گیندا:باغیچوں کی رونق

تحریر : روزنامہ دنیا


گیندا ایک ایسا خوب صورت اور رنگا رنگ پھول ہے جو اپنے شوخ رنگوں، دلکش ساخت اور خوش نما انداز کے باعث باغیچوں، گھروں اور پارکوں کی رونق بڑھاتا ہے۔

گیندے کے پھول کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں جن کے رنگ زرد، سنہری، نارنجی اور بعض اوقات سرخی مائل ہوتے ہیں۔ اس کی گول اور گھنی پنکھڑیاں اسے منفرد حسن عطا کرتی ہیں۔ گیندے کا پودا نسبتاً آسانی سے اگ آتا ہے اور اسے زیادہ پیچیدہ نگہداشت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مناسب دھوپ اورپانی اسے صحت مند رکھنے کیلئے کافی ہیں۔ اسی وجہ سے گھریلو باغبانی کے شوقین افراد بھی اسے بڑی تعداد میں اگاتے ہیں۔

گیندے کے پھول کی ایک نمایاں خصوصیت اس کی دیرپا تازگی ہے۔ اس کے پھول کئی دن تک اپنی خوبصورتی برقرار رکھتے ہیں، اسی لیے شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں ان کے ہار اور لڑیاں بنائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ گیندے کی بعض اقسام سے قدرتی رنگ بھی حاصل کیے جاتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

غرور کا انجام

شاداب نگر کے خوبصورت اور بڑے سے بنگلے میں سفینہ نامی چھوٹی لڑکی رہتی تھی۔ سفینہ دیکھنے میں تو پھول کی طرح پیاری تھی مگر اس کے مزاج میں حد سے زیادہ غرور تھا۔

قائداعظم کی نصیحت

ببلو گھر کا لاڈلا اور سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے ضدی بھی تھا اور شرارتی بھی۔اس نے اپنی شرارتوں کی وجہ سے صرف گھر والوں کے ناک میں دم نہیں کر رکھا تھا بلکہ سکول میں کلاس فیلوز اور محلے کے سب لڑکے اس سے تنگ تھے۔

تیرے خیال سے ہے دل شادماں ہمارا

تیرے خیال سے ہے دل شادماں ہمارا،تازہ ہے جاں ہماری دِل ہے جواں ہمارا

پرندے نقل مکانی کیوں کرتے ہیں؟

دنیا کے بہت سے خطوں میں موسم سرما نہایت شدید ہوتاہے اور اس موسم میں وہاں خوراک اورپانی ناپید ہو جاتے ہیں۔

ذرا مسکرائیے

بزرگ: ذہین بیٹے یہ بتاؤ تم بڑے ہو کر اپنی امی پر جاؤ گے یا ابو پر؟ذہین: اُف اوہ،بڑا ہو کر میں نہ امی پر جاؤں گا نہ ابو پر بلکہ کار پر جاؤں گا۔٭٭٭

پہیلیاں

دو چڑیاں رکھتی ہیں پر،کبھی نہ چھوڑیں اپنا گھر