیں تاکہ گلاب جامن اندر تک گل جائیں اور اچھی رنگت بھی آئے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

نئے انتظامی یونٹس ،لائحہ عمل کیا ہوگا؟

نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ توقع سے زیادہ تیزی پکڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ ملکی سیاست میں بڑا ارتعاش پیدا ہو چکا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کھل کر سامنے آچکی ہے جس نے سندھ میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے خیال کو یکسر مسترد کردیا ہے۔

نئے صوبے ، (ن) لیگ کا فیصلہ کیا ہوگا؟

ملکی سیاسی محاذ پرنئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بحث عروج پر ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں اس حوالہ سے اپنی آرا اور تجاویز دیتی نظر آ رہی ہیں ۔ان تجاویزو آرا کا بغور جائزہ لیا جائے تو ایک بات واضح نظر آتی ہے کہ ملک کو جس طرح چلایا جا رہا ہے اس میں کم از کم قومی و عوامی مسائل کے حل بارے سنجیدگی نہیں۔

نئے صوبوں پر سیاست

سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی نے نئے صوبے بنانے کے خلاف ایک بار پھر قرارداد منظور کرالی ہے۔ اپوزیشن نے تقاریر کے بعد ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

کیا یہ وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری ہے؟

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے سندھ کا دورہ مکمل کرلیا ہے لیکن کیایہ دورہ کامیاب رہا؟سہیل آفریدی کے ساتھ ان کے وزرا اور سوشل میڈیا ٹیم بھی تھی۔

سیاسی تدبر وقت کی ضرورت

بلوچستان کی صورتحال حکومت اور عوام سے سنجیدگی، ذمہ داری اور دوراندیشی کا تقاضا کرتی ہے۔

کشمیر ہاؤس سے مظفر آبادتک

وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر افتخار گیلانی نے حلف اٹھانے کے ساتھ ہی کشمیر ہاؤس اسلام آباد سے اپنی مصروفیات شروع کر دی ہیں۔