نئے صوبوں کی بحث، قومی مفاہمت کی ضرورت

تحریر : طلحہ ہاشمی


ملک میں نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں، رہنماؤں اور ماہرین کی جانب سے بحث و مباحثہ جاری ہے۔یہ کہا جارہا ہے کہ جب ملک کی آبادی آٹھ کروڑ تھی تب بھی چار صوبے اور آج 25کروڑ کی آبادی میں بھی چارہی، اس سے انتظامی امور چلانا ناممکن ہو چکا ہے۔

 وسائل کی منصفانہ تقسیم کریں، اختیارات منتقل کریں، یہ وقت کی ضرورت ہے اور ملک کی ترقی کے لیے اہم بھی۔ اسی حوالے سے چند روز قبل ایک مباحثہ ہوا جس میں شرکا نے اسی نوعیت کے خیالات کا اظہار کیا۔ ایم کیو ایم کے مصطفی کمال نے بھی مباحثے میں شرکت کی، اُن کا کہنا تھا کہ اگر مخالفت کرنے والوں کا پیسہ روک دیا جائے تو وہ نئے یونٹس کی مخالفت نہیں کریں گے۔سیاسی جماعتوں کی طرف سے اپنے اپنے مؤقف کے حوالے سے نیوز کانفرنسز کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ نیوز کانفرنس میں خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس اور صوبے ناگزیر ہیں، اس حوالے سے تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے بات چیت کرکے بڑے قومی ڈائیلاگ کا آغاز کیا جائے گا۔ بقول خالد مقبول صدیقی، موجودہ صوبے لسانی بنیاد پر بنائے گئے اور یہ قانونی تقاضوں پر پورا نہیں اترتے۔ صوبے نہ بننے کی وجہ سے پیدا ہونے والے اثرات پر بھی بات کرنی چاہیے۔

سیاسی جماعتیں اختلافات ایک طرف رکھیں، قومی ڈائیلاگ کریں۔ متحدہ قومی موومنٹ کی رائے پر سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ جان بوجھ کر اشتعال انگیزی والی باتیں کی جارہی ہیں، ایوان میں عوام کے منتخب کردہ نمائندے موجود ہیں، صوبے بننے کے حوالے سے بھی آئین میں واضح لائحہ عمل موجود ہے، معاملے کو غیرضروری بحث یا تنازع کا حصہ نہ بنایا جائے، صوبوں سے متعلق پہلے بھی قوانین پاس ہوئے، ضرورت پڑی تو مزید قانون سازی بھی ہوسکتی ہے،اسمبلی میں معاملہ پیش کیا جاسکتا ہے۔ ناصر شاہ نے کہا کہ ایم کیو ایم مایوسی اور سیاسی تنہائی کا شکار ہے۔

نئے صوبوں پر بحث تو جاری رہے گی لیکن اس وقت عوام کو روزانہ کی بنیاد پر ایک اور مسئلے کا سامنا ہے اور وہ ہے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ، جس کی وجہ سے گاڑیوں کا کرایہ بڑھ جاتا ہے، سبزی سمیت دیگر اشیا کی ترسیل مہنگی ہونے کی وجہ سے دکاندار قیمت بڑھا دیتے ہیں۔ تنخواہ دار کی آمدن وہی پرانی ہے، مزدور کا چولھا جلنے کے قابل نہیں رہا اور حکومت اپنا کام کیے جارہی ہے، یعنی قیمت میں اضافہ۔جماعت اسلامی نے پٹرول کی قیمت کم کرانے کے لیے کئی شہروں میں دھرنا دے رکھا ہے، کراچی میں گورنر ہاؤس کے باہر دھرنا دیا گیاہے۔ ان کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ پٹرول پر لیوی بھتہ ہے اسے فوری ختم کیا جائے۔ دھرنے میں نیوز کانفرنس سے خطاب میں جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر نے کہا کہ مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ بجلی کے بلوں کی ادائیگی مشکل ہوگئی ہے، تعلیمی نظام تباہ ہوچکا ہے، گھوسٹ سکولوں کی بھرمار ہے۔ ایسے میں لیوی کا بوجھ بھی عوام پر ڈال دیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے الیکٹرک کو اربوں کی سبسڈی دے رہی ہے جبکہ یہ ادارہ عوام کو بجلی فراہم کرنے میں ناکام ہے جو اس کا بنیادی کام ہے۔ حکومت عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھنے پر اضافہ تو فوری کردیتی ہے لیکن کمی ہو تو وہ عوام تک منتقل نہیں کی جاتی۔

اب کچھ میر رضا کیس کے بارے میں جو ہر گزرتے دن کے ساتھ پیچیدہ تر ہوتا جارہا ہے۔ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو کہ کوئی نئی بات سامنے نہ آتی ہو۔ یہ تحریر چھپنے تک بھی شاید بہت کچھ نیا آچکا ہو۔میر رضا کی قبر کشائی کے بعد حاصل کر دہ نمونوں کی رپورٹ بھی سامنے آچکی ہے جس میں مقتول کے دونوں ہاتھوں، سینے اور کمر پر گولی چلنے کے بعد نکلنے والے بارودی ذرات پائے گئے۔ پولیس نے شبہ ظاہر کیا کہ شایدمقتول نے اپنے دفاع میں گولی چلائی جس کی وجہ سے اس کے ہاتھوں پر ذرات آئے لیکن جس پستول سے گولی چلائی وہ کہاں ہے؟ جائے وقوع کی ایک نئی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی ہے۔ دوگھنٹے سے زیادہ کی فوٹیج 28اور 29جولائی کی درمیانی شب ساڑھے 3بجے کے بعد کی ہے جس میں سب سے پہلے لاش ملنے کے مقام کے آس پاس دو موٹرسائیکلیں نظر آتی ہیں، اسی مقام پر مشکوک شخص کو ٹہلتے ہوئے پایا گیا، حتیٰ کہ پولیس موبائل بھی فوٹیج کا حصہ ہے جو لاش ملنے کے مقام سے کچھ ہی دور تھی۔ اس موبائل کو کئی بار اسی مقام کے اطراف دیکھا جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ موٹرسائیکلوں پر کون لوگ سوار تھے؟ وہ کون تھا جو اتنی رات کو وہاں ٹہل رہا تھا؟ بار بار پولیس موبائل کا آنا شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ اس رات یا ایک دن پہلے وہاں ایسا کیا ہوا کہ موٹرسائیکل سوار، پیدل اور پولیس موبائل سب موجود تھے؟ الگ الگ وقت میں تھے لیکن وہاں پر ہی کیا کر رہے تھے؟ کیا اس سی سی ٹی وی فوٹیج کا ابھی تک جائزہ نہیں لیا گیا اور اگر جائزہ لیا گیا ہے تو کیا موٹرسائیکل سواروں کا پتہ چلا؟ ٹہلنے والا کون تھا؟ موبائل وہاں کیا کر رہی تھی؟ موبائل میں کون کون سوار تھا؟ کیا صرف پولیس موجود تھی یا کوئی اور بھی تھا؟ یہ ’ کوئی اور بھی‘ والا سوال مسلسل گردش میں ہے۔ اس سارے قضیے کا راز شاید اسی’’ کوئی اور بھی‘‘ والی شخصیت میں ہے۔ یکھتے ہیں اگر واقعی کوئی ہے تو کیا وہ سامنے آئے گا یا پردے کے پیچھے تھا اور وہیں رہ جائے گا۔ یا پھر یہ والا قصہ کہانی کے سوا کچھ نہیں، لیکن یہ حقیقت صرف شفاف اور ٹھوس تحقیقات سے ہی سامنے آسکے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

ہواؤں کا رخ بدلنے لگا ہے؟

ملکی سیاست میں ایک بھونچال آ چکا ہے۔ سیاسی درجہ حرارت میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کو تین برس جیل کاٹنے کے بعد ہسپتال منتقلی کا بڑا ریلیف مل چکا ہے۔

ڈیڈلاک کی جگہ ڈائیلاگ۔۔۔ ؟

سیاسی محاذ پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک کے خاتمہ کے ساتھ ڈائیلاگ کا سلسلہ شروع ہوا ہے تو دوسری طرف پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو سپریم کورٹ سے طبی بنیادوں پر ملنے والا ریلیف بھی غیر معمولی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سیاسی جمود توڑنے کا وقت

بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا عدالتی فیصلہ خوش آئند ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ ہفتے انہی سطورمیں کہاگیاتھا کہ 27ستمبر کی ڈید لائن دینے کا مقصد یہی ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کیلئے کچھ دروازے کھلے ہوئے ہیں اوریہ بات اب درست ثابت ہورہی ہے۔

امن کا قیام سب سے بڑا چیلنج!

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران شاید ہی کوئی ایسا دن گزرا ہو جب بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف کسی بڑے آپریشن، دھماکے، فائرنگ، اغوا، تخریب کاری یا سکیورٹی کے واقعے کی خبریں نہ آئی ہوں۔

آزاد کشمیر میں حکومت سازی کی تیاریاں !

مسلم لیگ (ن) نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے تیسرے مرحلے میں شرقی باغ سے میر اکبر کی نشست جیت کر اپنی برتری برقرار رکھتے ہوئے 25 نشستیں حاصل کر لی ہیں۔

دوسروں سے موازنہ چھوڑیں اپنے حال میں جینا سیکھیں

آج کے دور میں دوسروں سے اپنا موازنہ کرنا ایک عام ذہنی عادت بن چکی ہے، خاص طور پر خواتین میں۔ سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید بڑھا دیا ہے۔