ذرا مسکرائیے
باپ نے بیٹے سے کہا:دیکھوعمران آج جو مہمان ہمارے ہاں آنے والا ہے اس کی ناک کے متعلق کوئی سوال نہ کر نا۔
جب مہمان آیا تو عمران حیرانی سے اپنے باپ کو کہنے لگا :آپ تو کہتے تھے کہ ان کی ناک کا ذکر نہ کرنا۔ ان کی ناک ہی نہیں ہے۔ بات کیا خاک کروں گا۔
٭٭٭
ایک شخص سائیکل پر جا رہا تا کہ اچانک آگے ایک بوڑھا آ گیا۔ سائیکل اس سے ٹکرائی اور وہ گر پڑا۔ بوڑھے کو چوٹ بھی آئی۔ بوڑھے نے اْٹھ کر اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک روپیہ نکالا اور سائیکل والے کو دے دیا۔
سائیکل والے نے حیرت سے کہا:بابا جی! میں نے ہی ٹکر ماری اور آپ روپیہ بھی مجھے ہی دے رہے ہیں۔
بوڑھے نے کہا:نہیں یہ بات نہیں، میں جب بھی شہر آتا ہوں تو ایک اندھے کو ایک روپیہ ضرور دیتا ہوں۔
٭٭٭
ساجد (نوید سے) : تم نے پرچہ کیسا دیا؟۔
نوید :کیا بتاؤں یار بس سارا خالی دے کر آیا ہوں، اچھا ساجدتم سناؤ پرچہ کیسا ہوا؟۔
ساجد:بھئی! آخر تمھارا دوست ہوں خالی پرچہ دے کر آیا ہوں۔
نوید:ارے! ارے! غضب ہو گیا، سر سمجھیں گے کہ ہم دونوں نے نقل کی ہے۔
٭٭٭
چڑیا گھر کے دو ملازم بیٹھے رو رہے تھے ایک آدمی نے ان سے پوچھا:ارے بھئی تم رو کیوں رہے ہو۔
ایک ملازم نے آنسو پونجھتے ہوئے بتایا: ہمارے چڑیا گھر کا ہاتھی مر گیا ہے۔
اس آدمی نے کہا:اچھا تو تمھیں اس سے بہت محبت ہو گی۔
ملازم نے روتے ہوئے کہا:نہیں، محبت تو نہیں تھی لیکن ہمارے مالک نے ہمیں اس کی قبر کھودنے کا حکم دیا ہے۔
٭٭٭
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments