آپریشن دوارکا

تحریر : ایڈمرل تاج ایم خٹک


پاک بحریہ کی جرات کی یادگار داستان

1965ء کی جنگ کے دوران پاکستان نیوی اپنی طرزکی ایک نئی تاریخ رقم کرنے جا رہی تھی۔ پاکستان نیوی کے بحری جنگی بیڑے میں شامل جہاز پی این ایس بابر، خیبر، بدر، ٹیپو سلطان، جہانگیر، شاہجہان اور عالمگیر احکامات موصول ہوتے ہی بندر گاہ سے علی الصبح متعین جنگی سٹیشن  کی طرف روانہ ہو چکے تھے۔ اس جنگی بیڑے کی اجتماعی کمانڈ کموڈور ایس ایم انور کر رہے تھے۔ پی این ایس ’’بابر‘‘ کی کمانڈ کیپٹن ایم اے کے لودھی، ’’خیبر‘‘ کی کمانڈ کیپٹن اے حنیف، ’’بدر‘‘ کی کمانڈ کمانڈر آئی ایچ ملک، ’’ٹیپو سلطان‘‘ کی کمانڈ کمانڈر عامراسلم، ’’جہانگیر‘‘ کی کمانڈ کمانڈر کے ایم حسین، ’’شاہجہان‘‘ کی کمانڈ کمانڈر ظفر شمسی اور پی این ایس ’’عالمگیر‘‘ کی کمانڈ کمانڈر آئی ایف قادرکر رہے تھے۔

پاکستان نیوی کا صرف ایک جہاز ’’تغرل‘‘ بندرگاہ میں موجود تھا جس کی میجرری فٹ کی جا رہی تھی ۔پاک بحریہ کے جہازوں کا آپریشنل لحاظ سے بالکل فٹ ہونے کا سہرا پاک بحریہ کی ٹیکینکل سروسس برانچ کے آفیسرز و سیلرزکو جاتا ہے جن کی محنت اور لگن سے ایک تاریخی کارنامہ انجام دیا گیا۔ آپریشنز برانچ سے کسی آفیسرکی بات کی جائے تو کموڈور سلیمی قابلِ ذکرہیں جو رن آف کچھ کی جھڑپ کے دوران پاک بحریہ کے بیڑے کی کمانڈ کر چکے تھے۔ آپ نے دن رات کی محنت سے جہازوں کو آپریشنل تیاریوں کے عروج پر پہنچایا جس کی وجہ سے جہازوں نے انتہائی مہارت اور خفیہ انداز سے اپنے مشن کو مکمل کیا۔ تین دن قبل تین اور چار ستمبر کی رات پاکستان نیوی کی واحد آبدوز غازی جس کی کمانڈ کمانڈر کے آر نیازی کر رہے تھے کراچی سے روانہ ہو چکی تھی۔ غازی کو حکم ملا تھا کی وہ بمبئی سے 50میل کے فاصلے پر اپنی گشت جاری رکھے۔ پاکستان نیوی پہلی فورس تھی جس نے 1965ء میں بحر ہند میں آبدوز اتاری تھی جس نے غیر متوقع طور پر میدان جنگ کی ترتیب کو بدل کر رکھ دیا۔ بحر ہند میں آبدوز غازی کی تعیناتی پاکستان کی نیول لیڈر شپ کا ایک دانشمندانہ فیصلہ تھا جس سے بہت سے مثبت جنگی اثرات مرتب ہوئے اور پوری جنگ کے دورن بھارتی بحریہ اپنی ہی بندرگاہوں تک مقید رہی۔

اگست1965ء میں ہی جنگ کے بادل چھانے شروع ہو گئے تھے۔ انٹیلی جنس معلومات کے مطابق بھارتی بحریہ کا بڑا کروز آئی این ایس میسور، جنگی جہاز بیز(Beas) اور برھما پترا کلکتہ میں موجود تھے۔ ان جہازوں کو جلد ہی احکامات جاری ہوئے کہ مغربی ساحل کی طرف جا کر دوسرے ڈسٹرائر اور فریگٹس جہازوں کے ساتھ ملیں۔ کوچن (Cochin) جاتے ہوئے ان جہازوں کا کھوج پاکستان نیوی نے لگا لیا تھا۔ 

7 ستمبرکو سمندر میں موجود پاکستان نیوی کے تمام جہازوں کو رات کے وقت دوارکا پر حملہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ جہازوں کو سورج غروب ہو نے کے ساتھی ہی ایک جگہ جمع ہونے کا حکم دیا گیا جہاں سے دوارکا کی طرف سفر کرنا تھا اور بمباری کے بعد واپس کراچی روانہ ہونا تھا۔ پاک بحریہ کے جہازوں کو دشمنوں کے جنگی جہازوں کی موجودگی اور فضائی حملوں سے بھی خبردار کر دیا گیا تھا۔

حملہ کیلئے دوارکا کا ہی انتخاب کیوں کیا گیا۔ 1965ء کی جنگی صورت حال کے دوران اس حملے کی وجوہات اور مقاصد درج ذیل تھے۔ (1) دشمن کے جہازوں کو بندرگاہ سے باہر نکالنا تاکہ وہ آبدوز غازی کی بنائی گئی رکاوٹوں کے حصار میں آ سکیں۔ (2)بھارتی ایئر فورس کو کراچی پر حملے کیلئے ہدایا ت دینے والے  راڈار  اسٹیشن کو تباہ کرنا۔ (3) بھارتی فضائی حملوں کی توجہ زمینی آپریشن سے ہٹا کر بھارتی سمندری دفاع کی جناب مبذول کروانا۔ (4) بھار ت کی توجہ زمینی جنگ سے سمندری جنگ کی طرف منتقل کروانا تاکہ وہ اپنی انفرادی قوت کو زمینی آپریشن کی بجائے سمندری دفاع کی طرف جھونک سکیں۔ (5)بھارتی سمندری حدود میں دور تک جا کر حملہ کر کے اس کے نفسیاتی فوائد حاصل کرنا۔

یہ فیصلہ بہت منطقی اور دانشمندانہ تھا، کیوں کہ جنگ شروع ہونے کے 36 گھنٹوں کے اندر اندر پاکستان نیوی نے بھارتی سمندری حدود کے اندر دور تک جا کر کارروائی میں پہل کر کے نہ صرف نفسیاتی فوائد حاصل کئے بلکہ دوارکا کے ریڈار اسٹیشن اور سگنل ریلیز کرنے والے سٹیشن کو تباہ کر کے کراچی پر مزید فضائی حملوں کو روک دیا۔ آپریشن دوارکا کی کامیابی کیلئے لازمی تھا کہ اپنے آپریشن کو خفیہ رکھا جائے۔  پاک بحریہ کے جہاز بہترین مناسب رفتار کے ساتھ جنوب مشرق کی جانب اپنے ہدف کی طرف بڑھے۔ ان دنوں گلوبل پوزیشننگ سسٹم کی سہولت موجود نہ تھی اور جنگی ریکارڈ گواہ ہیں کہ آسمان پر تیرتے ہوئے گھٹا گھپ بادل اس بات کو ناممکن بنا دیتے ہیں کہ شام کے وقت روشنی چھوڑنے والی گولہ باری کی جائے۔ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوبے ہوئے جہاز پر موجود پیغام رسانی کی لائٹس کی بندش، ریڈار کے ذریعے رابطے پر پابندی جیسے عوامل کی وجہ سے جہازوں کو مقرر کردہ جگہ پر پہنچنے میں انتہائی دشواری کا سامنا کرنا پڑا لیکن جہازوں کے عملے نے کمال پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فائرنگ والی متعین جگہ پر جہازوں کی موجودگی کو یقینی بنایا۔

بمباری کے احکامات جاری کرنے کیلئے ضروری تھا کہ تمام جہاز دوارکا سے چھ میل کی دوری پرہوں۔ کمیونیکیشن سرکٹ پر پابندی کی وجہ سے جہازوں کو بمباری کے احکامات  بصری اشاروں کے ذریعے دیئے گے۔  پاک بحریہ کے جہاز آدھی رات سے چند منٹ بعد فائرنگ پوزیشن پر پہنچ چکے تھے اور داغے جانے والوں گولوں کے مار کرنے کے فاصلے کی آخری یقین دہانی کے بعد آپریشن ’’سومنات‘‘ کا آغاز کیا گیاجس میں ہر ایک جہاز نے پچاس پچاس رائونڈ فائر کرنے تھے۔اس آپریشن کو مکمل کرنے میں صرف تین منٹ لگے۔ساحل کی طرف کچھ شعلے دکھائی دیئے جن کے بارے میں پہلے پہل گمان کیا گیا کہ ساحل پر موجود انڈین بیٹری یونٹ کی طرف سے آرہے ہیں لیکن بعد میں پتا چلا کہ پاکستان نیوی کے جہازوں سے فائر کئے گئے گولوں کی فائرنگ کے شعلے ہیں۔بھارتی بحریہ کے سرکاری بیان میں اس حملے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کو تسلیم کیا گیا۔رپوٹ میں بتایا گیا کہ 8 ستمبر کو آدھی رات کے قریب نیول ریڈار اسٹیشن پر کچھ گولے براہ راست گرے جس سے انفراسٹرکچر تقریباًتباہ ہو گیا ۔ اس حملے میں 50 اہلکار جا ن بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔

1965ء کی جنگ میں حصہ لینے والے اکثر آفیسر اور سیلرز ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں لیکن وہ پاکستان نیوی کے شاندار اور عظیم لمحوں کی یادیں اور نئی نسل کی پیروی کیلئے ایک بہتریں مثال چھوڑ گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی روحوں کو سکون عطا فرمائے اور ان کے درجات کو بلند فرمائے، (آمین)

٭٭٭

زندہ باد اے محافظان وطن

زندہ باد اے محافظانِ وطن

دم قدم سے تمہارے شانِ وطن

تم سے باقی ہے آبروے قوم

تم سے رنگیں ہے داستانِ وطن

ہے تمہارا خلوص نورِ حیات

ہے شجاعت تمہاری جان وطن

داد دیتا ہے اک جہان تمہیں

کیوں نہ اترائیں ساکنانِ وطن

ہر مجاہد ہے ذمہ دارِ وطن

ہرسپاہی ہے پاسبانِ وطن

ہوشیار اے وطن کے فرزندو

گھات میں پھر ہیں دشمنانِ وطن

پھر نئے عزم کی ضرورت ہے 

پھر ہے درپیش امتحانِ وطن

حفیظ تائب

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

6ستمبر 1965 لہو سے لکھی گئی داستانِ دفاعِ وطن

اے راہ حق کے شہیدو، وفا کی تصویرو، تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں

اتنے کم نمبر ؟

داؤد تمہارا رزلٹ آگیا؟ کالج میں داؤد کے دوست نعمان عرف نومی نے پوچھا۔ہاں پاس ہو گیا ہوں ، نمبر اچھے نہیں آئے، صرف 425 نمبر آئے ہیں۔

ننھی پری کا بڑا خواب!

پاکستان کے ایک گاؤں میں 12 سالہ بچی آمنہ رہتی تھی۔ آمنہ ایک عام بچی تھی، مگر اس کا دل غیرمعمولی جذبوں سے لبریز تھا، وطن سے محبت، شہیدوں کی عزت اور ایک ایسا خواب جو اس کی عمر سے کہیں بڑا تھا۔

یہ وطن تمہارا ہے

یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے

حرف حرف موتی

٭…اگر بھاگنا ہے تو علم کیلئے بھاگو۔

دوائی

ایک دفعہ مُلّانصیرالدین گدھے پر سوار کہیں جارہے تھے کہ گدھا راستے میں َاڑ گیا۔مُلّا صاحب نے بڑی خوشامد کی، چمکارا پچکارا، مارا پیٹا مگر گدھا ٹَس سے مَس نہ ہوا۔