یہ وطن تمہارا ہے

تحریر : کلیم عثمانی


یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے

یہ چمن تمہارا ہے، تم ہو نغمہ خواں اس کے

اس چمن کے پھولوں پر رنگ و آب تم سے ہے

اس زمیں کا ہر ذرہ آفتاب تم سے ہے

یہ فضا تمہاری ہے، بحر و بر تمہارے ہیں

کہکشاں کے یہ جالے، رہ گزر تمہارے ہیں

اس زمیں کی مٹی میں خون ہے شہیدوں کا

ارضِ پاک مرکز ہے قوم کی امیدوں کا

نظم و ضبط کو اپنا میرِ کارواں جانو

وقت کے اندھیروں میں اپنا آپ پہچانو

یہ زمیں مقدس ہے ماں کے پیار کی صورت

اس چمن میں تم سب ہو برگ و بار کی صورت

دیکھنا گنوانا مت، دولتِ یقیں لوگو

یہ وطن امانت ہے اور تم امیں لوگو

میرِ کارواں ہم تھے، روحِ کارواں تم ہو

ہم تو صرف عنواں تھے، اصل داستاں تم ہو

نفرتوں کے دروازے خود پہ بند ہی رکھنا

اس وطن کے پرچم کو سربلند ہی رکھنا

یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے

یہ چمن تمہارا ہے، تم ہو نغمہ خواں اس کے

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

اتنے کم نمبر ؟

داؤد تمہارا رزلٹ آگیا؟ کالج میں داؤد کے دوست نعمان عرف نومی نے پوچھا۔ہاں پاس ہو گیا ہوں ، نمبر اچھے نہیں آئے، صرف 425 نمبر آئے ہیں۔

ننھی پری کا بڑا خواب!

پاکستان کے ایک گاؤں میں 12 سالہ بچی آمنہ رہتی تھی۔ آمنہ ایک عام بچی تھی، مگر اس کا دل غیرمعمولی جذبوں سے لبریز تھا، وطن سے محبت، شہیدوں کی عزت اور ایک ایسا خواب جو اس کی عمر سے کہیں بڑا تھا۔

حرف حرف موتی

٭…اگر بھاگنا ہے تو علم کیلئے بھاگو۔

دوائی

ایک دفعہ مُلّانصیرالدین گدھے پر سوار کہیں جارہے تھے کہ گدھا راستے میں َاڑ گیا۔مُلّا صاحب نے بڑی خوشامد کی، چمکارا پچکارا، مارا پیٹا مگر گدھا ٹَس سے مَس نہ ہوا۔

ذرا مسکرائیے

باپ نے بیٹے سے کہا:دیکھوعمران آج جو مہمان ہمارے ہاں آنے والا ہے اس کی ناک کے متعلق کوئی سوال نہ کر نا۔

پہیلیاں

آج ہے اس کا گھر گھر نام،کل ہے اس کا کام تمام