پہیلیاں
دو چڑیاں رکھتی ہیں پر،کبھی نہ چھوڑیں اپنا گھر
(آنکھیں)
اک ڈبے میں میٹھے دانے
جب کھولا تو پڑے چبانے
(انار)
رہتی ہے وہ ڈھیلی ڈھالی
اور کبھی تن جانے والی
تن کر اپن زور دکھائے
روڑے اور پتھر برسائے
(غلیل)
گلا تو ہے سر ساتھ نہیں
بازو ہیں کوئی ہاتھ نہیں ہے
(قمیض)
چٹے پتھر تڑ تڑ برسے
ہر اک بھاگا ان کے ڈر سے
( اولے)
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments