7 ستمبر:محمد عربیﷺکے دیوانوں کیلئے شادمانی کا دن
7ستمبر1974ء کا دن یادگار اور تاریخی، قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکا گیا
7 ستمبر 1974ء کا دن پاکستان کی تاریخ کا وہ عظیم و مبارک دن ہے جب اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج کر کے غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا، یہ تاریخی فیصلہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی ایک عظیم فتح ہے۔ یہ عظیم دن ہمیں اپنے ان اکابرین کی یاد دلاتا ہے جن کی قربانیاں و جدوجہد رنگ لائیں، اس یادگارو عظیم تحریک کے نتیجے میں اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے عاشقان رسولﷺکی عزت کی لاج رکھتے ہوئے ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالنے والے اس فتنہ قادیانیت کو آئین کے کٹہرے میں کھڑا کر کے غیر مسلم قرار دیا تھا۔ جس دن کی یاد ہر سال منائی جاتی ہے۔7 ستمبر اب ایک قومی دن کی حیثیت اختیار کرچکا ہے، جسے شایان شان طریقے سے منایا یا جاتا ہے۔میڈیا پر آگاہی پروگرام چلائے جاتے ہیں، اخبارات اس دن کی مناسبت سے خاص اشاعت شائع کرتے ہیں جو ایک نیک شگون ہے۔
قادیانی آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ کی من مانی تشریح کر کے چور دروازے سے قصر نبوتﷺ میں داخل ہونے کی جدوجہد کرتے رہے۔ لہٰذاان کے ایمان لیوا حملوں سے اُمت کو بچانے کیلئے علمی طور پر انکا ر کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری تھا کہ ملکی قوانین میں ترمیم کر کے قادیانیوں کوپارلیمنٹ کے ذریعہ غیر مسلم قرار دلوایا جائے اور اس کیلئے باقاعدہ قانون سازی کی جائے۔ اس مقصد عظیم کے پیش نظر 1953ء میں ملک گیر تحریک چلی جس میں تیرہ ہزار مسلمانان پاکستان نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ باوجود اس کے کہ تمام تر حکومتی مشینری قادیانیوں کی آلہ کار بن چکی تھی اور ختم نبوت کے یہ غدار کلیدی عہدوں پر براجمان تھے، لیکن فدایان ختم نبوت نے ایمانی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی قسم کی سپورٹ کی توقع کے بغیر جان ہتھیلی پر رکھ کر اس ارتدادی فتنے کے خلاف آواز اٹھائی،وقتی طور پر تو ان کی آواز کو دبا دیا گیا لیکن اس تحریک کی وجہ سے عشق رسالتﷺ کی جو چنگاری عشاقان مصطفیﷺ کے دلوں میں بھڑک اٹھی تھی بالآخر وہ شعلہ ثابت ہوئی،جس نے اس تحریک کے ٹھیک 21سال بعد 1974ء میں قادیانیت کے خرمن کو جلا کر راکھ کر دیا اورقانون کی کتاب میں انہیں ہمیشہ کیلئے غیر مسلم اقلیت لکھ دیا گیا۔
پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں 7 ستمبر ایک عہد ساز دن ہے، ہم اسے یوم تحفظ ختم نبوتﷺ اور یوم تجدید عہد قرار دیتے ہیں۔ اس روز عقیدہ ختم نبوتﷺ اور ناموس رسالتﷺ کے تحفظ کی طویل ترین جدوجہد، فتح مبین سے ہمکنار ہوئی۔ 7ستمبر1974ء کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا، ماضی کے مختلف ادوار میں کئی بد بخت افراد نے دعویٰ نبوت کرکے مسلمانوں میں افتراق پیدا کرنے ا ور انہیں گمراہ کرنے کی سعی مذموم کی، مگر ہر دور میں اہل ایمان اور حق کے طرف داروں نے ان کیخلاف بھرپور مزاحمت کی، منصب ختم نبوتﷺ کی حفاظت کی اور مسلمانوں کو گمراہی اور ارتداد سے بچایا۔
برصغیر میں فرنگی اقتدار کے خلاف ہندوستان کی تمام اقوام متحد ہوئیں اور سامراج کی غاصب وظالم حکومت کے خلاف ہر محاذ پر جدوجہد کی اور خاص طور پر مسلمانوں نے انگریز کے خلاف بغاوت کو جہاد قرار دیا اور اسے توشۂ آخرت سمجھ کر اس محاذ پر سرگرم رہے۔ قربانی و ایثار سے معمورولبریز مسلمانوں کی جدوجہد تاریخ آزادی میں منفرد و بے مثال ہے، انگریز دانا اور عیار دشمن تھا یہ بات ہمیشہ اس کے پیش نظر رہی کہ ہم نے اقتدار مسلمانوں سے چھینا اور مسلمان ہی ہمارے سب سے بڑے دشمن ہیں علمائِ حق نے نہ صرف انگریز کیخلاف جہاد کا فتویٰ دیا بلکہ اس فریضہ کی ادائیگی کیلئے مسلمانوں کی قیادت بھی کی۔ انگریز نے اسی جذبۂ جہاد کو مسلمانوں کے دل ودماغ سے نکالنے کیلئے جعلی اور جھوٹا نبی پیدا کیا۔ ’’قادیان‘‘ کے ایک شخص مرزا غلام احمد کو دعویٰ نبوت کیلئے آمادہ وتیار کیا اور آخر کار اس بدبخت نے نبوت کا دعویٰ کردیا، مرزا قادیانی نے پہلا کام یہ کیا کہ انگریز کے خلاف جہاد کو حرام قرار دیا۔انگریز کی اطاعت و فرمانبرداری کو ہی اصل ایمان قراردیا۔
یہ لمحہ مسلمانوں کیلئے بڑی آزمائش کا تھا، تب علمائِ حق نے مسلمانوں کا حوصلہ بڑھایا اور اس فتنہ کی سرکوبی کیلئے میدانِ عمل میں آئے، فتنۂ قادیانیت کو انگریز کی مکمل سرپرستی حاصل تھی اور آج بھی ہے یہی وجہ ہے کہ اس فتنے کو کچلنے کیلئے مسلمانوں کے نوے سال لگے۔1929ء سے پہلے فتنۂ قادیانیت کیخلاف جتنی جدوجہد ہوئی وہ انفرادی نوعیت کی تھی، حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ، حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ، حضرت مولانا ثناء اللہ امر تسر ی ؒاور سب سے پہلے علماء لدھیانہ نے علمی محاذ پر اپنی زبان و قلم سے فتنہ قادیانیت کے تار و پود بکھیر کر رکھ دیے انہی علماء حق کی انفرادی محنت آگے چل کر اجتماعی جدوجہد میں تبدیل ہوئی۔
قیامِ پاکستان، مرزائیوں کیلئے سب سے بڑا سانحہ اور صدمہ تھا۔تقسیم ہند کے وقت باؤنڈری کمیشن میں مسلم لیگ کے قادیانی نمائندہ سر ظفر اللہ خان آنجہانی نے بھرپور وار کیا اور پٹھانکوٹ، فیروز پور، گورداس پور، قادیان اور آدھے کشمیر کو پاکستان میں شامل نہ ہونے دیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد اس وقت کے گورنر پنجاب سر فرانسس موڈی نے چنیوٹ کے قریب متصل دریائے چناب کے کنارے ایک پوری بستی اپنے اس چہیتے اور پالتو بچے کے نام الاٹ کر دی، جو آج چناب نگر (ربوہ) کے نام سے معروف ہے۔ یہاں قادیانیوں نے اپنا ہیڈ کوارٹر اور بیس کیمپ بنایا اور پاکستان کیخلاف سازشیں شروع کر دیں۔ مرزا بشیر الدین نے پاکستان کے اقتدار پر قبضہ کا پروگرام بنایا اور بلوچستان کو ’’احمدی سٹیٹ‘‘ بنانے کی منظم منصوبہ بندی مکمل کی۔ سر ظفر اللہ (قادیانی) وزیر خارجہ تھا اس نے نہ صرف داخلی محاذ پر قادیانیوں سے مکمل تعاون کیا بلکہ خارجی محاذ پر بھی مکمل سیاسی تحفظات فراہم کیے۔
امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ کی قیادت و سیادت میں زور دار تحریک چلی مگر وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی لیگی حکومت نے گولی کے زور پر تحریک کو کچلنے کی کوشش کی، جنرل اعظم خان نے 6 مارچ 1953ء کو جنرل ایوب خان کی ہدایت پرلاہور میں پہلا مارشل لاء لگا کر ہزاروں فدایان ختم نبوت کے سینے گولیوں سے چھلنی کردیے بظاہر تحریک کو تشدد کے ذریعے کچل دیا گیا مگرمسلمانوں کے دلوں میں ہمیشہ کیلئے ایک جوش، ولولہ اور جذبہ بیدار کر گیا۔امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا ابوا لحسناتؒ ، مولانا احمد علی لاہوریؒ، مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا لال حسین اخترؒ، مولانا محمد حیاتؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، شیخ حسام الدینؒ، ماسٹر تاج الدین انصاریؒ، مولانا سید ابوذر بخاریؒ اور دیگر علماء و قائدین نے تمام صعوبتوں کو برداشت کر کے تحفظ ختم نبوتﷺ کی جدوجہد کو جاری رکھا۔
29مئی1974ء میں قادیانیوں نے پھر سر اٹھایا، ربوہ ریلوے سٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے مسافر طلباء پر حملہ کر کے انہیں زدو کوب کیا۔ یہ حادثہ شعلہ جوالہ بن گیا اور پورا ملک تحریک تحفظ ختم نبوتﷺ کا میدان بن گیا۔ تحریک اتنی شدید اور طاقتورتھی کہ اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اس مسئلہ کو قومی اسمبلی میں حل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسمبلی سے باہر کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوتﷺ کے مرکزی رہنماؤں نے قدم بہ قدم شب و روز ایک کر کے تحریک کو بامِ عروج پر پہنچایااور علماء نے آئینی جنگ کر کے تحریک کا مقدمہ جیت لیا۔آخر 7 ستمبر 1974 ء کو ذوالفقار علی بھٹو نے قومی اسمبلی کے تاریخی فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا اور یہ فیصلہ ایک ترمیم کے ذریعے پاکستان کے آئین کا حصہ بنا۔ آج اس آئینی فیصلے کو52 برس بیت گئے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments