آزاد کشمیر میں حکومت سازی کی تیاریاں !

تحریر : محمد اسلم میر


مسلم لیگ (ن) نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے تیسرے مرحلے میں شرقی باغ سے میر اکبر کی نشست جیت کر اپنی برتری برقرار رکھتے ہوئے 25 نشستیں حاصل کر لی ہیں۔

جبکہ ضیا القمر نے وسطی باغ سے الیکشن جیت کر پیپلز پارٹی کی نشستوں کو 12 تک پہنچا دیا جبکہ عوامی دست و بازو کے منتخب رکن قانون ساز اسمبلی ساجد اقبال عباسی نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحاد کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے اراکین قانون اسمبلی کی تعداد 26 ہو جائے گی۔24 اگست کو خواتین کی پانچ مخصوص نشستوں میں سے تین مسلم لیگ (ن) اور دو نشستیں پیپلز پارٹی کو ملیں گی۔ مسلم لیگ (ن) نے علما و مشائخ کی نشست کے لیے مولانا مظہر سعید شاہ کو نامزد کر دیا ہے جبکہ سمندر پار مقیم کشمیریوں کی مخصوص نشست کے لیے عبدالرحمن آرائیں اور ٹیکنوکریٹ کی نشست کے لیے محسن عزیز اور شاداب سکندر کا نام لیا جا رہا ہے۔مسلم لیگ (ن) میں ٹیکنوکریٹ کی نشست کے ٹکٹ کے لیے حالیہ انتخابات میں اپنے اپنے انتخابی حلقوں میں الیکشن ہارنے والے متعدد امیدواروں نے مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کی مرکزی قیادت سے ہٹ کر بالا بالا مسلم لیگ (ن) کی مرکزی لیڈر شپ کے ساتھ ذاتی روابط استعمال کرنے کی کوشش کی جس پر انہیں پذیرائی نہ مل سکی۔مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کا یہ فیصلہ دانش مندانہ ہے کہ آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات میں جو ٹکٹ ہولڈرز الیکشن ہار گئے ہیں اخلاقی طور پر انہیں جماعت سے ٹیکنوکریٹ کی نشست کے لیے ٹکٹ نہیں مانگنا چاہیے اور نہ ہی مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کی جانب سے انہیں ٹکٹ جاری کرنا چاہیے۔

آزاد جموں و کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کے بعد ٹکٹ ہولڈرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے واضح کیا کہ مسلم لیگ (ن) میں نظریاتی کارکن کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا اور اس کا بہترین موقع یہی ہے کہ قانون ساز اسمبلی میں خواتین کی مخصوص اور ٹیکنوکریٹ کی نشستوں پر نظریاتی مخلص اور آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کے قیام سے قبل موجود لیگی کارکنوں کو موقع دیا جائے۔میاں محمد نواز شریف نے خواتین کی مخصوص نشستوں کی امیدواروں سے خود مری میں انٹرویوز لیے۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے پارٹی ڈسپلن کو برقرار رکھتے ہوئے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ جس طرح 2016ء میں اس وقت کے مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر راجہ فاروق حیدر کو وزیراعظم نامزد کیا گیا تھا اسی طرح اس بار بھی جماعتی پالیسی کے مطابق جماعت کے صدر شاہ غلام قادر وزیراعظم ہوں گے۔شاہ غلام قادر ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں جن کا تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط پارلیمانی اور انتخابی سیاست کا تجربہ ہے۔وہ سات مرتبہ رکن قانون ساز اسمبلی، دو مرتبہ سپیکر اورمتعدد بار وزیر رہ چکے ہیں۔ ان کا شمار آزاد کشمیر کے منجھے ہوئے پارلیمانی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے مسلم کانفرنس سے سیاسی سفر شروع کیا تھا اور مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے بانی رہنماؤں میں شامل رہے۔

