ذرا مسکرائیے
بزرگ: ذہین بیٹے یہ بتاؤ تم بڑے ہو کر اپنی امی پر جاؤ گے یا ابو پر؟ذہین: اُف اوہ،بڑا ہو کر میں نہ امی پر جاؤں گا نہ ابو پر بلکہ کار پر جاؤں گا۔٭٭٭
ایک ملازم کو تنخواہ ملی تو اس نے سوچا بیوی کے حوالے کرنے سے پہلے کم ازکم رقم تو گن لیں۔ جب اس نے رقم گنی تو اس میں ایک ہزار روپے زیادہ تھے۔
وہ فوراً کیشئر کے پاس پہنچا اور بولا آپ نے غلطی سے ہزار روپے زیادہ دے دئیے ہیں۔
کیشئر نے رقم گنی او رکہا رقم بالکل ٹھیک ہے۔
بات دراصل یہ ہے کہ آپ کی تنخواہ میں گزشتہ تین مہینوں سے ایک ہزار روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔
وہ شخص حیرانگی سے بولا: کمال ہے یار، میری بیوی نے تو مجھے بتایا ہی نہیں۔
٭٭٭
ایک شخص دوسرے سے: یہ بچہ تمہارا کیا لگتا ہے؟
دوسرا شخص : یہ میرا دور کا سگا بھائی ہے۔
پہلا شخص : وہ کیسے ؟
دوسرا شخص: کیونکہ اس میں اور مجھ میں آٹھ بہن بھائیوں کا فاصلہ ہے۔
٭٭٭
استا د بچوں سے یہ بتاؤ تارے دن میں کیوں نہیں نظر آتے؟
ایک بچہ جلدی سے کھڑا ہوکر بولا سر وہ سورج کے راستے میں ٹانگ نہیں اڑانا چاہتے۔
٭٭٭
باپ: بیٹامیرے لئے ایک گلاس پانی لانا۔
ایک بیٹا: سوری ابومیں گیم کھیل رہاہوں،میں نہیں لاسکتا
دوسرابیٹا: ابویہ توہے ہی بدتمیز،جائیں آپ خودجاکرپی لیں۔
٭٭٭
استاد بچے سے: تم نے سبق کیوں یاد نہیں کیا؟
بچہ: سر لائٹ چلی گئی تھی۔
استاد: جب لائٹ آئی تھی تو دوبارہ کر لیتے۔
بچہ: میں اس ڈر سے نہیں بیٹھا کہ کہیں لائٹ دوبارہ نہ چلی جائے۔
٭٭٭
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments