خوبصورت ناخنوں کی دیکھ بھال کیسے کریں؟

تحریر : سائرہ خان


خوبصورت اور صاف ستھرے ناخن شخصیت کی خوبصورتی اور صفائی کا اہم حصہ ہیں۔ ناخن صرف ہاتھوں کی دلکشی میں اضافہ نہیں کرتے بلکہ ہماری مجموعی صحت اور ذاتی صفائی کے بارے میں بھی بہت کچھ بتاتے ہیں۔

 اکثر لوگ چہرے، بالوں اور جلد کی دیکھ بھال پر توجہ دیتے ہیں لیکن ناخنوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ناخن کمزور، بے رونق، خشک یا ٹوٹنے لگتے ہیں۔ چند آسان عادات کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنا کر ناخنوں کو مضبوط، صاف اور خوبصورت رکھا جا سکتا ہے۔

ناخنوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں

خوبصورت ناخنوں کے لیے سب سے ضروری چیز ان کی صفائی ہے۔ ناخنوں کے نیچے مٹی اور جراثیم جمع ہو سکتے ہیں اس لیے ہاتھ دھوتے وقت ناخنوں کو بھی اچھی طرح صاف کرنا چاہیے۔ ناخنوں کو بہت زیادہ لمبا رکھنے کے بجائے مناسب لمبائی میں رکھنا زیادہ بہتر ہے کیونکہ لمبے ناخنوں کے نیچے گندگی جمع ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ناخن کاٹنے کے لیے صاف اور اچھی کوالٹی کا نیل کٹر استعمال کریں۔ ناخن کاٹتے وقت انہیں بہت زیادہ اندر تک نہ کاٹیں کیونکہ اس سے جلد کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ناخنوں کے کناروں کو نیل فائل سے ہموار کریں تاکہ وہ کپڑوں میں نہ پھنسیں اور آسانی سے ٹوٹیں نہیں۔ناخنوں کو دانتوں سے کاٹنے یا چھیلنے کی عادت بھی ترک کرنی چاہیے۔ اس عادت سے ناخنوں کے ساتھ ساتھ انگلیوں کی جلد کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی طرح کٹیکلز کو بار بار کاٹنے سے بھی گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ ناخن کے اردگرد موجود حفاظتی تہہ کا کام کرتے ہیں۔

ناخنوں کو نمی اور غذائیت فراہم کریں

جس طرح ہماری جلد کو نمی کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح ناخن اور ان کے اردگرد کی جلد بھی نمی چاہتی ہے۔ بار بار صابن، ڈٹرجنٹ یا پانی کے استعمال سے ہاتھ اور ناخن خشک ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ہاتھ دھونے کے بعد اچھی ہینڈ کریم یا موئسچرائزر استعمال کرنا مفید ہے۔ ناخنوں کے اردگرد کی جلد پر بھی ہلکی مقدار میں کریم لگائیں۔رات کو سونے سے پہلے ناخنوں اور کٹیکلز پر موئسچرائزر یا مناسب نیل آئل لگانے سے خشکی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اگر ناخن مسلسل ٹوٹ رہے ہوں تو روزمرہ خوراک پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ متوازن غذا میں انڈے، مچھلی، دالیں، گوشت، سبزیاں، پھل، خشک میوہ جات اور دیگر غذائیت سے بھرپور غذائیں شامل کریں۔پانی مناسب مقدار میں پینا بھی مجموعی صحت کے لیے اہم ہے۔اگر ناخن اچانک بہت زیادہ کمزور، بے رنگ یا غیر معمولی شکل اختیار کر لیں تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔

نیل پالش اور بیوٹی ٹریٹمنٹ میں احتیاط

نیل پالش ناخنوں کو خوبصورت بنانے کا ایک آسان طریقہ ہے لیکن اس کا ضرورت سے زیادہ استعمال ناخنوں کو خشک یا کمزور کر سکتا ہے۔ نیل پالش لگانے سے پہلے ناخن صاف اور خشک ہونے چاہئیں۔ پالش اتارتے وقت بہت سختی سے ناخن نہ رگڑیں اور مناسب ریموور استعمال کریں۔اگر آپ باقاعدگی سے مینیکیور کرواتی ہیں تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ استعمال ہونے والے آلات صاف اور جراثیم سے پاک ہوں۔ گندے آلات سے فنگل یا بیکٹیریل انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ مصنوعی ناخن یا جیل نیلز بھی احتیاط سے استعمال کیے جائیں کیونکہ انہیں بار بار لگوانے اور اتارنے سے قدرتی ناخن کی سطح متاثر ہو سکتی ہے۔گھر کے کام، خاص طور پر برتن دھونے یا صفائی کے دوران دستانے پہننا بھی ناخنوں کے لیے مفید ہے۔ اس سے ناخن پانی اور کیمیکل والے صفائی کے محلول کے براہِ راست رابطے سے محفوظ رہتے ہیں۔

چند آسان عادات جو ناخنوں کو خوبصورت رکھیں

خوبصورت ناخنوں کیلئے مہنگی مصنوعات ضروری نہیں بلکہ مستقل مزاجی زیادہ اہم ہے۔ ناخنوں کو مناسب لمبائی میں رکھیں، انہیں صاف رکھیں اور روزانہ ہاتھوں اور کٹیکلز کو نمی فراہم کریں۔ ناخنوں کو بطور اوزار استعمال نہ کریں مثلاً بوتل کھولنے، چیزیں کھرچنے یا ڈبے کھولنے کے لیے ناخنوں پر زور نہ ڈالیں۔اس کے علاوہ ناخنوں کو مسلسل گیلا رکھنے سے بھی بچیں اور صفائی کے کاموں میں دستانے استعمال کریں۔ اگر ناخنوں کے گرد سرخی، سوجن، درد، پیپ، مسلسل ٹوٹنے یا رنگ میں غیر معمولی تبدیلی نظر آئے تو اسے صرف خوبصورتی کا مسئلہ نہ سمجھیں بلکہ ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ خوبصورت ناخن دراصل صحت مند ناخن ہوتے ہیں۔ صفائی، مناسب نمی، متوازن غذا، احتیاط اور اچھی روزمرہ عادات اپنا کر ناخنوں کو قدرتی طور پر مضبوط اور خوبصورت رکھا جا سکتا ہے۔ مہنگے علاج سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ بنیادی ضروریات کو سمجھا جائے اور باقاعدگی سے ناخنوں پر توجہ دی جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

رئیس امروہوی قلمروئے سخن کے اہم فرمانروا

آج 38ویں برسی حسنِ فکر و تصور اور شعورِ ادب و ادراک کے ساتھ ان کا ابلاغ و اظہار بھی بہت حسین تھا رئیسؔ کی موت کسی کلاسیکی یونانی ڈرامے کا آخری سین معلوم ہوتی ہے‘ اس سین میں ڈرامے کا ہیرو علم وادب کے ساتھ اپنی بے پایاں محبت کا اظہار کرتے ہوئے جان دے دیتا ہےرئیس امروہوی سیاسی قطعہ نگاری کے با وا آدم تھے ‘ ایک بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اردو ادب کی تاریخ میں کوئی شاعر بھی اس میدان میں اُن کا حریف نہیں ہے

فیض احمد فیض کی انفرادیت

فیض احمد فیض کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں عالمی سطح پر حریتِ فکر کو موضوع بنایا۔ فلسطین ہو یا لبنان، یا افریقہ میں جبریت اور سامراجی نظام کا پھیلا ہوازہر، وہ اس کے خلاف فکری ہی نہیں عملی طور پر بھی پیش پیش نظر آتے رہے۔

کھیلوں کاایشیائی میلہ جاپان مین سج گیا

20ویں ایشین گیمز 2026ء: گرین شرٹش مختلف کھیلوں میں مجموعی طور پر4سے 6 تمغے جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہیں: افتتاحی تقریب میں سکواش کے کھلاڑی نور زمان اور پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا نے پرچم تھامے قومی دستے کی قیادت کی: پاکستان کے 7 بہترین شوٹرز این او سی جبکہ پاکستان بیس بال ٹیم سپانسر نہ ملنے کے باعث ایشین گیمز کا حصہ بننے سے محروم رہ گئے

پاکستان کرکٹ کا نیا بحران:محمدرضوان اور امام الحق تنازع

حساس معلومات اور ویڈیوز کے مبینہ لیک ہونے کا معاملہ این سی سی آئی اے اوراعلیٰ عدلیہ تک پہنچ :حتمی فیصلہ فارنزک رپورٹ آنے کے بعد ہوگا، واقعے نے قومی کرکٹ کے اندرونی ڈسپلن اور انتظامی ڈھانچے پر سوالات کھڑے کر دئیے ہیں:ہائیکورٹ سے درخواست خارج ہونے اوررضوان کوایجنسی کے سامنے پیش ہو نے کے حکم کے بعد کھلاڑیوں پر دبائو بڑھ گیا

دانی کی نصیحت

جمعہ کا مبارک دن تھا۔ احمد اپنے بڑے بھائی دانی کے ساتھ جمعہ پڑھنے جا رہا تھا۔ احمد نہا دھو کر صاف ستھرے سفید رنگ کے کپڑے پہنے دانی بھائی کے ساتھ مسجد جارہا تھا کہ راستے میں احمد کا دوست مقیط اسے مل گیا، جو اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا شربت پی رہا تھا ۔

گنیز بک 2027ء میں شامل دنیا کے ہونہار بچے!

میکس الیگزینڈر:کم عمری میں فیشن ورلڈفتح کرنیوالا