6ستمبر 1965 لہو سے لکھی گئی داستانِ دفاعِ وطن
اے راہ حق کے شہیدو، وفا کی تصویرو، تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں
قوموں کی تاریخ میں کچھ دن محض کیلنڈر کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنے اندر عزم، قربانی، شجاعت اور غیرت کی پوری داستان سموئے ہوتے ہیں۔ 6 ستمبر بھی پاکستان کی تاریخ کا ایسا ہی ناقابلِ فراموش دن ہے جب وطن کے بہادر سپوتوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ثابت کردیا کہ پاکستان کی سرحدوں کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کا مقابلہ پوری قوت اور عزم کے ساتھ کیا جائے گا۔ 1965ء کی جنگ میں افواجِ پاکستان کے جوانوں نے دشمن کے بڑے حملے کے سامنے جس بے مثال جرات، بہادری اور جذبہ ایثار کا مظاہرہ کیا، وہ آج بھی قومی تاریخ کا روشن باب ہے۔ شہداء کا بہتا ہوا لہو وطن کی آزادی، خودمختاری اور سلامتی کی حفاظت کی گواہی بن گیا اور ان کی قربانیوں نے آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیا کہ وطن کی حرمت کی حفاظت کیلئے جان قربان کرنا ہی حقیقی حب الوطنی ہے۔ یومِ دفاع دراصل انہی عظیم شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قوم کو اپنے اتحاد، عزم اور ذمہ داری کا احساس دلانے کا دن بھی ہے۔
آج سے 61 برس قبل بھارتی فوج نے پاکستان پراچانک حملہ کر دیا تھا۔ ان کے نزدیک انہوں نے پاکستان کو ’’سرپرائز‘‘ دینے کی کوشش کی تھی۔ ان کے حملے کا مرکز لاہور اور سیالکوٹ تھا۔ وہ اپنی فتح کے جش کا خواب بھی سجا چکے تھے۔ مگر انہیں اس وقت خود ’’سرپرائز‘‘ کا سامنا کرنا پڑا جب افواج پاکستان کے جوابی حملے کی برق رفتاری اور نڈرپن نے اس کے عزائم کو تہہ خاک کر دیا۔ بھارتی پلان صرف جارحیت پر مبنی تھا۔ انہوں نے اپنی شکست کا شائبہ تک نہ کیا تھا۔ وہ طاقت کے نشے میں پاکستان کی آزادی، بقاء اور سالمیت چھین لینا چاہتے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے مقابلے میں بھارتی فوج کی تعداد کئی گنا زیادہ تھی۔ حملہ کے آغاز کے وقت اس نے اپنا من پسند علاقے کا انتخاب بھی کیا تھا، تاہم 17روزہ جنگ میں افواج پاکستان کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتیں اور جرات و بہادری کے اوصاف اس پر حاوی آگئے اور مشکل کی ان گھڑیوں کو انہوں نے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مقدم اور باوقار بنا دیا جس پر پوری قوم آج بھی فخر کرتی ہے۔
بھارت کو اس قدر ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا کہ اس نے جنگ بندی کیلئے اقوام متحدہ سے جنگ بندی کی اپیل کی۔ بھارتی فوج کو اپنی عددی برتری پر بہت زیادہ گھمنڈ تھا۔ 21انفنٹری اور مائونٹین ڈویژنز، ایک آرمر ڈویژن، ایک انڈپینڈنٹ آرمرڈ بریگیڈ گروپ (مساوی آرمرڈ ڈویژن)۔ کل تعداد 23ڈویژنز۔ اس کے مقابلے میں پاک فوج کے 7ڈویژن تاہم جرأت و بہادری اور جذبوں، ولولوں نے اس تین گنا برتری کو نیست و نابود کردیا۔
طاقت کے نشے میں جب بھارتی منصوبہ سازوں نے پاکستان پر حملے کا پروگرام بنایا تو وہ پر امید تھے۔ انہوں نے لاہورجو اس وقت ڈھائی ملین آبادی پر مشتمل تھا۔ بھارتی سرحد سے صرف 14میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ سیالکوٹ کا فاصلہ 6میل اور قصور کا فاصلہ صرف 3میل ہے۔ اس طرح بھارتی فوج کو یقین تھا کہ وہ برق رفتاری اور سرپرائز کے عناصر کے ذریعے بغیر کسی مزاحمت کے اپنے اپنے اہداف تک پہنچ جائیں گی اور افواج پاکستان کیلئے صرف جوابی حملے کی حسرت ہی بچے گی۔ پاکستان کے ان تین اہم علاقوں پر قبضے کے بعد پاکستان گھٹنے ٹیک دے گا۔ اس کے بعد ہر طرف بھارتی ٹینکوں کی یلغار ہو گی،تاہم ان کے اس منصوبے کا جو حشر ہوا، آج تک وہ بھارت کیلئے کلنک کا ٹیکہ بنا ہوا ہے۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ بہت سے ایڈوانٹجز ہونے کے باوجود بھارتی فوج کوئی بھی کامیابی حاصل نہ کر سکی۔ اپنی پسند کے میدان جنگ سے لے کروقت کے تعین تک اور عددی لحاظ سے برتری حاصل ہونے کے باوجود بھارتی فوج ناکام و نامراد ہوئی۔ پوری دنیا نے دیکھا کہ سیالکوٹ، جہاں بھارت نے 15بڑے حملے کئے مگر وہاں پاک فوج کی تیاری ان کی راہ کی راہ میں رکاوٹ بن گئی۔ بھارتی ٹینکوں کی بہتات کچرہ بن کر رہ گئی۔
لاہور پر بھارتی فوج نے کل 13حملے کئے، مگر ان تمام حملوں کو نہ صرف پوری قوت سے پسپا کردیا گیابلکہ کئی علاقوں میں پیش قدمی کرتے ہوئے دشمن کے بہت سے علاقوں کو قبضے میں لے لیا۔ بی آر بی، اس دوران صرف نہر نہیں رہی بلکہ دفاع پاکستان کا ایک عظیم استعارہ بن گئی۔ لاہور میں افواج پاکستان اور قوم نے جس جرات مندی اور بہادری کا مظاہرہ کیا تھا، اس پر پاکستان کے دشمنوں کو واضح پیغام ملا جو آج بھی ان کے اوسان خطا کر دیتا ہے۔
جنگ ستمبر میں ہم نے مجموعی پر دیکھا کہ پاکستان کی بری، بحری اور فضائی افواج نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تفسیر بنی رہیں۔ انہوں نے بھارت کی عددی برتری کوخاطر میں نہ لایا اور اپنے جذبے اور ولولے سے اس پر حاوی ہوگئے۔ پوری قوم بھی جذبہ ایمانی، آزادی کے تحفظ اور بقاء کیلئے اُٹھ کھڑی ہوئی۔ ان کی حمایت اور مدد سے ہماری بہادر مسلح افواج نے دشمن کو اپنی جرأت و بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت سے پیچھے دھکیل دیا۔اس طرح ہم نے اتحاد ویکجہتی، تمام تفرقوں اور تقسیموں سے بالا تر ہوکر جارحیت کو ناکام بنا کر ثابت کردیا کہ آزادی اور بقاء کی جنگ لڑنے والوں کو شکست نہیں دی جاسکتی۔
پاکستانی قوم نے سترہ دنوں میں ثابت کردیا کہ وہ اپنی سلامتی اور سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتی ہے۔ افواج پاکستان کے جرأت مند افسر اور جوان مشکل کی ان گھڑیوں میں جوش و خروش اور ولولوں سے بھرپور اور وطن کی محبت سے سرشار نظر آئے۔ انہوں نے اپنے زور بازو سے وطن کی حفاظت کی ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھایا۔ میجر عزیز بھٹی شہید نشان حیدر، سوار محمد حسین شہید نشان حیدر سمیت بہت سے افسروں اور جوانوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کرکے اپنا فرض ادا کردیا۔
٭…٭…٭
پاک فضائیہ کی جرأت و بہادری کی داستان شاہینوں نے دشمن کا غرور وتکبر تہہ و بالا کر کے رکھ دیا
سترہ دنوں میں شاہین گرجتے ، جھپٹتے اور دشمن پر ہیبت طاری کرتے رہے۔ انہوں نے نہ صرف بھارتی فوج کی پیش قدمی کو تہس نہس کردیا بلکہ فضائوں میں اپنی حکمرانی قائم کرلی۔سیالکوٹ، سرگودھا، لاہور اور دیگر شہروں میں انہوں نے کامیابی سے بھارتی فضایہ کو ناکامی سے دوچار کیا۔سکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم نے صرف چند سیکنڈز میں بھارتی فضائیہ کو ناکوں چنے چبوا دیئے۔ انہوں نے7ستمبر کو سرگودھا کی فضائوں میں صرف چند لمحوں میں پانچ بھارتی ہنٹر طیاروں کو تباہ و برباد کردیا۔ اس کے بعد بھارتی فضائیہ پر ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ وہ فضائوں میں ہی آنے پر گھبرانے لگے۔ پاک فضائیہ نے نہ صرف کامیابی سے پاک فضائوں کا دفاع کیا بلکہ پٹھان کوٹ اور دیگر بھارتی فضائی اڈوں اور بیسوں پر حملے کرکے وہاں کھڑے طیاروں کو بھسم کردیا۔
فضا میں بہادر شاہینوں کا بھارت سے پہلا سامنا چھمپ کے مقام پر ہوا۔ سکوڈرن لیڈر سرفراز رفیقی کی قیادت میں پاک فضائیہ نے دشمن کو تہہ و بالا کر دیا۔ فضا میں جنگی مہارت اور بہادری کا یہ آغاز تھا۔ پاک فضائیہ نے دشمن کے فضائی اڈؤں جن میں جام نگر، ہلواڑہ، پٹھان کوٹ پر ٹھیک ٹھیک نشانے داغ کر بھارتی فضائیہ کو فضا میں اڑنے سے پہلے ہی ناکارہ کر دیا۔
دنیا کی فضائیہ تاریخ کا بہادر پائلٹ ایم ایم عالم جذبہ حب الوطنی اور شہادت کی آرزو لیے بے چینی سے اس انتظار میں تھا کہ آخر وہ وہ کونسا لمحہ ہو گا جب وہ دشمن کو نیست و نابوط کرے گا۔ بالآخر وہ وقت آ گیا جب ایم ایم عالم نے سیبر جیسے طیارے کے ساتھ بھارت کے پانچ ہنٹر طیاروں کو فضا میں ہی خاکسترکر دیا۔ فضائیہ کی تاریخ میں اس کوفضائی مؤجزے سے تشبیح دی جاتی ہے ۔ 17دنوں کی اس عصاب شکن جنگ میں ایم ایم عالم نے دشمن کے 9 طیاروں کا تباہ کیا اور4کو بری طرح نقصان پہنچایا۔ ان کے اس فقید المثال کارناموں پر حکومت پاکستان نے انہیں دو بار ستارۂ جرت سے نوازا۔
زمین کی گہرائیاں ہوں یا آسمان کی بلندیاں پاک فضائیہ کی عقابی نگاہوں سے کوئی شہ چھپی ہوئی نہ تھی۔پاک فضائیہ نے دشمن پر ہر فضائی محاذ پر برتری قائم رکھتے ہوئے، دشمن کے 35جہازوں کو فضا میں، 45 کو زمین میں اور 32کو طیارہ شکن توپوں کی مدد سے تباہ و برباد کر دیا،جبکہ مجموعی طور پر پاک فضائیہ نے دشمن کے 110طیارے تباہ کیے اور 19طیاروں کو بری طرح نقصان پہنچایا۔اس جنگ میں پاک فضائیہ کے صرف 19طیارے تباہ ہوئے۔
میجر عزیز بھٹی:نشانِ حیدر پانے والے شہید
میجر عزیز بھٹی اپنے جاں جانثاروں کے ساتھ بی آر بی نہر کے پاس ڈٹے تھے، جس پر بھارتی افواج قبضہ کرنا چاہتی تھی۔7ستمبر کو بھارت نے پوری طاقت کے ساتھ اس پر حملہ کیا اور میجر عزیز بھٹی اور میجر شفقت بلوچ نے صرف 110سپاہیوں کی مدد سے بھارت کی پوری بریگیڈ کو 10 گھنٹوں تک روک کر رکھا اور دن رات مورچے پر ڈٹے رہے۔ یہ اعصاب شکن معرکہ جب 12ستمبر کو پانچویں روز میں داخل ہوا تو اس وقت تک میجر عزیز بھٹی بھارت کے چھ حملے روک چکے تھے۔ آگے جانے والے پاکستانی سپاہی اور ٹینک ایک مقام پر پھنس گئے تھے جنہیں واپس لانا ضروری تھا۔ اس پر انہوں نے اپنی فوج کو منظم کرکے کئی اطراف سے حملہ کیا اور پاکستانی فوجی گاڑیوں اور سپاہیوں کو واپس لانے میں کامیاب ہو گئے لیکن اندھا دھند گولہ باری اور فائرنگ کے دوران ایک شیل نے ان کے کندھے کو شدید زخمی کردیا اور وہ صرف 37سال کی عمر میں جامِ شہادت نوش کر گئے۔
یونس حسن خان شہید
1965ء کے ایک اور ہیرو یونس خان شہید کا نام سنہرے حروف سے زندہ رہے گا۔ انہوں نے پٹھان کوٹ بھارت کے فضائی اڈے پر حملہ کیا اور اپنی مہارت سے بھارتی فضائیہ کے 15طیارے تباہ کردیئے جن میں کینبرا اور دوسرے طیارے شامل تھے۔ بعض ذرائع کے مطابق وہ جب بھارتی حدود میں داخل ہوئے تو ان کے طیارے پر بھارتی طیاروں کی جانب سے فائرنگ ہوئی اور طیارے کو نقصان پہنچا لیکن کچھ حوالہ جات کہتے ہیں کہ انہوں نے بھارتی علاقے پٹھان کوٹ کے پاس فضائی اڈے پر موجود پاکستانی حملے کیلئے کھڑے طیاروں سے اپنا طیارہ ٹکرا دیا جس میں بھارت کے 15طیارے جل کر راکھ ہو گئے اور دشمن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔
سیالکوٹ محاذ:بھارتی ٹینکوں کا قبرستان
ابھی حملے کو چوبیس گھنٹے بھی نہ ہوئے تھے کہ دشمن نے سیالکوٹ محاذ پر 500ٹینکوں اور 50 ہزار فوج کی مدد سے حملہ کر دیا۔ مگر اسے کیا معلوم تھا پاک فوج وطن کی مٹی سے محبت کے جذبے سے سرشار سر پر شہادت کا کفن سجائے اس کے ناپاک منصوبوں کو خاک میں ملا دے گی۔ اس محاذ پر بھی پاک فوج کے بہادر جوانوں نے دشمن کو بھاری مالی اور جانی نقصان پہنچایا۔ دشمن رات کے اندھیرے میں بغیر اپنے جنگی سازو سامان کے بھاگنے پر مجبور ہو گیا۔میدان میں جذبوں نے فولاد کو پگھلا دیا، حق کی فتح ہوئی اور باطل ہار گیا۔ چونڈہ کا محاذ اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ جنگِ دوم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی چونڈہ کے مقام پر لڑی گئی۔
دشمن یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ وہ ٹینکوں کی بھاری تعدادکے زعم پر پاک سرزمین میں داخل ہو پائے گا، مگر اسے کیا معلوم تھا کہ اس دھرتی کے بہادر سپوت چونڈہ کو دشمن کے ٹینکوں کے کا قبرستان بنا دیں گے۔ اتنے بڑے عسکری مالی نقصان کے بعد دشمن کے اوسان خطا ہو گئے۔ 45ٹینکوں کا ملبہ دشمن کی بزدلی پر مہر ثبت کر رہا تھا۔یوں دشمن اس محاذ پر بھی بری طرح شکست کھانے کے بعد بھاگ گیا۔ چونڈہ کا معرکہ دنیا کی سب سے بڑی ٹینکوں کی جنگوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments