فیض کی سیاسی شاعر
فیض بنیادی طوررپر رومان پسند ہیں لیکن ان کی رومانیت صرف عشقیہ موضوعات تک محدود نہیں ہے، اس کے جوہر مختلف سمتوں میں آشکار ہوئے ہیں۔
ایسی ایک سمت انقلابی یا سیاسی نوعیت کی ہے یہ سمت بڑی پہلودارہے۔ فیض کی ابتدائی شاعری بے نام منزلوں کی طرف رواں تھی لیکن جلد ہی انہوں نے اپنے راستے اور منزل کا تعین کرلیا۔ دراصل فیض کے نزدیک ’’راستے اور منزل کے تعین کے بغیر شاعروں کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ شاعری، ادیب اور دانشور کو بنیادی طورپر آگاہ ہونا چاہیے کہ سچ کیاہے، جھوٹ کیاہے۔ تصنع کیاہے، حقیقت کیاہے۔‘‘ فیض ان حقائق سے آگاہ تھے انہوں نے نہایت دانش مندی کے ساتھ اپنی شاعری کے راستے اور منزل کا تعین کرلیاتھا۔ راستے اور منزل کا تعین بڑی حدتک ترقی پسند تحریک کی مرہونِ منت ہے۔ اس تحریک نے فیض کو ترقی پسند بھی بنا دیا اور ایک بڑا شاعر بھی بنادیا۔ ایک ترقی پسند شاعر اور ادیب کا مقصد اور منصب اس کے سوا کچھ اور نہیں کہ وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں ایک خاص وقت یا زمانے میں جو مختلف اور مخالف رجحانات نمایاں ہوں۔ انہیں معلوم کرے اور اپنی پوری مادی اور رومانی قوت کو اپنے طبقوں ، گروہوں اور نظریوں اور اخلاق کے ابھارنے اور پھیلانے میں صرف کرے۔ میں نے ان مخالف اور متضاد رجحانات کو پہچانا اور پھر اپنا نقطہ نظر پیدا کیا۔ یہ نقطہ نظر خالصتاً ترقی پسند تھا۔
اب ان کی نگاہوں نے صرف عکس رُخِ یار دیکھنے کے بجائے اندھیروں کی فصیلوں کے ادھر بھی دیکھنا شروع کردیا تھا جہاں سسکتی ہوئی اور دم تورٹی ہوئی انسانیت نوحہ کناں تھی، جہاں بازاروں میں انسانوں کا گوشت بکتا تھا، جہاں انسانی خون سے ہولی کھیلی جاتی تھی۔ اس ظلم و بربریت اور لوٹ کھسوٹ پر فیض کی آنکھوں سے خون کے آنسو ٹپکے۔ انہوں نے اس نظامِ جبر اور فرسودہ طریقہ زندگی کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا اب ان کی شاعری کا مقصد قوم میں انسانیت اورآزادی کا جذبہ پیدا کرنا تھا۔ فیض جو ایک حساس اور روشن دماغ کے مالک تھے بھلا کب تک اپنے عہد، اس کی ضرورتوں اور اس کے مسائل سے بیگانہ رہتے۔ فیض اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ شاعر بھی ہم سب کی طرح معاشرے کا ایک فرد ہوتاہے اور اس کی شاعری انہیں حالات کی پیداوار ہوتی ہے جن کے ماتحت وہ زندگی کے دن پورے کرتاہے۔
جب یہ حالات بدلتے ہیں تو شاعری کا رُخ بھی تبدیل ہوجاتاہے۔ سماج کے دل و دماغ میں نئے نئے خیالات و جذبات پیدا ہونے لگتے ہیں اور انہیں بیان کرنے کے لیے شاعری نئے طریقے اور نئی صورتیں اختیار کرلیتی ہے۔ رومان سے حقیقت کی طرح بڑھنے کی یہ کش مکش فیض کی بیشتر سیاسی اور انقلابی نظموں میں پائی جاتی ہے۔ مثال کے لیے فیض کی ایک مشہور نظم ’’موضوع سخن‘‘ ہی کو لیجیے جس کی ابتدا کچھ یوں ہوتی ہے:
گل بوئی جاتی ہے افسردہ سلگتی ہوئی شام
دُھل کے نکلے گی ابھی چشمۂ مہتاب سے رات
اور مشتاق نگاہوں سے سُنی جائے گی
اور ان ہاتھوں سے مس ہونگے یہ ترسے ہوئے ہاتھ
ان کاآنچل ہے کہ رخسار کہ پیراہن سے
کچھ تو ہے جس سے ہوئی جاتی ہے چلمن رنگیں
جانے اس زلف کی موہوم گھنی چھاؤں میں
ٹمٹماتا ہے وہ آویزہ ابھی تک کہ نہیں
آج پھر حسن دلآرا کی وہی دھج ہوگی
وہی خوابیدہ سی آنکھیں ، وہی کاجل کی لکیر
رنگ رخسار پہ ہلکا سا وہ غازے کا غبار
صندلی ہاتھ پہ دھندلی سی حنا کی تحریر
اپنے افکار کی، اشعار کی دنیا ہے یہی
جانِ مضمون ہے یہی، شاہدِ معنی ہے یہی
لیکن تخیل کی دنیا میں مسلسل کھوئے رہنے کی یہ کیفیت اور خیالات کا یہ تسلسل زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ پاتا۔ خواب کا یہ سلسلہ اچانک ٹوٹ جاتاہے اور پھر شاعر رومان سے حقیقت کی دنیا میں قدم رکھتاہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments