اختر الایمان، مختصر نظم کا شاعر
اخترالایمان کی شاعری بالخصوص نظمیں ماضی کے تجربات اورمحسوسات کی یادیں ہیں۔ یہ یادیں تلخ اور حسین دونوں طرح کے جذبات اوراحساسات سے مزین ہیں، لیکن ان میں اکثریت تلخ تجربات اوراحساسات سے بھرپور یادوں کی ہے۔
ان کی نظموں میں پائے جانی والی ایسی ہی یادوں کی وجہ سے بعض ناقدین نے ان کی شاعری کواس عہد کے المیہ کرداروں کی آواز قرار دیا ہے۔ اخترالایمان کی اپنی زندگی بھی بہت سے تلخ تجربات کاحاصل تھی۔ان کی آپ بیتی میں ان تمام تلخ تجربات کاذکرآیاہے۔ان تجربات میں ان کی یتیمی کی زندگی کے تجربات بھی شامل ہیں۔ اخترالایمان کی نظمیں ان کی اپنی زندگی اور عام انسان کی زندگی کی دردبھری تصویریں ہیں۔انھیں اپنی زندگی کا المیہ کردار ہونے کے ساتھ ساتھ عام انسان کا المیہ کردارہونے کامقام بھی حاصل ہے۔ نظم ’’خود فریبی‘‘میں زندگی کے تجربات کاگہرارچائو ملتا ہے۔اس نظم کے اشعاردیکھیے:
خودفریبی
رفتگاں بچھڑے نہیں، وقفہ ہے اک تھوڑاسا؍وصل اورہجر کے مابین ،ابھی ثانیہ بعد؍جس کو گر سوچیے بن جاتاہے صدیوں کافراق؍اُن سے مل جائیں گے ہم جن کی ملاقات ہے سعد؍حشر کچھ دور نہیں،وقت ہے کوندے کی لپک؍اوریہ دوری،یہ اک کرب سا بے حدوحساب؍دائمی وصل میں،قربت میں،بدل جائے گا؍یوں بھی بہلاتے ہیں وارفتہ طبیعت جی کو؍ایساہوتاہے کہ غم یوں بھی غلط کرتے ہیں
اخترالایمان نے ایسے ہی انسانی جذبات کواپنی نظموں کاخاص موضوع بنایاہے جس کی وجہ سے ان کی نظموں پر افسردگی، غم اوردکھ کی گہری فضا چھائی ہوئی ہے اور اس فضا کوان کے بعض ناقدین نے ان کی گہری افسردگی اور قنوطیت سے تعبیرکیاہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر شکیل الرحمن لکھتے ہیں کہ اردوکے بعض نقادجسے اخترالایمان کی گہری افسردگی، گریزاورقنوطیت سے تعبیر کررہے تھے وہ ان کی رومانیت ہی توتھی۔اخلاقی اور معاشرتی قدروں کے ٹکرائو اورتصادم اوراورسیاسی عقیدوں اور اصولوں کی کشمکش میں سچائی کی تلاش وجستجو کے لیے فن کارخارجی حقیقتوں سے بہت سے تاثرات لے کر گریز کرتاہے، ماضی کی یادیں سہارا دیتی ہیں۔اخترالایمان کی شاعری اس رومانی گریز کی عمدہ مثال ہے۔ان کی شاعری میں جذباتی،سماجی،اخلاقی اورسیاسی سطح پر ہونے والے تصادم کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے۔ نظم’’عذاب‘‘کے اشعاردیکھیے:
عذاب
یہ جسم میرانہیں ہے،تمام عمر مجھے؍یہی خلش رہی،اورجسم ہے اگرمیرا؍توروح میری نہیں،قید کردیاہے اسے؍کسی اک ایسے بدن میں جوہے قفس اس کا؍یہ سال اورمہینے، یہ دن گئے لمحات؍اک ایسے کرب میں گزرے جوبے ثمرنکلا؍مگر یہ میرامقدرہے اپنے آپ کومیں؍عذاب جاں سہی، اس سے چھڑانہیں سکتا
اخترالایمان کی اس نظم میں داخلی کرب اورجذباتی تصادم کاملاجلااحساس ملتا ہے۔انہوں نے ایک ایسے انسان کے کرب اورجذباتی کشمکش کا نقشہ کھینچاہے جو اپنے جسم کو روح کی قید سے آزاد دیکھناچاہتاہے مگر وہ اپنی مرضی سے ایسا نہیں کرپاتاکیو نکہ معاشرتی اوراخلاقی رکاوٹیں اس کی راہ میں حائل ہیں۔وہ دنیاوی مصائب سے تنگ آکر زندگی سے نجات حاصل کرناچاہتاہے اور غموں اوردکھوں سے بھرپوراس زندگی کو ’عذاب جاں‘ سے تعبیرکرتاہے مگراس سب کے باوجودجسم کوروح کی قید سے آزادی دلانااس کے بس کی بات نہیں ہے۔اخترالایمان نے اپنی نظموں میں جہاں اپنے اور دیس میں بسنے والے دوسرے انسانوں کے کرب اوردکھ کااظہارکیا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments