سبز پرچم سے سبز درخت تک!

تحریر : اختر سردار چودھری


شہرکے ایک محلے میں دو دوست جنید اور جہانزیب رہتے تھے۔دونوں آٹھویں جماعت کے ذہین اور سمجھدار طالب علم تھے۔

 انہیں ہر سال 14 اگست کا شدت سے انتظار رہتا تھا۔ وہ بھی دوسرے بچوں کی طرح سبزجھنڈیاں خریدتے، اپنی سائیکلوں اور گھروں پر لگاتے اور خوشیاں مناتے۔مگر پچھلے سال ایک عجیب بات نے دونوں دوستوں کو بہت پریشان کیا۔15 اگست کی صبح جب جنید اپنے ابو کے ساتھ مسجد جا رہا تھا تو اس نے دیکھا کہ گلی میں جگہ جگہ کاغذ کے سبز ہلالی پرچم گرے ہوئے تھے۔ کچھ نالیوں میں پڑے تھے، کچھ لوگوں کے پاؤں تلے روندے جا رہے تھے اور کچھ بارش سے خراب ہو چکے تھے۔

جنید رک گیا، اس کی آنکھوں میں اُداسی آ گئی،اس نے اپنے ابو سے کہا:ابویہ تو ہمارے پاکستان کا پرچم ہے،لوگ اسے اس طرح زمین پر کیوں پھینک دیتے ہیں؟

ابو نے گہری سانس لی اور بولے:بیٹا! لوگ خوشی تو مناتے ہیں، مگر جذبات میں احترام بھول جاتے ہیں۔ لاکھوں روپے کی جھنڈیاںخریدی جاتی ہیں اور اگلے دن وہ کوڑے میں چلی جاتی ہیں۔ یہ بات جنید کے دل میں اتر گئی۔اسی شام جنید ، جہانزیب کے گھر گیا۔ دونوں چھت پر بیٹھے ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

جنید بولا:جہانزیب! اگر اس بار ہم کچھ نیا اور مختلف کریں تو؟۔کیا مطلب؟جہانزیب نے حیرت سے پوچھا۔ہم اس بار کاغذی پرچم کے بجائے درخت لگائیں گے۔

جہانزیب کی آنکھیں چمک اُٹھیں۔واہ! یہ تو زبردست آئیڈیا ہے۔دونوں دوست فوراً جوش میں آ گئے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس بار 14اگست پر اپنی گلی کو سبز جھنڈیوں کے بجائے سبز درختوں سے سجائیں گے۔اگلے دن دونوں اپنے اپنے ابو کے ساتھ نرسری گئے۔ وہاں آم، نیم، جامن، گل مہر اور شہتوت کے ننھے ننھے پودے قطار میں رکھے تھے۔

جہانزیب کے ابو نے کہا:بیٹا! درخت صرف خوبصورتی نہیں دیتے، یہ ہمیں آکسیجن دیتے ہیں، گرمی کم کرتے ہیں، پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور ماحول کو صاف رکھتے ہیں۔

جنید نے مسکرا کر کہا:پھر تو ایک درخت ہزار جھنڈیوں سے زیادہ قیمتی ہوا۔سب ہنس پڑے۔

اب منصوبہ بن چکا تھا، مگر کام آسان نہیں تھا۔ گلی کے کچھ بچے ان کا مذاق اڑانے لگے۔او بھائی!14 اگست پر درخت کون لگاتا ہے؟، جھنڈیاں لگاؤ، مزہ آئے گا۔

 جنید اور جہانزیب نے اپنے تین دوستوں حذیفہ، اذان اور فاطمہ کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا۔ پانچوں بچوں نے مل کر پورے محلے میں اپنے اس انوکھے منصوبے کے حوالے سے ایک چھوٹی سی آگاہی مہم شروع کر دی۔انہوں نے چارٹ پیپر پر خوبصورت نعرے لکھے: ’’ایک درخت، پاکستان کے نام‘‘،’’سبز پرچم کا مطلب، سبز پاکستان‘‘، ’’درخت لگاؤ، وطن سجاؤ‘‘۔

بچوں نے گھر گھر جا کر لوگوں کوبتاناشروع کیا۔فاطمہ نے ایک آنٹی سے کہا:آنٹی! اگر ہم ہر سال صرف کاغذی جھنڈیاں خریدیں گے تو اگلے دن وہ ضائع ہو جائیں گی، مگر ایک درخت سالوں تک ہم کوفائدہ دے گا۔

آہستہ آہستہ پورے محلے میں اس درخت لگائو مہم کی بات پھیل گئی۔ کچھ لوگوں نے پودے خرید کر دیے، کچھ نے روزانہ پانی دینے کی ذمہ داری قبول کر لی اور کچھ نے گلیوں کی صفائی شروع کر دی۔ 13 اگست کی شام پورا محلہ ایک خوبصورت باغ کا منظر پیش کر رہا تھا۔ ہر گلی میں ننھے ننھے پودے لگ چکے تھے۔ کہیں نیم کا پودا تھا، کہیں گل مہر، کہیں امرود اور کہیں سایہ دار درخت۔

بچوں نے ہر پودے کے ساتھ ایک چھوٹا سا بورڈ بھی لگایاجس پر لکھا تھا : ’’یہ درخت پاکستان کے روشن مستقبل کے نام‘‘۔

14 اگست کی صبح جب سورج نکلا تو ٹھنڈی ہوا پودوں کے پتوں سے ٹکرا کر ایک عجیب سی خوشبو پھیلا رہی تھی۔ بچے خوبصورت رنگ برنگے سبز کپڑے پہنے خوشی سے نعرے لگا رہے تھے: 

’’پاکستان زندہ باد‘‘

’’سبز پاکستان، مضبوط پاکستان‘‘

محلے کے لوگ حیرت اور خوشی سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ اس بار گلیاں صرف جھنڈیوں سے نہیں بلکہ زندہ، سرسبز پودوں سے سجی ہوئی تھیں۔جنید کے ابو نے سب بچوں کو جمع کیا اور کہا:پیارے بچو! تم سب نے آج ثابت کر دیا کہ اصل ِ وطن سے محبت صرف نعرے لگانے سے نہیں بلکہ ملک کو خوبصورت بنانے سے ہوتی ہے۔

جہانزیب نے مسکرا کر کہا:اور جب یہ درخت بڑے ہوں گے تو یہ ہمیں سایہ بھی دیں گے، پھل بھی دیں گے اور پاکستان کو ٹھنڈا اور خوبصورت بھی بنائیں گے۔

سب بچوں نے خوشی سے تالیاں بجائیں۔ شام کو محلے میں ایک چھوٹی سی تقریب ہوئی۔ لوگوں نے بچوں کی تعریف کی اور اعلان کیا کہ اب ہر سال 14 اگست پر سب کم از کم ایک ایک درخت ضرور لگائیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

اپنا گھر

شکیل کے کمرے میں بکھرے ہوئے کپڑے، کھلا ہوا سوٹ کیس اور میز پر دھرا پاسپورٹ اس کے پختہ ارادے کو ظاہر کر رہا تھا۔ وہ اپنے ابو کے سامنے کھڑا، جذبات سے مغلوب آواز میں اپنا حتمی فیصلہ سنا رہا تھا۔

طوطا: ذہانت،قدرت کا ذہین اور رنگین شاہکار

طوطا دنیا کے خوبصورت اور ذہین پرندوں میں شمار ہوتا ہے۔

دیس ہمارا پاکستان

دیس ہمارا ہم کو پیارا،ہم سب کی آنکھوں کا تارا

نصیحت آموز باتیں

٭…اپنے وعدوں کی پاسداری کریں۔٭…انصاف پسند بنیں۔

ذرا مسکرائیے

باپ بیٹے کو فیس دیتے ہوئے:بیٹا! زیادہ پڑھا کرو کیونکہ تمہاری تعلیم پر ہمارا بہت سا پیسہ خرچ ہو رہا ہے۔

پہیلیاں

کالے کو جب تائو آئے دیکھو اس کا کام،سر پر وہ گوری کو نچائے صبح ہو یا شام