احمد فرازجو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا

تحریر : پروفیسر صابر علی


آ ج 18 ویں برسی: ان کی شاعری سے ایک رومانی، ایک نوکلاسیکی شاعر کی تصویر بنتی ہے: فراز کا یہ کمال بھی لائق صد تحسین ہے کہ کڑی آزمائشوں میں سے گزرنے کے باوجود اپنی انقلابی شاعری میں سچ سے گریز پا نہ ہوئے۔ صورتحال کا تجزیہ کرتے اور پڑھنے سننے والوں کو اپنی فکر کے مطابق سوچنے پر مجبور کرتے:وہ اردو شاعری کی ایک عظیم میراث کے امانت دار تھے جس میں میر تقی میر سے لیکر فیض احمد فیض تک مشاہیر اور منفرد لہجے کے شعراء شامل ہیں‘ اور اسی آمیزہ سے ان کی شاعری بالخصوص غزلیں اور نظمیں ثروت مند وتو نگر ہوئیں

سوانحی خاکہ

احمد فراز 12 جنوری 1931ء کو کوہاٹ کے ایک سادات خاندان میں پیدا ہوئے۔ اصل نام سید احمد شاہ تھا۔ جب شاعری شروع کی تو اس وقت ان کا نام احمد شاہ کوہاٹی ہوتا تھا جو بعد میں فیض احمد فیض کے مشورے سے احمد فراز ہوگیا۔ مادری زبان پشتو تھی لیکن ابتدا ہی سے فراز کو اردو لکھنے اور پڑھنے کا شوق تھا اور وقت کے ساتھ اردو زبان اور ادب میں ان کی یہ دلچسپی بڑھنے لگی۔ والد صاحب انہیں ریاضی اور سائنس کی تعلیم میں آگے بڑھانا چاہتے تھے لیکن فراز کا فطری میلان ادب اورشاعری کی طرف تھا، اس لئے انہوں نے پشاور کے ایڈورڈ کالج سے فارسی اور اُردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور باضابطہ ادب وشاعری کا مطالعہ کیا۔ احمد فراز نے اپنا کیرئیر ریڈیو پاکستان پشاور میں سکرپٹ رائٹر کے طور پر شروع کیا مگر بعد میں وہ پشاور یونیورسٹی میں اردو کے استاد مقرر ہوگئے۔ 1976 میں جب حکومت پاکستان نے اکادمی ادبیات کے نام سے ملک کا اعلی ترین ادبی ادارہ قائم کیا تو احمد فراز اس کے پہلے ڈائریکٹر جنرل بنائے گئے۔

فراز اپنے عہد کے سچے فنکار تھے، حق گوئی اور بے باکی ان کی تخلیقی فطرت کا بنیادی عنصر تھی۔ فراز کی شاعری جن دو بنیادی جذبوں، رویوں اور تیوروں سے مل کرتیار ہوتی ہے وہ احتجاج، مزاحمت اور رومان ہیں۔ ان کی شاعری سے ایک رومانی، ایک نوکلاسیکی، ایک جدید اور ایک باغی شاعر کی تصویر بنتی ہے۔ انہوں نے عشق، محبت اور محبوب سے جڑے ہوئے ایسے باریک احساسات اور جذبوں کو شاعری کی زبان دی ہے جو ان سے پہلے تک ان چھوے تھے۔ فراز اپنے عہد کے مقبول ترین شاعروں میں سے تھے۔اردو مشاعروں میں جتنی محبتوں اور دلچسپی کے ساتھ فراز کو سنا گیا ہے اتنا شاید ہی کسی اور شاعر کو سنا گیا ہو۔ فراز کی پذیرائی ہر سطح پر ہوئی انہیں بہت سے اعزازات وانعامات سے بھی نوازا گیا۔

آخری مشاعرہ

احمد فراز نے اپنی زندگی کا آخری مشاعرہ 20اور 21جون 2008ء کی درمیانی شب لیاقت باغ راولپنڈی میں پڑھا۔ وہ اس مشاعرے کی صدارت کر رہے تھے ۔ مشاعرے کا آغاز رات 9بجے ہوا لیکن صدر محفل کچھ تاخیر سے آئے کیونکہ انہیں لیاقت باغ سے براہ راست ایئر پورٹ جانا تھا۔ رات دوبجے انہیں دعوت کلام دی گئی تو ہجوم دیوانہ ہو گیا۔ بڑی مشکل سے دیوانوں کے ہجوم کو خاموش کرایا گیا اور احمد فراز نے ایک نظم پڑھنی شروع کی۔ انہیں ہر شعر پر داد مل رہی تھی۔ اس عوامی مشاعرے سے بے پناہ داد سمیٹ کر احمد فراز سٹیج سے اترے اور ائیر پورٹ روانہ ہو گئے جہاں سے انہیں امریکہ روانہ ہو نا تھا۔ امر یکہ میں وہ بیمار پڑ گئے وطن واپسی کے بعد بھی روبہ صحت نہ ہو سکے اور 25اگست2008 ء کو خالقِ حقیقی سے جا ملے۔26اگست کی شام کو اسلام آباد میں نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ H-8 قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ۔ 

آج جب ہم اپنے عہد کے بڑے شاعر احمد فراز کا نام لیتے ہیں تو ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ اردو زبان اس بات پر فخر کر سکتی ہے کہ اسے فراز جیسا شاعر ملا ۔ ابتدائے آفرینش سے محبت انسانوں کا سب سے اہم ترین موضوع رہا ہے۔ حیرت کی بات ہے محبت جیسے موضوع کو فراز نے نئی وسعت اور تازگی دی ۔ بڑے شاعر کی سچائی بھی بڑی ہوتی ہے۔ وہ اپنے دامن میں جھوٹ کے پیوند لگا کر کالر میں سچائی کے سرخ گلاب نہیں لگاتا۔ بڑا شاعر جس زبان میں بھی شاعری کرتا ہے اسے بڑا کر دیتا ہے۔ فراز نے اردو کو ایک آبرو بخشی ہے اسے دنیا سے تکلم کا سلیقہ سکھایا ۔ آج جہاں جہاں اُردو بولی اور سمجھی جاتی ہے وہاں وہاں فراز ہے اور جہاں جہاں فراز ہے وہاں اردو کو فخر کرنا چاہئے کہ اسے ایسا شاعر نصیب ہوا ہے۔احمد فراز تفاوت اور تفریق کی دیواروں کو منہدم کرنے کے حامی تھے اور تمام تر تعصبات سے پاک تھے۔ناقدین کے مطابق ایسا کوئی شاعر نہیں گزرا جس کی مادری زبان پشتو ہو اور وہ اردو کا ایسا بڑا اور مقبول شاعربن گیا ہو۔ ایسا نہیں ہے کہ پشتو زبان میں شاعری نہیں ہوتی،لیکن اردو زبان میں اس کا فراز جیسا مقام نہیں۔ احمد فراز عالمی حیثیت سے مشاعروں کے بھی مقبول شاعر تھے اور ادب میں بھی ان کا ایک مقام ہے۔ ہمارے یہاں عام طور پر مشاعروں کے شاعروں کو اہمیت نہیں دی جاتی ہے مگر فراز کے معاملے میں ایسا نہیں ہے۔وہ مشاعروں میں بھی معروف و مقبول تھے اور ادبی مقام و امتیاز کے بھی حامل ہیں۔

احمد فراز کی غزل دراصل صنف غزل کی تمام روشن روایات کے جدید اور سلیقہ مند اظہار کا نام ہے۔ اس کا ایک ایک مصرع ایسا گٹھا ہوا ہوتا ہے کہ وہ کسی ایک لفظ کی تبدیلی کی گنجائش بھی باقی نہیں چھوڑتا اور چونکہ فراز کی غزل تکمیل کی انتہا ہے اس لئے جب وہ نظم کہتے تو اس کی بھی ایک لائن برجستہ اور بے ساختہ ہوتی؛چنانچہ احمد فراز غزل اور نظم کا ایسا شاعر ہے جوہمیشہ معتبر ترین شعراء میں شمار ہوتا رہے گا۔ جو بعض لوگ دور کی کوڑی لاتے ہیں کہ فراز کے یہاں حسن کی نرمیوں کے ساتھ ساتھ تغیر اور انقلاب کی جو للکار ہے وہ اسے تضادات کا شکار بنا دیتی ہے۔ یہ حضرات اتنا بھی نہیں جانتے کہ حسن و عشق کی منازل سے گزرنے کے بغیر انقلاب کی للکار اعتماد سے محروم رہتی ہے اور وہی شعرا صحیح انقلابی ہوتے ہیں جو انسانی ضمیر کی گہرائیوں کے رازداں ہوتے ہیں۔ فراز کا یہ کمال بھی لائق صد تحسین ہے کہ کڑی آزمائشوں میں سے گزرنے کے باوجود وہ اپنی انقلابی شاعری میں سچا شاعر رہا ہے۔ وہ نعرہ زنی نہیں کرتا۔ صورتحال کا تجزیہ کرتا ہے اور پڑھنے سننے والوں کو اپنی سوچ کے مطابق سوچنے پر مجبور کردیتا ہے۔ اس کا یہ دعویٰ صد فیصد درست ہے۔

غزل میں تو خیر فراز کا انداز ہی جدا گانہ ہے مگر نظم کی بات بھی کی جائے تواحمد فراز کی نظم اس فکر و احساس سے ترتیب پاتی ہے جو ہمارے ماضی اور حال سے جڑا ہوا ہے۔ سیاسی ابتری اور معاشی بدحالی کے ساتھ ساتھ ہم اخلاقی طور پر بھی گراوٹ کا شکار ہیں۔ ہماری عظمت رفتہ ہم سے چھن چکی ہے۔ ہمارا موجود بھی ہمارے ساتھ سے نکلا جا رہا ہے۔ ہم ابھی تک خمار ماضی سے باہر نکل ہی نہیں پائے۔ کہیں کہیں فراز کی نظم رجز یہ اور احتجاجی رنگ اختیار کر لیتی ہے بلکہ یہ کہا جانا چاہئے کہ فراز کا لہجہ شروع سے آخر تک احتجاجی و مزاحمتی ہے۔ وہ برُے سے برُے حالات کے آگے بھی سپر نہیں ڈالتے بلکہ ان کا مقابلہ کرتے ہیں۔فراز کی نظم کے بارے  ثاقب رزمی کہتے ہیں: ’’احمد فراز کی شاعری مواد اور اسلوب دونوں کے حوالے سے بلند پایہ اور منفرد ترقی پسند شاعری کے ضمن میں آتی ہے۔ وہ ایک متوازن نقطہ نظر رکھتا ہے، اسی لئے اس نے ادبی جدیدیت کے کسی غلط انداز کو اختیار کرکے اپنے فن کو ابہام زدگی کا شکار نہیں ہونے دیا۔ اس کے کلام کی بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے کسی موقع پر بھی اردو شاعری کی کلاسیکیت کا دامن نہیں چھوڑا۔وہ ایک ترقی پسند دانشور ہے جو انسانی معاشرے کی بہتر تعمیر کا خواہاں ہے اور زندگی کو مساوات، اخوت، خوشحالی اور خیرو امن کے ماحول میں محوِ رقص اور سرخوش دیکھنا چاہتا ہے۔

وہ محض فطرت کی عکاسی، زندگی کے سطحی پہلوئوں کے بیان پر اکتفا نہیں کرتابلکہ ان معروضی اسباب تک پہنچتا ہے جنہوں نے تیسری دنیا کے محنت کش عوام کو ناداری، بیماری، جہالت اور بدحالی کا شکار بنا رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ معاشرے کو بہتر خطوط پر بدلنے ہی میں راہ نجات ڈھونڈتا ہے۔ لیکن وہ خوب جانتا ہے کہ استحصالی نظام نے عوام پر خیرو امن اور خوشحالی کے دروازے بند کررکھے ہیں۔ اس لئے وہ استحصالی طبقوں کے خلاف آواز بلند کرنا اپنا فریضہ سمجھتا ہے۔احمد فراز کی نظم ہماری مٹتی ہوئی تہذیب کا نوحہ ہے۔ وہ اپنی نظم میں عہد گزشتہ میں ہونے والی درباری سازشوں اور کاسہ لیسوں کی چالوں کا ذکر بڑی درد مندی کے ساتھ کرتے ہیں‘‘۔

 یہ حقیقت ہے کہ فراز کی نظم ہمارے عہدِ گزشتہ کا منظر نامہ خوبصورت انداز میں پیش کر تی ہے ۔یہ صرف ہماری تاریخ ہی کا منظر نامہ نہیں تاریخوں کا منظر نامہ بھی ہے۔ کمال کی بات ہے کہ نظم جس قسم کی فضا اور ڈکشن کا تقاضا کرتی ہے فراز نے وہی ڈکشن اور فضا برقرار رکھی ہے۔ لفظ نہیں گویا آئینے جڑے ہیں جن میں ماضی عکس در عکس ہمارے سامنے آتا جا رہا ہے۔ زندگی رُکی نہیں اور بھی تیز خرام ہو گئی ہے۔یوں لگتا ہے فراز نے لفظوں کو زندگی عطا کردی ہے، دوسری بات یہ ہے کہ فراز کی نظم میں حیرت اور طلسم کا عنصر پورے جاہ و جلال کے ساتھ ہمارے روبرو ہے جو ماضی کا خاصا ہے، مگر اس ساری بُنت اور ترتیب کے ہوتے ہوئے نظم کا حسن مجروح ہونے کی بجائے اور نکھر کر سامنے آتا ہے۔ ڈاکٹر قمر رئیس لکھتے ہیں کہ آزادی کے بعد پاک و ہند ہی نہیں ایشیا اور افریقہ کے دوسرے نوآزاد ملکوں میں بھی جمہوری عمل، انسانی حقوق اور انسانی وقار کو بے دردی سے کچلا گیا، نوجوانوں اور محنت کش انسانوں کی اجتماعی تحریکوں اور ان کی حمایت کرنے والے ادیبوں اور دانشوروں پر ہر طرح کا ظلم ڈھایا گیا۔ احمد فراز کی نظموں میں ان تمام حقائق کے زندہ اور متحرک نقوش تابناک نظر آتے ہیں۔ ان کی نظموں میں احساس کی شدت ،تخلیقی توانائی عصری حقائق کی ترجمانی کے باوجود ایک انوکھی تازگی کا احساس ہوتا ہے۔

فرازکے بارے میں مخالفین کی جانب سے کہا گیا کہ وہ صرف عنفوان شباب میں داخل ہونے والوں کا شاعر ہے، فراز کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نوجوان طلبہ کا شاعر ہے اور بس … فراز کی شاعری میں یقیناً حسن و عشق کی کرم فرمائیاں ہیں مگر فراز تو بھرپور زندگی کا شاعر ہے۔ وہ انسان کے بنیادی جذبوں کے علاوہ اس آشوب کا بھی شاعر ہے جو پوری انسانی زندگی کو محیط کئے ہوئے ہے۔ اس نے انسان کی محرومیوں، مظلومیوں اور شکستوں کو جہاں اپنی غزل و نظم کا موضوع بنایا ہے وہیں ظلم و جبر کے عناصر اور آمریت و مطلق العنانی پر بھی ٹوٹ ٹوٹ کر برسا ہے، اور اس سلسلہ میں غزل کا ایسا ایسا شعر کہا ہے کہ اور ایسی ایسی نظم لکھی ہے کہ پڑھتے یا سنتے ہوئے اس کے مداحین جھومتے ہیں اور اس کے معترضین کے منہ کھلے کے کھلے رہ جاتے ہیں۔احمد فراز کی مقبولیت سے ان کا بڑے سے بڑا حریف بھی انکار نہیں کر سکتا۔

غزلیات

اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں

کیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں

تو بھی ہیرے سے بن گیا پتھر

ہم بھی کل جانے کیا سے کیا ہو جائیں

تو کہ یکتا تھا بے شمار ہوا

ہم بھی ٹوٹیں تو جا بجا ہو جائیں

ہم بھی مجبوریوں کا عذر کریں

پھر کہیں اور مبتلا ہو جائیں

ہم اگر منزلیں نہ بن پائے

منزلوں تک کا راستا ہو جائیں

دیر سے سوچ میں ہیں پروانے

راکھ ہو جائیں یا ہوا ہو جائیں

عشق بھی کھیل ہے نصیبوں کا

خاک ہو جائیں کیمیا ہو جائیں

بندگی ہم نے چھوڑ دی ہے فراز

کیا کریں لوگ جب خدا ہو جائیں

……………

زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے

تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے

تو محبت سے کوئی چال تو چل

ہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے

دل دھڑکتا نہیں ٹپکتا ہے

کل جو خواہش تھی آبلہ ہے مجھے

ہم سفر چاہیئے ہجوم نہیں

اک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے

کوہ کن ہو کہ قیس ہو کہ فراز

سب میں اک شخص ہی ملا ہے مجھے

پھر اسی رہ گزار پر شاید

ہم کبھی مل سکیں مگر شاید

جن کے ہم منتظر رہے ان کو

مل گئے اور ہم سفر شاید

جان پہچان سے بھی کیا ہوگا

پھر بھی اے دوست غور کر شاید

اجنبیت کی دھند چھٹ جائے

چمک اٹھے تری نظر شاید

زندگی بھر لہو رلائے گی

یاد یاران بے خبر شاید

جو بھی بچھڑے وہ کب ملے ہیں فراز

پھر بھی تو انتظار کر شاید

……………

تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے

پھر جو بھی در ملا ہے اسی در کے ہو گئے

پھر یوں ہوا کہ غیر کو دل سے لگا لیا

اندر وہ نفرتیں تھیں کہ باہر کے ہو گئے

کیا لوگ تھے کہ جان سے بڑھ کر عزیز تھے

اب دل سے محو نام بھی اکثر کے ہو گئے

اے یاد یار تجھ سے کریں کیا شکایتیں

اے درد ہجر ہم بھی تو پتھر کے ہو گئے

سمجھا رہے تھے مجھ کو سبھی ناصحان شہر

پھر رفتہ رفتہ خود اسی کافر کے ہو گئے

اب کے نہ انتظار کریں چارہ گر کہ ہم

اب کے گئے تو کوئے ستم گر کے ہو گئے

روتے ہو اک جزیرۂ جاں کو فراز تم

دیکھو تو کتنے شہر سمندر کے ہو گئے

منتخب اشعار

جز ترے کوئی بھی دن رات نہ جانے میرے 

تو کہاں ہے مگر اے دوست پرانے میرے 

 شمع کی لو تھی کہ وہ تُو تھا مگر ہجر کی رات 

دیر تک روتا رہا کوئی سرہانے میرے 

……………

ہم تو یوں خوش تھے کہ اک تار گریبان میں ہے

کیا خبر تھی کہ بہار اس کے بھی ارمان میں ہے

ایک ضرب اور بھی اے زندگی ٔتیشہ بدست

سانس لینے کی سکت اب بھی مری جان میں ہے

……………

ایسے چپ ہیں کہ یہ منزل بھی کڑی ہو جیسے

تیرا ملنا بھی جدائی کی گھڑی ہو جیسے

……………

اب ترے ذکر پہ ہم بات بدل دیتے ہیں 

کتنی رغبت تھی ترے نام سے پہلے پہلے

……………

کاش تو بھی کبھی آ جائے مسیحائی کو

لوگ آتے ہیں بہت دل کو دکھانے میرے

کاش اوروں کی طرح میں بھی کبھی کہہ سکتا

بات سن لی ہے مری، آج خدا نے میرے

شعری مجموعے

تنہا تنہا

دردِ آشوب

شب خون

نایافت

میرے خواب ریزہ ریزہ

بے آواز گلی کوچوں میں

نابینا شہر میں آئینہ

پسِ اندازِ موسم

سب آوازیں میری ہیں

خوابِ گْل پریشاں ہے

بودلک

غزل بہانہ کروں

جاناں جاناں

اے عشق جنوں پیشہ

 اعزازات 

٭آدم جی ادبی ایوارڈ

٭اباسین ایوارڈ برائے ادب

٭دھنک ایوارڈ

٭اکادمی ادبیات پاکستان ایوارڈ

٭نقوش ایوارڈ برائے ادب

٭ستارہ امتیاز برائے ادب

٭کمالِ فن ایوارڈ

٭فراق انٹرنیشنل ایوارڈ

٭بین الاقوامی ایوارڈ برائے امن اور انسانی حقوق

ڈاکٹریٹ کی ڈگری:

فراز کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں یونیورسٹی آف کراچی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

ہاکی ورلڈ کپ: سارے خواب چکناچور

پاکستان ہاکی ٹیم کی مایوس کن واپسی:پاکستان ہاکی کا زوال محض ایک یا دو میچوں کی ناکامی نہیں بلکہ جدید ہاکی کے تقاضوں سے بے خبر ہونے کا نتیجہ ہ:گرین شرٹس تینوں پول میچوں میں ایک بھی فتح حاصل کرنے میں ناکام رہی، اور محض ایک پوائنٹ کے ساتھ ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی

قیادت کی تبدیلی کے باوجود قومی ٹیم کا زوال جاری

پاکستان بمقابلہ انگلینڈ :ٹیسٹ سیریز2026ء:غیر ملکی سر زمین پر پاکستان کی غیر معیاری کارکردگی ،دس بیرونِ ملک ٹیسٹ میچوں میں نویں شکست:دوسرے ٹیسٹ سے قبل پاکستانی ٹیم کو اپنی غلطیوں کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہو گا، غیر ملکی دوروں پر مسلسل شکستوں کے سلسلہ کو توڑنے کیلئے ٹاپ آرڈر کوکریز پر وقت گزارناہوگا

جشن سے آگے !

دیواروں پر لٹکی ہوئی کاغذ کی جھنڈیاں فر فر کی آوازیں پیدا کر رہی تھیں مگر زمین کا منظر کچھ اور ہی تھا۔عارف کے قدم اپنی جگہ منجمد ہو چکے تھے۔

ماں کی شان

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور پاکﷺ سے دریافت کیا کہ رشتہ داروں میں سے میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟

ہُد ہُد: قدرت کا حسین اور منفرد پرندہ

ہدہد ایک نہایت خوبصورت، منفرد اور دلکش پرندہ ہے، جس کا ذکر قرآنِ کریم میں بھی حضرت سلیمان ؑکے واقعے کے حوالے سے ملتا ہے۔

وطن پیارا پیارا ، ہے آنکھوں کا تارا

وطن پیارا پیارا ، ہے آنکھوں کا تارا،وطن کے لیے ہم ، وطن ہے ہمارا