شاہ غلام قادر وزیر خزانہ، منصوبہ بندی و ترقیات، خوراک اور اطلاعات کے قلمدان سنبھال چکے ہیں جبکہ 2006ء اور 2016ء میں آزاد کشمیر اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوئے اورپارلیمانی روایات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ شاہ غلام قادر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور انسانی حقوق کونسل سمیت عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر متعدد بار اجاگر کیا۔مقبوضہ وادی کشمیر کے مہاجرینِ مقیم پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے حقِ خودارادیت اور کشمیر کاز کے لیے بھی آواز بلند کرتے رہے۔ شاہ غلام قادر کا سیاسی فلسفہ کشمیر کا پاکستان سے الحاق، آئینی جمہوریت، پارلیمانی بالادستی اور ادارہ جاتی استحکام پر مبنی ہے۔

مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کی تنظیمِ نو اور انتخابی تیاریوں میں شاہ غلام قادر کا اہم کردار رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے مری اجلاس میں نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کی سینئر قیادت کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد شاہ غلام قادر کے نام کو بطور وزیراعظم حتمی شکل دے دی۔شاہ غلام قادر کو آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں کل جماعتی حریت کانفرنس سمیت مختلف سیاسی حلقوں سے روابط کی وجہ سے بھی نمایاں مقام حاصل ہے۔ میاں نواز شریف کی طرف سے شاہ غلام قادر کو بطور وزیراعظم نامزد کرنے کے حوالے سے مقبوضہ جموں و کشمیر بالخصوص سری نگر میں اس فیصلے سے ایک اچھا پیغام جائے گاکیونکہ ان کے آباؤ اجداد وادی کشمیر سے پاکستان آ کر آباد ہوئے تھے۔یہ آزاد جموں و کشمیر کے واحد لیڈر ہیں جو ریاست جموں و کشمیر کی 65 فیصد آبادی کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ’کشمیری ‘ بھی بولتے ہیں اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے پرائیویٹ سیکرٹری اور سابق صدر آزاد جموں و کشمیر خورشید حسن خورشید (کے ایچ خورشید)کے بعد دوسرے لیڈر ہوں گے جو ریاست جموں و کشمیر کی 65 فیصد آبادی اور زبان بولنے والے سب سے بڑے کشمیری قبیلے اور برادری کے نمائندے ہوں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

ہواؤں کا رخ بدلنے لگا ہے؟

ملکی سیاست میں ایک بھونچال آ چکا ہے۔ سیاسی درجہ حرارت میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کو تین برس جیل کاٹنے کے بعد ہسپتال منتقلی کا بڑا ریلیف مل چکا ہے۔

ڈیڈلاک کی جگہ ڈائیلاگ۔۔۔ ؟

سیاسی محاذ پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک کے خاتمہ کے ساتھ ڈائیلاگ کا سلسلہ شروع ہوا ہے تو دوسری طرف پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو سپریم کورٹ سے طبی بنیادوں پر ملنے والا ریلیف بھی غیر معمولی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

نئے صوبوں کی بحث، قومی مفاہمت کی ضرورت

ملک میں نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں، رہنماؤں اور ماہرین کی جانب سے بحث و مباحثہ جاری ہے۔یہ کہا جارہا ہے کہ جب ملک کی آبادی آٹھ کروڑ تھی تب بھی چار صوبے اور آج 25کروڑ کی آبادی میں بھی چارہی، اس سے انتظامی امور چلانا ناممکن ہو چکا ہے۔

سیاسی جمود توڑنے کا وقت

بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا عدالتی فیصلہ خوش آئند ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ ہفتے انہی سطورمیں کہاگیاتھا کہ 27ستمبر کی ڈید لائن دینے کا مقصد یہی ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کیلئے کچھ دروازے کھلے ہوئے ہیں اوریہ بات اب درست ثابت ہورہی ہے۔

امن کا قیام سب سے بڑا چیلنج!

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران شاید ہی کوئی ایسا دن گزرا ہو جب بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف کسی بڑے آپریشن، دھماکے، فائرنگ، اغوا، تخریب کاری یا سکیورٹی کے واقعے کی خبریں نہ آئی ہوں۔

دوسروں سے موازنہ چھوڑیں اپنے حال میں جینا سیکھیں

آج کے دور میں دوسروں سے اپنا موازنہ کرنا ایک عام ذہنی عادت بن چکی ہے، خاص طور پر خواتین میں۔ سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید بڑھا دیا ہے۔